آئی ایم ایف نے پاکستان سے سیلز ٹیکس میں تمام چھوٹ ختم کرنے کا مطالبہ کردیا

ماہرین کے مطابق اگر آئی ایم ایف کی یہ شرائط منظور کر لی جاتی ہیں تو اس سے پاکستان میں اشیائے ضروریہ سمیت بیشتر مصنوعات مہنگی ہو جائیں گی، تاہم ٹیکس نیٹ کو وسیع کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔

یوتھ ویژن نیوز : (اسلام آباد) – بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے پاکستان سے سیلز ٹیکس میں ہر قسم کی چھوٹ اور استثنیٰ ختم کرنے کا مطالبہ کر دیا ہے۔

ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف مشن اور وفاقی بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کے درمیان آئندہ مالی سال کے بجٹ سے متعلق مذاکرات آخری مراحل میں داخل ہو گئے ہیں۔ اس سلسلے میں آج تین اہم ملاقاتیں ہوں گی، جن میں ٹیکس وصولیوں، نئے محصولات اور آئندہ مالی سال کی حکمت عملی پر تفصیلی غور کیا جائے گا۔

سیلز ٹیکس میں تمام چھوٹ ختم کرنے کا مطالبہ

آئی ایم ایف کی جانب سے آئندہ مالی سال کے لیے 15 ہزار 264 ارب روپے کے ٹیکس ہدف پر اصرار کیا جا رہا ہے، جبکہ ایف بی آر اس ہدف میں کمی کے لیے کوشاں ہے۔ آئی ایم ایف نے انفورسمنٹ اقدامات کے ذریعے 778 ارب روپے اضافی وصولی کا بھی مطالبہ کیا ہے۔

ذرائع کے مطابق آئندہ بجٹ میں 430 ارب روپے کے نئے ٹیکس اقدامات زیر غور ہیں، جن پر ایف بی آر حکام آئی ایم ایف مشن کو بریفنگ دیں گے۔ اس کے علاوہ دونوں فریقوں کے درمیان ٹیکس ہدف کو جی ڈی پی کے 11.2 فیصد کے برابر رکھنے پر اتفاق ہو گیا ہے۔

سیلز ٹیکس کی شرح میں کمی کی تجویز

دوسری جانب آئی ایم ایف نے سیلز ٹیکس کی موجودہ 22.8 فیصد شرح کم کر کے 18 فیصد کرنے کی تجویز بھی دی ہے، تاہم اس کے ساتھ تمام استثنیٰ اور چھوٹ ختم کرنے کا مطالبہ برقرار رکھا گیا ہے۔

ماہرین کے مطابق اگر آئی ایم ایف کی یہ شرائط منظور کر لی جاتی ہیں تو اس سے پاکستان میں اشیائے ضروریہ سمیت بیشتر مصنوعات مہنگی ہو جائیں گی، تاہم ٹیکس نیٹ کو وسیع کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں