ٹرمپ کا ایران پر سخت ترین موقف: ہتھیار ڈالنے کے سوا کوئی راستہ باقی نہیں، آئندہ مذاکرات صرف فون پر ہوں گے
امریکی صدر کا ایران کو الٹی میٹم، بحری ناکہ بندی جاری رکھنے کا عندیہ
واشنگٹن (یوتھ ویژن نیوز) – امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے معاملے پر انتہائی سخت موقف اختیار کرتے ہوئے کہا ہے کہ تہران کے پاس اب ہتھیار ڈالنے کے سوا کوئی راستہ باقی نہیں رہا۔ انہوں نے واضح کیا کہ آئندہ تمام مذاکرات صرف ٹیلی فون پر ہوں گے، جبکہ ذاتی ملاقاتوں کا دور ختم ہوچکا ہے۔
18 گھنٹے کی پروازیں غیر عملی ہوچکی ہیں
ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس میں ناسا کے "آرٹیمس دوم” مشن کے خلابازوں سے ملاقات کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہر نئی تجویز پر بات کرنے کے لیے 18 گھنٹے کی طویل اور مہنگی پروازیں کرنا اب غیر عملی ہوچکا ہے۔
امریکی صدر نے کہا کہ وہ خود آمنے سامنے ملاقاتوں کے حامی ہیں، لیکن جب بار بار یہ صورت حال سامنے آئے کہ طویل سفر کے بعد پتہ چلے کہ سامنے والی دستاویز پر عملدرآمد ممکن نہیں، تو ایسی ملاقاتیں بے سود ہیں۔ "اب سے تمام گفتگو فون پر ہوگی، اس میں کوئی استثنا نہیں ہوگا۔”
ہتھیار ڈالنے کے سوا کوئی چارہ نہیں
ٹرمپ نے اپنے سخت ترین لہجے میں کہا کہ ایران کو فوجی طور پر مکمل طور پر شکست دی جا چکی ہے۔ انہوں نے زور دے کر کہا:
"ایرانی حکومت کے پاس اب ہتھیار ڈالنے کے سوا کوئی راستہ نہیں بچا۔ وہ صرف یہ کہہ سکتے ہیں: ‘ہم ہار مانتے ہیں اور دستبردار ہوتے ہیں۔'”
امریکی صدر نے اس امید کا اظہار کیا کہ ایران نے اب تک کچھ پیش رفت ضرور کی ہے، تاہم انہوں نے سوال اٹھایا کہ کیا تہران وہاں تک جائے گا جہاں امریکا چاہتا ہے۔
جوہری پروگرام پر کوئی سمجھوتہ نہیں
ٹرمپ نے واضح کیا کہ اس وقت کسی بھی قسم کے معاہدے کا کوئی امکان نہیں جب تک ایران جوہری ہتھیار نہ رکھنے کی ضمانت پر متفق نہ ہوجائے۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکہ ایران کے جوہری عزائم کو کسی بھی قیمت پر قبول نہیں کرے گا۔
بحری ناکہ بندی جاری رہے گی
بحری ناکہ بندی کے حوالے سے ٹرمپ نے کہا کہ یہ عمل کئی ماہ تک جاری رہے گا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایران کو فوجی طور پر مکمل طور پر شکست ہو چکی ہے اور اب ایران کے پاس اپنی شرائط منوانے کی کوئی طاقت باقی نہیں رہی۔
یاد رہے کہ ایران نے امریکہ سے فوری طور پر بحری ناکہ بندی ختم کرنے کی درخواست کی ہے، تاہم ٹرمپ کے تازہ موقف سے لگتا ہے کہ وائٹ ہاؤس اس معاملے میں نرمی برتنے کے موڈ میں نہیں ہے۔
عالمی ردعمل کا انتظار
ٹرمپ کے اس سخت ترین موقف کے بعد عالمی سطح پر ایران کے حامی ممالک خاص طور پر روس اور چین کا ردعمل سامنے آنا باقی ہے۔ اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب نے بھی صورتحال پر گہری نظر رکھنے اور کشیدگی میں مزید اضافے سے بچنے پر زور دیا ہے۔
ماہرین کے مطابق ٹرمپ کا یہ موقف ایران پر دباؤ ڈالنے کی ایک حکمت عملی ہو سکتی ہے تاکہ تہران کو جوہری معاملے پر مجبور کیا جا سکے۔ تاہم دیکھنا یہ ہوگا کہ ایران اس الٹی میٹم پر کیا جواب دیتا ہے۔