ایران جنگ ختم ہونے پر تیل کی قیمتیں فوری کم ہوں گی، صدر ٹرمپ

ٹرمپ کی نمایاں تصویئر

یوتھ ویژن نیوز : (واشگنٹن)  امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس کے اوول آفس میں گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ موجودہ تنازع ختم ہوتے ہی تیل اور گیس کی قیمتیں فوری طور پر کم ہو جائیں گی۔

صدر ٹرمپ نے موجودہ صورتحال کو بعض لوگوں کی جانب سے "جنگ” قرار دیئے جانے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ امریکی معیشت اس کے باوجود مضبوط ہے اور اسٹاک مارکیٹ نئی بلندیوں کو چھو رہی ہے۔ ان کے مطابق ایران کی معیشت ناکہ بندی کے باعث تباہی کا شکار ہے اور وہ پیسے نہیں کما سکتا۔

ایران کی فوجی صلاحیتیں تباہ

ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ ایران کی 90 فیصد راکٹ بنانے والی فیکٹریاں تباہ کر دی گئی ہیں، جبکہ ایرانی بحریہ اور فضائیہ کو ختم کر دیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایران کی ڈرون اور میزائل بنانے کی صلاحیت بھی کم ہوگئی ہے اور کئی میزائل تباہ کر دیئے گئے۔

گزشتہ جون میں ایران کی جوہری صلاحیتوں کو تباہ کرنے کا دعویٰ کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ وہ ایران کو کبھی جوہری ہتھیار حاصل نہیں کرنے دیں گے۔

مذاکرات اور جنگ کا آپشن

انہوں نے معاہدے کی خواہش کا اظہار کیا لیکن بتایا کہ مذاکرات پر قیادت کے اندر اختلافات ہیں۔ ٹرمپ نے عندیہ دیا کہ وہ فوری طور پر جنگ دوبارہ شروع کرنے کے حق میں نہیں، تاہم ضرورت پڑنے پر یہ آپشن موجود ہے۔

ان کے مطابق حالات کی مکمل آگاہی صرف چند لوگوں کو ہے، اسی لیے مذاکرات کی پیش رفت کے بارے میں زیادہ تفصیل سامنے نہیں آ رہی۔

ورلڈکپ میں ایران کی شرکت پر کوئی اعتراض نہیں

ایک الگ موضوع پر بات کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ انہیں ایران کی فیفا ورلڈکپ میں شرکت پر کوئی اعتراض نہیں، جو اس سال شمالی امریکا میں منعقد ہوگا۔

یورپ سے امریکی فوج کا انخلا؟

مزید برآں، انہوں نے یورپ میں امریکی فوجی موجودگی کے حوالے سے بتایا کہ اٹلی اور اسپین سے امریکی فوج کے ممکنہ انخلا پر غور کیا جا رہا ہے۔

تیل کی قیمتوں پر کیا اثر ہوگا؟

ماہرین اقتصادیات کے مطابق اگر واقعی ایران جنگ ختم ہوتی ہے اور آبنائے ہرمز کھل جاتا ہے تو عالمی منڈی میں تیل کی سپلائی بحال ہو سکتی ہے جس سے قیمتوں میں کمی واقع ہو سکتی ہے۔ تاہم ابھی صورتحال غیر یقینی ہے۔

یاد رہے کہ پاکستان میں حال ہی میں پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں بڑا اضافہ کیا گیا تھا جس سے عوام میں بے چینی پائی جاتی ہے۔ اگر عالمی قیمتوں میں کمی آتی ہے تو پاکستانی عوام کو بھی ریلیف مل سکتا ہے۔

ٹرمپ کے ان دعووں کی تصدیق ابھی تک آزاد ذرائع سے نہیں ہو سکی ہے۔ عالمی سفارتی حلقوں میں ان بیانات پر گہری نظر رکھی جا رہی ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں