آبنائے ہرمز میں کشیدگی عروج پر: ایرانی پاسداران انقلاب کا تیل بردار جہاز قبضے میں لینے کا دعویٰ

آبنائے ہرمز میں کشیدگی عروج پر: ایرانی پاسداران انقلاب کا تیل بردار جہاز قبضے میں لینے کا دعویٰ

یوتھ ویژن نیوز :خلیج عمان اور آبنائے ہرمز کے علاقے میں امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی میں اچانک خطرناک حد تک اضافہ ہو گیا ہے۔ عالمی ذرائع ابلاغ کے مطابق ایرانی پاسداران انقلاب (IRGC) نے خلیج عمان میں ایک تیل بردار جہاز کو قبضے میں لینے کا دعویٰ کیا ہے، جبکہ دونوں طرف سے فائرنگ کے تبادلے کی اطلاعات بھی موصول ہوئی ہیں۔

یہ واقعہ ایسے وقت میں پیش آیا ہے جب 8 اپریل کو پاکستان کی ثالثی سے ہونے والی عبوری جنگ بندی کے بعد بھی آبنائے ہرمز کی صورتحال کشیدہ ہے۔ امریکی بحریہ کے مطابق اس وقت 70 سے زائد تیل بردار بحری جہاز ایسے ہیں جنہیں امریکی افواج ایرانی بندرگاہوں میں داخل ہونے یا وہاں سے نکلنے سے روکے ہوئے ہیں۔

ایرانی پاسداران کا تیل بردار جہاز قبضے میں لینے کا دعویٰ

ایرانی فوج نے بتایا ہے کہ اس کے بحری دستوں نے "اوشین کوئی” (Ocean Koi) نامی جہاز کو خلیج عمان میں ایک ’خصوصی کارروائی‘ کے دوران قبضے میں لے لیا۔ ایران کا الزام ہے کہ یہ جہاز بارباڈوس کے جھنڈے تلے سفر کر رہا تھا اور خطے کے حالات کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ایرانی تیل کی برآمدات میں خلل ڈالنے کی کوشش کر رہا تھا۔

ایرانی سرکاری ٹیلی ویژن نے پاسداران انقلاب کے دستوں کو جہاز پر چڑھائی کرتے اور اسے ضبط کرتے ہوئے کی ویڈیو بھی جاری کی ہے۔

امریکا اور ایران کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ

اس واقعے سے چند گھنٹے قبل امریکی افواج نے آبنائے ہرمز میں تین امریکی جنگی جہازوں کی آمدورفت کے دوران ایران کے ساتھ فائرنگ کا تبادلہ کیا تھا جس کے بعد ’سیف اسٹے‘ عبوری جنگ بندی خطرے میں پڑ گئی۔

سینٹکام کے مطابق امریکی افواج نے خلیج عمان میں ایرانی بندرگاہوں کی طرف جانے والے کم از کم دو ایرانی تیل بردار ٹینکرز کو ناکارہ بنا دیا تھا۔ تاہم ایران نے الزام عائد کیا ہے کہ امریکا نے قشم جزیرے اور ایرانی تیل بردار جہاز کو نشانہ بنایا جس میں 10 ملاح زخمی اور 5 لاپتہ ہو گئے۔

دوسری جانب ایران نے امریکی جنگی جہازوں پر کروز میزائلوں، راکٹوں اور ڈرونوں سے حملے کر کے انہیں نقصان پہنچانے کا بھی دعویٰ کیا ہے۔

ٹرمپ کا ردعمل: ‘محبت بھرا تھپڑ’

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس معاملے کو کم کرتے ہوئے اسے ایک "محبت بھرا تھپڑ” (Love Tap) قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ امریکی جہازوں کو کوئی نقصان نہیں پہنچا اور 8 اپریل کو ہونے والی جنگ بندی اب بھی برقرار ہے۔

ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ امریکی افواج کی کارروائی صرف دفاعی نوعیت کی تھی اور ایران کو کوئی بڑا نقصان نہیں پہنچایا گیا۔

آبنائے ہرمز میں ایران کے نئے بحری قواعد

ادھر ایران نے آبنائے ہرمز پر اپنے کنٹرول کو مزید مستحکم کرنے کے لیے نئے بحری قواعد بھی متعارف کروا دیے ہیں۔ نئے قوانین کے تحت اب آبنائے ہرمز سے گزرنے والے کسی بھی جہاز کو ایرانی حکام سے پیشگی اجازت لینا ہوگی اور جہاز سے متعلق مکمل معلومات (ملک، کارگو، منزل) فراہم کرنا ہوں گی۔

ایران نے اس نئے نظام کو ’پرشین گلف اسٹریٹ اتھارٹی‘ کا نام دیا ہے۔

عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اضافہ

اس پیش رفت کے بعد عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اچانک اضافہ ہوا ہے اور بین الاقوامی برینٹ کروڈ تیل 101 ڈالر فی بیرل کی نفسیاتی حد کو عبور کر گیا ہے۔ ماہرین کے مطابق اگر کشیدگی مزید بڑھی تو تیل کی قیمتیں 120 ڈالر فی بیرل تک جا سکتی ہیں۔

عالمی ردعمل

ادھر ایران نے اقوام متحدہ میں اپنے سفیر کے ذریعے امریکی اقدامات کو جنگ بندی کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے ان کی شدید مذمت کی ہے اور خبردار کیا ہے کہ اس طرح کی کارروائیوں کے تباہ کن نتائج برآمد ہو سکتے ہیں۔

سعودی حکام نے امریکی حملوں کے لیے اپنی فضائی حدود کے استعمال کی تردید کی ہے جبکہ روس نے بھی اقوام متحدہ میں ایران کے خلاف امریکی حمایت یافتہ قرارداد کو مسترد کر دیا ہے۔

تاریخی پس منظر

واضح رہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان 28 فروری سے جاری جنگ کے دوران آبنائے ہرمز کی یہ متنازع آبی گزرگاہ مرکزی محاذ بن چکی ہے۔ پاکستان کی ثالثی سے 8 اپریل کو جنگ بندی ہوئی تھی، لیکن حالیہ واقعات نے ایک بار پھر تشویش پیدا کر دی ہے۔

ماہرین کے مطابق آنے والے دنوں میں دونوں فریقین کے درمیان سفارتی کوششیں تیز ہو سکتی ہیں تاکہ صورتحال کو مزید بگڑنے سے روکا جا سکے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں