پاکستان ثالثی نہ کرتا تو ترکیہ اسرائیل پر حملہ کردیتا! ترک صدر رجب طیب اردوان کی ویڈیو وائرل

اردوان سے منسوب وائرل ویڈیو فیک قرار، پاکستان اور اسرائیل حملے سے متعلق دعویٰ غلط ثابت، ترک حکومت نے بھی تردید کر دی۔

یوتھ ویژن نیوز : (ویب ڈسک) سوشل میڈیا پر ترکیہ کے صدر رجب طیب اردوان سے منسوب ایک ویڈیو وائرل ہو رہی ہے جس میں دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ اگر پاکستان، امریکا اور ایران کے درمیان ثالثی نہ کرتا تو ترکیہ اسرائیل پر حملہ کر دیتا۔ تاہم فیکٹ چیک کے بعد واضح ہوا ہے کہ یہ دعویٰ گمراہ کن اور سیاق و سباق سے ہٹ کر پیش کیا گیا ہے۔

وائرل ویڈیو اور دعوے کی نوعیت

یہ ویڈیو 11 اپریل کو سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (ٹوئٹر) پر شیئر کی گئی تھی، جس کے ساتھ ایک ایسا کیپشن شامل تھا جس میں پاکستان کے کردار اور اسرائیل کے خلاف ممکنہ فوجی کارروائی کا ذکر کیا گیا۔ یہ پوسٹ تیزی سے وائرل ہوئی اور لاکھوں صارفین تک پہنچ گئی۔

بعد ازاں یہی دعویٰ مختلف سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر بھی پھیل گیا، جس سے غلط معلومات مزید عام ہو گئیں۔

اصل ویڈیو اور کانفرنس کی تفصیلات

تحقیقات سے معلوم ہوا کہ یہ ویڈیو دراصل 10 اپریل کو استنبول میں ہونے والی انٹرنیشنل کانفرنس آف ایشین پولیٹیکل پارٹیز (ICAPP) کے نویں اجلاس میں کی گئی تقریر کا حصہ ہے۔

مکمل خطاب دیکھنے سے واضح ہوتا ہے کہ صدر اردوان نے اپنی تقریر میں پاکستان کا کوئی ذکر نہیں کیا اور نہ ہی اسرائیل پر حملے یا کسی فوجی کارروائی کی بات کی گئی۔

اسرائیل پر تنقید مگر پاکستان کا ذکر نہیں

اصل خطاب میں اردوان نے اسرائیل کی جانب سے لبنان میں جاری کارروائیوں پر تنقید کرتے ہوئے کہا تھا کہ جنگ بندی کے اعلان کے باوجود شہریوں کو نشانہ بنایا گیا، جو انسانی اقدار کی خلاف ورزی ہے۔

تاہم سوشل میڈیا پر وائرل کلپ کو ایڈٹ کرکے ایک مختلف تاثر دینے کی کوشش کی گئی۔

ترکیہ حکومت کی وضاحت

ترک حکومت کے ڈس انفارمیشن کاؤنٹر ایکشن سینٹر نے بھی اس وائرل دعوے کی سختی سے تردید کی ہے۔ سرکاری بیان میں واضح کیا گیا ہے کہ صدر اردوان نے نہ اسرائیل پر حملے کی بات کی اور نہ ہی پاکستان کے کسی کردار کا ذکر کیا۔

فیکٹ چیک اور میڈیا رپورٹس

ترک اور بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق اصل تقریر میں صرف مشرق وسطیٰ کی صورتحال اور اسرائیل کی پالیسیوں پر تنقید شامل تھی۔ پاکستان یا کسی عسکری اقدام سے متعلق کوئی بیان موجود نہیں تھا۔

نتیجہ: گمراہ کن سوشل میڈیا مہم

دستیاب شواہد سے واضح ہے کہ یہ وائرل دعویٰ حقیقت پر مبنی نہیں بلکہ ایک گمراہ کن اور سیاق و سباق سے ہٹ کر بنایا گیا کلپ ہے، جس میں اصل بیان کو تبدیل کرکے غلط تاثر پیدا کیا گیا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں