شنگھائی تعاون تنظیم کے وزرائے خارجہ اجلاس میں پاکستان کا موقف: علاقائی امن و استحکام کیلئے قریبی تعاون ناگزیر

شنگھائی تعاون تنظیم کے وزرائے خارجہ اجلاس میں پاکستان کا موقف: علاقائی امن و استحکام کیلئے قریبی تعاون ناگزیر

شنگھائی (یوتھ ویژن نیوز) – شنگھائی تعاون تنظیم (SCO) کے وزرائے خارجہ کے اجلاس میں پاکستان نے خطے میں امن اور معاشی استحکام کو فروغ دینے کے لیے رکن ممالک کے درمیان قریبی تعاون پر زور دیا ہے۔ پاکستانی وفد نے افغانستان کی موجودہ صورتحال اور علاقائی سلامتی کے چیلنجز سے نمٹنے میں پاکستان کے کلیدی کردار کو بھرپور طریقے سے اجاگر کیا۔

یہ اجلاس چین کے شہر شنگھائی میں منعقد ہوا جس میں رکن ممالک کے وزرائے خارجہ نے شرکت کی۔ پاکستان کی نمائندگی نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار نے کی۔

پاکستان کا مؤقف

اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے اسحاق ڈار نے کہا کہ علاقائی امن و استحکام کے لیے رکن ممالک کا قریبی تعاون ناگزیر ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان دہشت گردی، انتہاپسندی، منشیات کی اسمگلنگ اور انسانی سمگلنگ جیسے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے تمام رکن ممالک کے ساتھ مل کر کام کرنے کو تیار ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ شنگھائی تعاون تنظیم خطے میں اقتصادی تعاون اور سلامتی کے فروغ کے لیے ایک اہم پلیٹ فارم ہے اور پاکستان اس فورم کے فعال رکن کی حیثیت سے اپنا کردار ادا کرنے کے لیے پرعزم ہے۔

افغانستان کی صورتحال پر تبادلہ خیال

اجلاس کے دوران افغانستان کی موجودہ صورتحال پر بھی تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ پاکستانی وفد نے کہا کہ ایک پرامن اور مستحکم افغانستان پورے خطے کی ترقی کے لیے ضروری ہے۔

اسحاق ڈار نے کہا کہ پاکستان نے افغانستان میں دیرپا امن کے لیے ہمیشہ تعمیری کردار ادا کیا ہے اور مستقبل میں بھی جاری رکھے گا۔ انہوں نے عالمی برادری سے افغان عوام کو انسانی امداد فراہم کرنے اور افغانستان کی معاشی بحالی میں تعاون کرنے کی اپیل کی۔

اشتعال انگیزیوں سے گریز اور مکالمے پر زور

پاکستانی وزیر خارجہ نے خطے میں کسی بھی قسم کی اشتعال انگیزی سے گریز کرنے اور تمام تنازعات کو پرامن مذاکرات کے ذریعے حل کرنے پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ دو طرفہ تنازعات کو بات چیت کے ذریعے حل کیا جانا چاہیے اور اس سلسلے میں پاکستان ہمیشہ تعمیری کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہے۔

اقتصادی تعاون کو فروغ دینے پر اتفاق

اجلاس میں رکن ممالک کے درمیان اقتصادی تعاون کو فروغ دینے پر بھی اتفاق کیا گیا۔ شنگھائی تعاون تنظیم کے فریم ورک تحت چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) کو علاقائی رابطے کا ایک مثالی منصوبہ قرار دیا گیا۔

شرکاء نے توانائی، ٹرانسپورٹ، تجارت اور انسانی ترقی کے شعبوں میں تعاون بڑھانے کے عزم کا اعادہ کیا۔

اجلاس کی اہم سفارشات

وزرائے خارجہ کے اجلاس میں درج ذیل اہم سفارشات پیش کی گئیں:

  • رکن ممالک کے درمیان انٹیلی جنس شیئرنگ کو بہتر بنایا جائے
  • دہشت گردی کے خلاف مشترکہ آپریشنز کی رفتار بڑھائی جائے
  • منشیات اور اسلحے کی اسمگلنگ روکنے کے لیے موثر اقدامات کیے جائیں
  • اقتصادی راہداریوں کو فروغ دے کر علاقائی تجارت کو آسان بنایا جائے
  • رکن ممالک کے درمیان ویزا پالیسیوں میں نرمی کی جائے

مستقبل کی راہ

یہ اجلاس شنگھائی تعاون تنظیم کی تاریخ میں ایک اہم موڑ ہے جہاں پاکستان نے اپنے موقف کے ذریعے علاقائی قیادت کا مظاہرہ کیا۔ ماہرین کے مطابق پاکستان کے اس موقف سے علاقائی ممالک میں اس کی سفارتی اہمیت مزید بڑھ جائے گی۔

آنے والے مہینوں میں رکن ممالک کی سربراہی کانفرنس کا انعقاد کیا جائے گا جہاں ان تجاویز پر مزید عمل درآمد کے لیے منصوبہ بندی کی جائے گی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں