اسرائیل اور لبنان کے درمیان 10 روزہ جنگ بندی پر اتفاق ہوگیا،امریکی صدر ٹرمپ کا دعویٰ
یوتھ ویژن نیوز : (ویب ڈسک) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ اسرائیل اور لبنان کے درمیان 10 روزہ جنگ بندی پر اتفاق ہو گیا ہے، جو امریکی وقت کے مطابق شام 5 بجے سے نافذ العمل ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ یہ پیش رفت براہِ راست سفارتی رابطوں کے نتیجے میں ممکن ہوئی، جس میں دونوں ممالک کی اعلیٰ قیادت شامل تھی۔
جنگ بندی کا اعلان اور امریکی صدر دعویٰ
صدر ٹرمپ کے مطابق اسرائیل کے وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو اور لبنان کے صدر جوزف عون نے 10 روزہ جنگ بندی پر اتفاق کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ فیصلہ خطے میں کشیدگی کم کرنے اور امن کے لیے ایک اہم قدم ہے۔
ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ انہوں نے دونوں رہنماؤں سے براہِ راست بات چیت کی جس کے بعد جنگ بندی پر اتفاق ممکن ہوا۔
واشنگٹن میں اہم سفارتی ملاقات
امریکی صدر نے یہ بھی بتایا کہ اسرائیل اور لبنان کے نمائندوں کی 34 سال بعد پہلی بار واشنگٹن میں ملاقات ہوئی، جس میں امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو بھی شریک تھے۔ ان کے مطابق یہ ملاقات خطے میں سفارتی پیش رفت کا اہم حصہ ہے۔
حزب اللہ کا ذکر نہ ہونا سوالات کا باعث
ٹرمپ کے بیان میں لبنان کی مزاحمتی تنظیم حزب اللہ کا کوئی ذکر نہیں کیا گیا، حالانکہ اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان جھڑپیں جاری رہنے کی اطلاعات ہیں۔ اس پہلو نے جنگ بندی کے دائرہ کار پر سوالات بھی پیدا کیے ہیں۔
وائٹ ہاؤس میں مذاکرات کی دعوت
امریکی صدر نے لبنان کے صدر اور اسرائیلی وزیراعظم کو وائٹ ہاؤس میں مذاکرات کے لیے مدعو کیا ہے۔ ان کے مطابق دونوں فریق امن کے خواہاں ہیں اور امید ہے کہ طویل المدتی حل جلد سامنے آئے گا۔
امریکی قیادت کا کردار
صدر ٹرمپ نے امریکی نائب صدر جے ڈی وینس اور وزیر خارجہ مارکو روبیو کو ہدایت دی ہے کہ وہ جنگ بندی کے عمل کو آگے بڑھائیں اور فریقین کے درمیان رابطے کو برقرار رکھیں۔