ٹک ٹاکر ثناء یوسف قتل کیس: ملزم عمر حیات کو سزائے موت سنا دی

ٹک ٹاکر ثناء یوسف قتل کیس: ملزم عمر حیات کو سزائے موت سنا دی

یوتھ ویژن نیوز : (اسلام آباد) – اسلام آباد کی ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ نے ٹک ٹاکر ثناء یوسف کے قتل کے مقدمے میں ملزم عمر حیات کو سزائے موت سنا دی۔

ایڈیشنل سیشن جج افضل مجوکہ نے فیصلہ سناتے ہوئے ملزم کو ڈکیتی اور گھر میں گھسنے کی دفعات سمیت تین مختلف دفعات کے تحت مجموعی طور پر 20 سال قید اور 24 لاکھ روپے جرمانے کی بھی سزا سنائی۔

عدالت کا فیصلہ اور سزائیں

ایڈیشنل سیشن جج افضل مجوکہ نے ملزم عمر حیات کو قتل کے جرم میں سزائے موت سنائی۔ اس کے علاوہ ملزم کو:

  • ڈکیتی کی دفعات کے تحت 10 سال قید
  • گھر میں گھسنے کی دفعات کے تحت 10 سال قید
  • مجموعی طور پر 20 سال قید اور 24 لاکھ روپے جرمانہ

عدالت نے یہ فیصلہ 19 مئی 2026 کو سنایا۔ فیصلے میں کہا گیا کہ ملزم نے ٹک ٹاکر ثناء یوسف کو ان کے ہی گھر میں قتل کیا، جو سفاکانہ اور ناقابل معافی جرم ہے۔

ثبوت اور عدالتی کارروائی

عدالت میں ملزم کے کال ریکارڈز اور چیٹ کے اسکرین شاٹس بطور ثبوت پیش کیے گئے۔ سماعت کے دوران مدعی کے وکیل نے عدالت سے ملزم کو دو بار سزائے موت دینے کی استدعا کی۔

جج نے استفسار کیا کہ دورانِ تفتیش ثناء یوسف کے فون سے ‘کاکا’ کے نام سے ایک نمبر سامنے آیا تھا، اور موبائل فارنزک کے بعد وہ نمبر ملزم کا نکلا۔ اس پر عمر حیات نے کہا کہ وہ اپنے وکیل کے بغیر جواب نہیں دے سکتا۔

ملزم اور دفاعی وکیل کا موقف

دوسری جانب ملزم کے وکیل نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ عمر حیات نے اسٹیٹ کونسل اور ٹرائل کورٹ پر عدم اعتماد کا اظہار کیا تھا، اور دو درخواستیں اسلام آباد ہائی کورٹ میں زیر التواء ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر پہلے سے طے کر لیا گیا ہے کہ ملزم کو سزائے موت دینی ہے تو یہ زیادتی ہوگی۔

گزشتہ روز عدالت میں پیش ہوتے ہوئے ملزم عمر حیات نے صحتِ جرم سے انکار کر دیا تھا اور کہا تھا کہ اس نے ثناء یوسف کو قتل کرنے کا کوئی اعتراف یا انکشاف نہیں کیا، اور نہ ہی اس کا ثناء سے کوئی رابطہ تھا۔

کیس کا پس منظر

ٹک ٹاکر ثناء یوسف کو 2 جون 2025ء کو اسلام آباد میں ان کے گھر کے اندر قتل کر دیا گیا تھا۔ ثناء یوسف ایک مقبول سوشل میڈیا شخصیت تھیں اور ان کے ٹک ٹاک پر لاکھوں فالوورز تھے۔

ملزم عمر حیات کو 3 جون 2025ء کو جڑانوالہ سے گرفتار کیا گیا۔

  • 13 جون 2025ء: ملزم کی شناخت پریڈ ہوئی
  • جڑانوالہ سے ملزم کا دوسرا موبائل فون برآمد ہوا
  • 20 ستمبر 2025ء: ملزم پر فردِ جرم عائد کی گئی
  • 25 ستمبر 2025ء: پہلی گواہی ریکارڈ کی گئی
  • کیس میں مجموعی طور پر 31 گواہ تھے، جن میں سے 27 کے بیانات قلمبند کیے گئے

قانونی ماہرین کی رائے

قانونی ماہرین کے مطابق ملزم کی سزائے موت پر عملدرآمد کے لیے اسلام آباد ہائی کورٹ اور پھر سپریم کورٹ سے تصدیق درکار ہوگی۔ ملزم کے پاس اپنی سزا کے خلاف اپیل کرنے کا حق ہے۔

واضح رہے کہ اس کیس نے پورے ملک میں سنسنی پھیلا دی تھی اور سوشل میڈیا پر ثناء یوسف کے قتل کی مذمت کی گئی تھی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں