اسرائیلی بحریہ نے غزہ کے لیے امداد لے جانے والے متعدد جہازوں کو گھیرے میں لیا

اسرائیلی بحریہ کی نمایاں تصویئر

گلوبل صمود فلوٹیلا کے مطابق اسرائیلی فوج نے 11 امدادی جہازوں کو بین الاقوامی پانیوں میں گھیر کر عملے کو اغوا کی دھمکیاں دیں۔ عالمی برادری سے فوری اقدام کا مطالبہ

یوتھ ویژن نیوز : (ویب ڈسک)  اسرائیلی بحریہ نے غزہ پٹی کے لیے امدادی سامان لے کر جانے والے متعدد بحری جہازوں کو بین الاقوامی پانیوں میں گھیرے میں لے لیا۔گلوبل صمود فلوٹیلا (Global Solidarity Flotilla) کے مطابق یہ واقعہ بین الاقوامی پانیوں میں پیش آیا، جہاں اسرائیلی فوجی کشتیوں نے ان جہازوں کو غیر قانونی طور پر گھیر لیا اور عملے کے ارکان کو اغوا اور تشدد کی دھمکیاں دیں۔

جہازوں سے رابطہ منقطع

تنظیم نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (سابقہ ٹویٹر) پر جاری کردہ بیان میں بتایا کہ کل 11 جہازوں سے رابطہ مکمل طور پر منقطع ہوچکا ہے۔ تاہم اسرائیلی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ سات جہازوں کو روک لیا گیا ہے۔

صمود فلوٹیلا کا کہنا ہے کہ اسرائیلی فوج نے ان جہازوں کو بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے روکا ہے۔ یہ جہاز غزہ کے محصور عوام کے لیے خوراک، ادویات اور دیگر ضروری امدادی سامان لے کر جا رہے تھے۔

عالمی برادری سے فوری اقدام کا مطالبہ

صمود فلوٹیلا نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ فوری طور پر حرکت میں آئے اور ان جہازوں کے تحفظ کو یقینی بنائے۔ بیان میں کہا گیا:

"اسرائیل کو بین الاقوامی قانون کی کھلی خلاف ورزیوں اور فلسطینی عوام کے خلاف جاری مبینہ نسل کشی پر جوابدہ ٹھہرایا جانا چاہیے۔”

تنظیم نے اپنے پیغام کے اختتام پر نعرہ لگایا:
"فلوٹیلا کا تحفظ کرو، محاصرہ ختم کرو، فلسطین کو آزاد کرو۔”

اسرائیلی موقف اور عالمی ردعمل

اسرائیلی فوج کی جانب سے اس واقعے پر کوئی سرکاری بیان جاری نہیں کیا گیا ہے، تاہم اسرائیلی میڈیا کے مطابق یہ جہاز اسرائیلی بحری ناکہ بندی کی خلاف ورزی کر رہے تھے۔ اسرائیل کا دعویٰ ہے کہ وہ اسناد کے خلاف اسلحہ کی اسمگلنگ روکنے کے لیے غزہ پر بحری ناکہ بندی برقرار رکھے ہوئے ہے۔

دوسری طرف انسانی حقوق کی تنظیموں نے اس واقعے کو شدید تشویشناک قرار دیتے ہوئے اسرائیل سے فوری طور پر جہازوں کو رہا کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ اقوام متحدہ میں فلسطین کے نمائندے نے اس واقعے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ یہ بین الاقوامی قانون کی صریح خلاف ورزی ہے۔

تاریخی پس منظر

یاد رہے کہ 2010 میں بھی اسرائیلی بحریہ نے غزہ کے لیے امداد لے جانے والے ترکی کے جہاز "ماوی مرمرہ” پر حملہ کیا تھا، جس میں 10 ترک شہری شہید ہو گئے تھے۔ اس واقعے کے بعد ترکی اور اسرائیل کے تعلقات میں شدید کشیدگی پیدا ہو گئی تھی۔

ماہرین کے مطابق موجودہ واقعہ خطے میں کشیدگی کو مزید بڑھا سکتا ہے۔ عالمی سطح پر فلسطین کے حامی تنظیموں نے احتجاج کا اعلان کر دیا ہے۔

اب دیکھنا یہ ہے کہ بین الاقوامی برادری اسرائیل پر دباؤ ڈالتی ہے یا معاملہ اسی طرح رہنے دیا جاتا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں