آبنائے ہرمز پر ٹرمپ کی اپیل، عالمی ردعمل محتاط

آبنائے ہرمز، ٹرمپ اپیل، عالمی ردعمل، مشرق وسطیٰ کشیدگی، عالمی توانائی راستہ

یوتھ ویژن نیوز : (ویب ڈسک) آبنائے ہرمز کو کھلا رکھنے کے معاملے پر امریکا کی جانب سے عالمی تعاون کی اپیل کے باوجود کئی بڑے ممالک نے محتاط یا خاموش ردعمل اختیار کیا ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی درخواست کے بعد خطے کی صورتحال پر عالمی سطح پر سفارتی سرگرمیاں ضرور جاری ہیں، تاہم عملی اقدامات کے حوالے سے واضح پیش رفت سامنے نہیں آئی۔

رپورٹس کے مطابق جاپان نے فی الحال آبنائے ہرمز میں اپنے بحری جہاز بھیجنے سے انکار کر دیا ہے۔ جاپان کی حکمراں جماعت کے پالیسی چیف کا کہنا ہے کہ جب تک خطے میں انتہائی سنگین صورتحال پیدا نہ ہو، اس وقت تک جاپانی بحری جہاز اس اہم سمندری راستے پر تعینات نہیں کیے جائیں گے۔

چین نے بھی اس معاملے پر محتاط موقف اختیار کیا ہے۔ واشنگٹن میں چینی سفارت خانے کے ترجمان کے مطابق بیجنگ اس صورتحال میں متعلقہ فریقین کے ساتھ رابطے مضبوط بنانے اور کشیدگی کم کرنے کے لیے تعمیری کردار ادا کرنے پر توجہ دے رہا ہے۔

آبنائے ہرمز بند ہوئی تو موت اور آگ برسے گی، ڈونلڈ ٹرمپ کی ایران کو دھمکی

دوسری جانب امریکی وزیر توانائی کرس رائٹ نے بھی چین سے تعاون کی اپیل کی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکا کو توقع ہے کہ چین آبنائے ہرمز کو کھلا رکھنے کے لیے تعمیری شراکت دار کا کردار ادا کرے گا، کیونکہ یہ عالمی توانائی کی ترسیل کے لیے نہایت اہم راستہ ہے۔

برطانیہ کی جانب سے بھی صورتحال پر مشاورت جاری ہے۔ برطانوی وزیر توانائی ایڈ ملی بینڈ کے مطابق برطانیہ امریکا اور دیگر اتحادیوں کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہے اور ممکنہ طور پر بارودی سرنگیں تلاش کرنے والے ڈرونز بھی تعینات کیے جا سکتے ہیں تاکہ سمندری راستے کی سکیورٹی کو یقینی بنایا جا سکے۔

جنوبی کوریا نے بھی اس معاملے پر محتاط ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس نے امریکی اپیل کا نوٹس لیا ہے اور مشرق وسطیٰ کی بدلتی ہوئی صورتحال کا قریب سے جائزہ لیا جا رہا ہے۔

ادھر فرانس پہلے ہی واضح کر چکا ہے کہ وہ خطے میں اپنے بحری جہاز بھیجنے کے حوالے سے فی الحال کوئی قدم نہیں اٹھائے گا۔ مبصرین کے مطابق مختلف ممالک کا محتاط رویہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ آبنائے ہرمز کے معاملے پر عالمی برادری کسی بھی بڑے فوجی اقدام سے پہلے سفارتی اور سیاسی حل کو ترجیح دے رہی ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں