یومِ پاکستان 2026 کی پریڈ منسوخ، حکومت کا کفایت شعاری کے تحت بڑا فیصلہ
یوتھ ویژن نیوز : (ویب ڈسک) حکومتِ پاکستان نے یوم پاکستان 2026 کے موقع پر ہونے والی مرکزی فوجی پریڈ اور اس سے منسلک تمام سرکاری تقریبات منسوخ کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ وزیراعظم آفس کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطابق یہ فیصلہ خلیجی تیل بحران اور حکومت کی جانب سے اختیار کیے گئے کفایت شعاری اقدامات کے تناظر میں کیا گیا ہے، جس کا مقصد قومی وسائل کے محتاط استعمال کو یقینی بنانا ہے۔
حکومتی ذرائع کے مطابق موجودہ معاشی حالات کے پیش نظر بڑے پیمانے کی تقریبات کے انعقاد سے گریز کو ضروری قرار دیا گیا ہے تاکہ مالی بوجھ کو کم کیا جا سکے اور ریاستی اخراجات کو ترجیحی بنیادوں پر منظم کیا جا سکے۔
کفایت شعاری پالیسی اور حکومتی حکمتِ عملی
اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ حکومت نے حالیہ معاشی چیلنجز، خصوصاً عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں اضافے اور خلیجی خطے میں جاری بحران کے اثرات کو مدنظر رکھتے ہوئے کفایت شعاری پالیسی کو مزید مؤثر بنانے کا فیصلہ کیا ہے۔ اسی سلسلے میں یوم پاکستان کی روایتی پریڈ، جو ہر سال مسلح افواج کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں اور قومی یکجہتی کی علامت سمجھی جاتی ہے، اس بار منعقد نہیں ہوگی۔
حکام کے مطابق یہ اقدام وقتی نوعیت کا ہے اور اس کا مقصد صرف موجودہ حالات میں قومی معیشت کو سہارا دینا ہے، جبکہ مستقبل میں حالات بہتر ہونے پر روایتی تقریبات کی بحالی پر غور کیا جا سکتا ہے۔
سادہ تقریبات کے ذریعے قومی دن منانے کا اعلان
اگرچہ مرکزی پریڈ اور دیگر بڑی تقریبات کو منسوخ کر دیا گیا ہے، تاہم حکومت نے واضح کیا ہے کہ یوم پاکستان کو مکمل طور پر نظر انداز نہیں کیا جائے گا بلکہ اسے سادگی اور وقار کے ساتھ منایا جائے گا۔ اس حوالے سے ملک بھر میں پرچم کشائی کی تقریبات منعقد کی جائیں گی، جن میں قومی یکجہتی، نظریاتی وابستگی اور ملک کے قیام کے مقاصد کو اجاگر کیا جائے گا۔ حکومتی مؤقف کے مطابق محدود پیمانے پر ہونے والی یہ تقریبات اس امر کو یقینی بنائیں گی کہ عوام کے دلوں میں اس دن کی اہمیت برقرار رہے اور قومی جذبہ کمزور نہ پڑے۔
وزارتوں اور اداروں کو ہدایات
وزیراعظم آفس کے اعلامیے میں تمام وزارتوں، ڈویژنز اور سرکاری محکموں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ یوم پاکستان کے موقع پر سادہ مگر باوقار تقریبات کا انعقاد کریں۔ اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ غیر ضروری اخراجات سے گریز کیا جائے اور تقریبات کو محدود مگر بامعنی رکھا جائے تاکہ اس دن کا اصل پیغام یعنی قومی اتحاد، استقامت اور نظریاتی وابستگی واضح طور پر سامنے آ سکے۔ ماہرین کے مطابق حکومت کا یہ فیصلہ نہ صرف موجودہ معاشی حالات کی عکاسی کرتا ہے بلکہ یہ ایک علامتی قدم بھی ہے جس کے ذریعے عوام کو بھی کفایت شعاری اپنانے کا پیغام دیا جا رہا ہے۔