امریکا کا ایران سے نمٹنے کے لیے ہائپر سونک میزائل استعمال کرنے پر غور

ہائپر سونک میزائل کی نمایاں تصوئر

"ڈارک ایگل” میزائل کی رینج 1,700 میل سے زائد، ایران کے اندرونی علاقوں کو نشانہ بنانے کی تیاری

واشنگٹن (یوتھ ویژن نیوز) – امریکہ نے ایران کے خلاف پہلی بار انتہائی تیز رفتار (ہائپر سونک) میزائل تعینات کرنے پر غور شروع کر دیا ہے۔ یہ میزائل آواز کی رفتار سے پانچ گنا زیادہ تیز رفتاری سے پرواز کرتے ہیں اور ان کی رینج 1,700 میل سے تجاوز کرتی ہے۔

امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) نے مشرق وسطیٰ میں "ڈارک ایگل” نامی ہائپر سونک میزائل بھیجنے کی درخواست دی ہے۔ اس اقدام کا بنیادی مقصد ایران کے اندرونی علاقوں میں موجود میزائل لانچروں کو نشانہ بنانا ہے، جو اس سے قبل امریکی پریسجن اسٹرائیک میزائلوں کی حدود سے باہر منتقل کر دیے گئے ہیں۔

کیوں ہائپر سونک میزائل؟

یاد رہے کہ ایران کے پاس ایسے میزائل ہیں جو 300 میل سے زیادہ دور تک کے اہداف کو نشانہ بنا سکتے ہیں۔ امریکی پریسجن اسٹرائیک میزائلوں کی حدود میں یہ ایرانی لانچر محفوظ تھے۔ اب ایران نے اپنے میزائل لانچروں کو گہرے اندرونی علاقوں میں منتقل کر دیا ہے، جس کے بعد انہیں نشانہ بنانے کے لیے زیادہ رینج والے ہتھیاروں کی ضرورت ہے۔

"ڈارک ایگل” میزائل کی خاصیت یہ ہے کہ یہ نہ صرف انتہائی تیز رفتار ہے بلکہ راستہ بدل کر دفاعی نظاموں کو دھوکا دینے کی صلاحیت بھی رکھتا ہے۔ روایتی بیلسٹک میزائلوں کے برعکس، ہائپر سونک میزائل پرواز کے دوران اپنی سمت بدل سکتے ہیں، جس سے انہیں روکنا تقریباً ناممکن ہو جاتا ہے۔

"ڈارک ایگل” پروگرام: تاخیر کا شکار لیکن خطرناک

امریکا اگر یہ میزائل تعینات کرتا ہے تو یہ پہلا موقع ہوگا جب وہ ہائپر سونک میزائل کو عملی طور پر استعمال کرے گا۔ تاہم "ڈارک ایگل” پروگرام ابھی تاخیر کا شکار رہا ہے اور اسے مکمل طور پر آپریشنل قرار نہیں دیا گیا۔

ماہرین کے مطابق اس میزائل کی تخمینہ رینج 1,725 میل سے زائد ہے جو ایران کے دارالحکومت تہران سمیت تمام اہم فوجی تنصیبات کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتی ہے۔

روس اور چین پہلے ہی آگے

رپورٹس کے مطابق روس اور چین پہلے ہی اس نوعیت کی جدید ٹیکنالوجی میدان میں لا چکے ہیں۔ روس نے یوکرین جنگ میں ہائپر سونک میزائل "کنجال” کا کامیابی سے استعمال کیا ہے، جبکہ چین بھی اس فیلڈ میں تیزی سے ترقی کر رہا ہے۔ امریکا اب اس خلا کو پر کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

لاگت: ایک میزائل ڈیڑھ کروڑ ڈالر

مالی اعداد و شمار کے مطابق ایک "ڈارک ایگل” میزائل کی قیمت تقریباً ڈیڑھ کروڑ ڈالر (15 ملین ڈالر) جبکہ اس نظام کی ایک بیٹری کی مجموعی لاگت 2.7 ارب ڈالر ہے۔

سینٹ کام نے اس معاملے پر کوئی باضابطہ تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا ہے۔ یہ درخواست ابھی عوام کے سامنے نہیں لائی گئی ہے اور نہ ہی پینٹاگون نے اس حوالے سے کوئی سرکاری تصدیق کی ہے۔

عالمی اثرات

ماہرین کے مطابق اگر امریکہ نے یہ میزائل تعینات کیے تو مشرق وسطیٰ میں طاقت کا توازن یکسر تبدیل ہو سکتا ہے۔ ایران پہلے ہی امریکی بحری ناکہ بندی اور معاشی پابندیوں سے دوچار ہے، اور ہائپر سونک میزائل کی تعیناتی صورتحال کو مزید خطرناک بنا سکتی ہے۔

دوسری جانب روس اور چین اس اقدام کو امریکی جارحیت قرار دے سکتے ہیں۔ اقوام متحدہ میں سفارتی حلقوں میں اس حوالے سے شدید خدشات کا اظہار کیا جا رہا ہے۔

اب دیکھنا یہ ہے کہ پینٹاگون اس درخواست پر کیا فیصلہ کرتا ہے اور ایران امریکی اس اقدام پر کیسا ردعمل دیتا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں