اسرائیل اور لبنان میں 10 روزہ جنگ بندی، حزب اللہ نے اپنے مطالبات سامنے رکھ دیے
یوتھ ویژن نیوز : (ویب ڈسک) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے اسرائیل اور لبنان کے درمیان 10 روزہ جنگ بندی کے اعلان کے بعد خطے میں سیاسی اور عسکری ردعمل سامنے آیا ہے۔ حزب اللہ نے جنگ بندی کو مشروط قرار دیتے ہوئے اپنے سخت مطالبات پیش کر دیے ہیں، جبکہ اسرائیل نے بھی اپنے مؤقف میں نرمی سے انکار کر دیا ہے۔
جنگ بندی پر حزب اللہ کا محتاط ردعمل
حزب اللہ کے رکن پارلیمان علی فیاض نے کہا ہے کہ تنظیم اس جنگ بندی معاہدے کا باریک بینی سے جائزہ لے رہی ہے۔ ان کے مطابق آئندہ مرحلہ نہایت پیچیدہ اور چیلنجز سے بھرپور ہوگا، اور لبنان کو داخلی عدم استحکام یا ممکنہ خانہ جنگی جیسے خطرات کا سامنا ہو سکتا ہے۔
انہوں نے لبنانی حکومت پر زور دیا کہ وہ اسرائیل کے ساتھ براہِ راست مذاکرات سے گریز کرے اور حزب اللہ کو بھی اس عمل میں شامل کیا جائے کیونکہ یہ جماعت عوامی نمائندگی رکھتی ہے۔
حزب اللہ کے 3 بڑے مطالبات
حزب اللہ کی قیادت نے جنگ بندی کے حوالے سے تین بنیادی شرائط پیش کی ہیں جن میں اسرائیلی حملوں کا مکمل خاتمہ، اسرائیلی فوج کی نقل و حرکت پر پابندی، اور 2 مارچ سے قبل کی صورتحال کی بحالی شامل ہے۔
حزب اللہ کے مطابق ان مطالبات کے بغیر جنگ بندی بے معنی ہے اور خطے میں پائیدار امن ممکن نہیں ہو سکتا۔
اسرائیل کا سخت مؤقف
دوسری جانب اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے واضح کیا ہے کہ لبنان میں حزب اللہ کو غیر مسلح کرنا اسرائیل کی بنیادی شرط ہے۔ ان کے مطابق جب تک یہ شرط پوری نہیں ہوتی، خطے میں پائیدار امن قائم نہیں ہو سکتا۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ اسرائیل حزب اللہ کے اس مطالبے کو تسلیم نہیں کرے گا جس میں اسرائیلی افواج کو سرحدی علاقوں سے پیچھے ہٹنے کا کہا گیا ہے۔
2 مارچ کے واقعات کا حوالہ
رپورٹس کے مطابق حزب اللہ نے 2 مارچ کو اسرائیل پر راکٹ اور ڈرون حملے کیے تھے، جس کے بعد اسرائیل نے لبنان میں فضائی کارروائیاں کیں۔ اسی پس منظر میں موجودہ کشیدگی کو ایک نئے مرحلے کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
امریکی کردار اور ٹرمپ کا بیان
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جنگ بندی کے اعلان کے بعد اسرائیلی وزیراعظم اور لبنانی صدر کا شکریہ ادا کیا ہے۔ ان کے مطابق وہ جلد دونوں ممالک کا دورہ کر سکتے ہیں تاکہ امن عمل کو آگے بڑھایا جا سکے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق جنگ بندی کے اعلان کے باوجود اسرائیل، لبنان اور حزب اللہ کے درمیان اختلافات برقرار ہیں، جس سے اس معاہدے کے مستقبل پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ فریقین کے سخت مؤقف کے باعث صورتحال مزید پیچیدہ ہو سکتی ہے۔