پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان منشیات سمگلنگ کے خلاف معاہدہ، دو طرفہ تعلقات کو مزید مضبوط کرنے پر اتفاق
ڈھاکہ (یوتھ ویژن نیوز) – پاکستان اور بنگلہ دیش نے منشیات کی سمگلنگ کے خلاف مشترکہ اقدامات اور دو طرفہ تعلقات کو مضبوط بنانے کے لیے ایک اہم معاہدے پر دستخط کر دیے ہیں۔ یہ معاہدہ پاکستانی وزیر داخلہ محسن نقوی اور ان کے بنگلہ دیشی ہم منصب صلاح الدین احمد کے درمیان ڈھاکہ میں ہونے والی ملاقات کے بعد طے پایا۔
وزارت داخلہ پاکستان کے جاری کردہ بیان کے مطابق دونوں ممالک نے انٹیلی جنس کے تبادلے اور انسدادِ منشیات ایجنسیوں کے درمیان تعاون بڑھانے کا عہد کیا ہے۔
منشیات سمگلنگ کے خلاف مشترکہ حکمت عملی
بیان میں کہا گیا کہ دونوں ممالک منشیات کی ترسیل اور سمگلنگ کو روکنے کے لیے مکمل طور پر ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کریں گے، اور منشیات کی غیر قانونی فروخت اور سپلائی لائنز کو توڑنے کے لیے مشترکہ حکمت عملی تیار کی جائے گی۔
دونوں وزرا نے فیصلہ کیا کہ دونوں وزارتوں کے درمیان ایک مشترکہ ورکنگ گروپ تشکیل دیا جائے گا، جو منشیات کے سمگلروں اور ان کے نیٹ ورکس کے بارے میں بروقت معلومات کا تبادلہ یقینی بنائے گا۔
دیگر شعبوں میں تعاون بڑھانے پر اتفاق
اس کے علاوہ، داخلی سلامتی، سول آرمڈ فورسز کی تربیت، انسدادِ دہشت گردی اور انسانی سمگلنگ کی روک تھام کے شعبوں میں بھی تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا گیا۔
یہ معاہدہ دونوں ممالک کے درمیان بڑھتے ہوئے دو طرفہ تعلقات کا ایک نیا باب ہے۔ پاکستان اور بنگلہ دیش نے ماضی میں بھی مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا تھا، اور یہ معاہدہ انہی کوششوں کا تسلسل ہے۔
وزیر داخلہ محسن نقوی کا بیان
پاکستانی وزیر داخلہ محسن نقوی نے اس موقع پر کہا کہ "منشیات سمگلنگ ایک عالمی مسئلہ ہے جس سے نمٹنے کے لیے تمام ممالک کو مل کر کام کرنا ہوگا۔ پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان یہ معاہدہ دونوں ممالک کی طویل روایتی دوستی کا ثبوت ہے۔”
انہوں نے مزید کہا کہ ورکنگ گروپ جلد ہی اپنا کام شروع کرے گا اور انسدادِ منشیات کے مؤثر طریقوں پر عملدرآمد یقینی بنایا جائے گا۔
بنگلہ دیشی وزیر داخلہ کا ردعمل
بنگلہ دیش کے وزیر داخلہ صلاح الدین احمد نے کہا کہ "یہ معاہدہ ہمارے دونوں ممالک کے درمیان بڑھتے ہوئے اعتماد اور باہمی تعاون کی علامت ہے۔ ہم منشیات سمگلنگ کے خلاف مل کر کام کریں گے اور اپنی نوجوان نسل کو اس لعنت سے بچائیں گے۔”
مستقبل کی راہ
دونوں ممالک نے مستقبل میں مزید معاہدوں اور اعلیٰ سطحی مذاکرات کے ذریعے دو طرفہ تعلقات کو مزید مستحکم کرنے پر بھی اتفاق کیا ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ معاہدہ پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان سفارتی اور معاشی تعلقات کو نئی جہت دے گا۔