اسرائیل کا سپریم لیڈر خامنہ ای سمیت اہم ایرانی قیادت کو نشانہ بنانے کا دعویٰ، تہران کی سخت تردید۔

ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کی علامتی تصویر۔

یوتھ ویژن نیوز : (محمد عباس سے) اسرائیل کا ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای سمیت اعلیٰ قیادت کو نشانہ بنانے کا دعویٰ، تہران نے تمام الزامات مسترد کر دیے۔

یروشلم/تہران: مشرق وسطیٰ میں جاری شدید کشیدگی نے اس وقت ایک نیا موڑ اختیار کر لیا جب اسرائیلی وزیر اعظم نے ایک ویڈیو پیغام کے ذریعے ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای اور دیگر اہم عسکری قیادت کو نشانہ بنانے کا سنسنی خیز دعویٰ کیا۔ اسرائیلی حکام کے مطابق، فضائیہ کے تقریباً 200 طیاروں نے ایران بھر میں 500 سے زائد اہداف پر بمباری کی، جس میں پاسدارانِ انقلاب کے مراکز اور جوہری تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا۔ تاہم، تہران نے ان دعوؤں کو یکسر مسترد کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ ایرانی قیادت مکمل طور پر محفوظ ہے اور دشمن اپنے مذموم مقاصد میں ناکام رہا ہے۔

اسرائیلی حملوں کی شدت اور دعوے

اسرائیلی میڈیا رپورٹس کے مطابق، یہ آپریشن حالیہ تاریخ کا سب سے بڑا فضائی حملہ تھا جس میں تہران کے قریب واقع خامنہ ای کے رہائشی کمپاؤنڈ پر درجنوں بم گرائے گئے۔ اسرائیلی وزیر اعظم نے خبردار کیا ہے کہ یہ محض آغاز ہے اور آنے والے دنوں میں "دہشت گرد حکومت” کے مزید ہزاروں اہداف کو نشانہ بنایا جائے گا۔ رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ پاسدارانِ انقلاب کے سربراہ محمد پاکپور اور وزیر دفاع امیر ناصرزادہ ان حملوں میں ہلاک ہو چکے ہیں، لیکن آزاد ذرائع سے ان ہلاکتوں کی تصدیق تاحال ممکن نہیں ہو سکی۔

ایران کا جوابی موقف اور زمینی حقائق

دوسری جانب، تہران سے موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق ایرانی حکام نے اسرائیلی دعوؤں کو "نفسیاتی جنگ” قرار دے کر مسترد کر دیا ہے۔ ایرانی ذرائع ابلاغ کا کہنا ہے کہ آیت اللہ خامنہ ای کو حملے سے قبل ہی ایک انتہائی محفوظ مقام پر منتقل کر دیا گیا تھا۔ صدارتی محل کے قریب میزائل گرنے کی تصدیق تو ہوئی ہے، لیکن صدر مسعود پزشکیان اور دیگر اعلیٰ حکام محفوظ بتائے جاتے ہیں۔ ایرانی وزارتِ خارجہ کے مطابق، ان حملوں میں سینکڑوں عام شہری جاں بحق اور زخمی ہوئے ہیں، جسے عالمی قوانین کی سنگین خلاف ورزی قرار دیا گیا ہے۔

عالمی ردعمل اور امریکہ کا کردار

گزشتہ روز شروع ہونے والی اس کارروائی میں امریکہ اور اسرائیل کے درمیان قریبی تعاون کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں۔ بحری اور فضائی راستوں سے کیے گئے ان حملوں نے پورے خطے کو ایک وسیع تر جنگ کے دہانے پر لا کھڑا کیا ہے۔ عالمی برادری نے فریقین سے تحمل کا مطالبہ کیا ہے، تاہم زمینی صورتحال بتاتی ہے کہ تنازعہ شدت اختیار کر رہا ہے۔ "یوتھ ویژن” کی ٹیم اس بدلتی ہوئی صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے اور تازہ ترین اپ ڈیٹس قارئین تک پہنچاتی رہے گی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں