امریکی خام تیل کی قیمت میں 2 گنا اضافہ
یوتھ ویژن نیوز : (ویب ڈسک) عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں ایک بار پھر اضافہ دیکھا گیا ہے جہاں امریکی خام تیل کی قیمت میں تقریباً دو فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق امریکی خام تیل کی قیمت بڑھ کر 102 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی ہے جبکہ برینٹ خام تیل کی قیمت بھی بڑھتے ہوئے 106 ڈالر فی بیرل کی سطح پر آ گئی ہے۔ ماہرین کے مطابق عالمی سیاسی کشیدگی اور اہم سمندری راستوں سے متعلق خدشات توانائی مارکیٹ پر براہ راست اثر ڈال رہے ہیں۔
رپورٹس کے مطابق بڑی عالمی تیل کمپنیوں نے بھی صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے امریکی انتظامیہ کو خبردار کیا ہے کہ توانائی کا بحران مزید شدت اختیار کر سکتا ہے۔ امریکی میڈیا کے مطابق بڑی تیل کمپنیوں کے سربراہان نے حکومت کو آگاہ کیا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور اہم تجارتی راستوں کی بندش عالمی توانائی سپلائی کے لیے خطرہ بن سکتی ہے۔
مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی بڑھ گئی، دو ہفتوں میں 13 امریکی فوجی ہلاک
امریکی اخبار کی رپورٹ کے مطابق ایکسون، چیورون اور کونوکو فلپس جیسی بڑی توانائی کمپنیوں کے سربراہان نے خبردار کیا ہے کہ اگر آبنائے ہرمز میں کشیدگی برقرار رہی یا یہ اہم سمندری راستہ بند ہوا تو عالمی توانائی بحران مزید سنگین ہو سکتا ہے۔
ماہرین کے مطابق آبنائے ہرمز عالمی تیل کی ترسیل کے لیے انتہائی اہم راستہ ہے جہاں سے دنیا کی بڑی مقدار میں خام تیل مختلف ممالک کو سپلائی کیا جاتا ہے۔ اس راستے میں کسی بھی قسم کی رکاوٹ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں تیزی کا باعث بن سکتی ہے۔
ادھر عالمی سطح پر اس صورتحال سے نمٹنے کے لیے سفارتی کوششیں بھی جاری ہیں، تاہم اب تک کسی بڑے ملک کی جانب سے عملی اقدام سامنے نہیں آیا۔ مبصرین کے مطابق توانائی کی عالمی منڈی اس وقت غیر یقینی صورتحال کا شکار ہے اور آنے والے دنوں میں قیمتوں میں مزید اتار چڑھاؤ دیکھنے کو مل سکتا ہے۔