اقوام متحدہ میں پاکستان کی کشمیر قرارداد کو عالمی سطح پر وسیع حمایت حاصل، حقِ خودارادیت پر زور

اقوام متحدہ میں پاکستان کی کشمیر قرارداد کو عالمی سطح پر وسیع حمایت حاصل، حقِ خودارادیت پر زور

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں پاکستان کی طرف سے پیش کردہ حق خودارادیت سے متعلق قرارداد کو عالمی برادری کی جانب سے وسیع پیمانے پر پذیرائی ملی۔ قرارداد میں تنازعہ کشمیر کے پرامن حل اور کشمیری عوام کے بنیادی حقوق کے تحفظ پر زور دیا گیا۔

نیویارک (یوتھ ویژن نیوز) – اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں پاکستان کی طرف سے پیش کردہ حقِ خودارادیت سے متعلق قرارداد کو عالمی برادری کی جانب سے وسیع پیمانے پر پذیرائی ملی ہے۔ اس قرارداد میں تنازعہ کشمیر کے پرامن حل اور کشمیری عوام کے بنیادی حقوق کے تحفظ پر زور دیا گیا ہے، جسے پاکستانی سفارتکاری کی ایک اہم کامیابی قرار دیا جا رہا ہے۔

یہ قرارداد ایسے وقت میں پیش کی گئی ہے جب مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے اور عالمی برادری میں کشمیری عوام کی آواز کو حمایت مل رہی ہے۔

قرارداد میں کیا کہا گیا؟

پاکستان کی جانب سے پیش کردہ قرارداد میں درج ذیل نکات پر زور دیا گیا:

  • کشمیری عوام کے حقِ خودارادیت کو تسلیم کرتے ہوئے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں پر عملدرآمد کا مطالبہ
  • مقبوضہ جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر فوری طور پر عمل روکنے کی اپیل
  • اقوام متحدہ کی مبصرین کو خطے میں آزادانہ رسائی فراہم کرنے کا مطالبہ
  • کشمیری عوام کے خلاف بھارتی تشدد کو بین الاقوامی جرم قرار دیتے ہوئے اس کے خاتمے کا عزم

عالمی حمایت اور سفارتی کامیابی

ذرائع کے مطابق اس قرارداد کو 193 رکنی جنرل اسمبلی میں وسیع پیمانے پر حمایت حاصل ہوئی۔ متعدد اسلامی ممالک کے علاوہ چین، روس، ترکی اور دیگر غیر ملکی طاقتوں نے بھی اس قرارداد کی حمایت میں آواز بلند کی۔

یہ قرارداد پاکستانی سفارتکاری کی ایک اہم کامیابی ہے جو کشمیری عوام کے حق خودارادیت کے لیے عالمی سطح پر آواز اٹھانے میں کامیاب رہی ہے۔

پاکستان کا مؤقف

اقوام متحدہ میں پاکستانی مندوب نے قرارداد پیش کرتے ہوئے کہا کہ "کشمیر بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ متنازعہ علاقہ ہے جس کا حتمی حل اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق ہونا چاہیے۔”

انہوں نے مزید کہا کہ بھارت اپنے مقبوضہ علاقوں میں کشمیری عوام کو ان کے بنیادی حقوق سے محروم رکھے ہوئے ہے جبکہ عالمی برادری خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے۔ پاکستان ہمیشہ سے کشمیری عوام کی سفارتی، اخلاقی اور سیاسی حمایت کرتا رہے گا۔

بھارت کا ردعمل

بھارتی مندوب نے قرارداد کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ "کشمیر بھارت کا لازمی جزو ہے اور کوئی بھی بیرونی طاقت اس پر کوئی فیصلہ نہیں کر سکتی۔”

بھارت نے حق خودارادیت کو "علیحدگی پسندی” قرار دیتے ہوئے پاکستان پر منفی پروپیگنڈا کرنے کا الزام عائد کیا۔ تاہم پاکستانی مندوب نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ کشمیری عوام کا حق خودارادیت اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں میں تسلیم شدہ ہے۔

عالمی ردعمل

چین نے اس قرارداد کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ مسئلہ کشمیر کا حل اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق ہونا چاہیے۔ روس نے بھی پاکستان کے مؤقف کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ کشمیری عوام کو اپنی مرضی کا فیصلہ کرنے کا حق حاصل ہے۔

ترکی، ایران اور دیگر اسلامی ممالک نے بھی اس قرارداد کی حمایت میں آواز بلند کی اور مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا۔

مستقبل کی راہ

ماہرین کے مطابق یہ قرارداد عالمی برادری میں کشمیر کے مسئلے کو گرم کرنے میں اہم کردار ادا کرے گی۔ پاکستان نے اس قرارداد کے ذریعے یہ پیغام دیا ہے کہ وہ کشمیری عوام کے حقوق کے لیے ہر ممکن سفارتی کوشش کرے گا۔

آنے والے دنوں میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں اس مسئلے پر مزید بحث کے امکانات ہیں، جہاں پاکستان مزید عالمی حمایت حاصل کرنے کی کوشش کرے گا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں