پاکستان کا کردار قابلِ تعریف، امریکا۔ایران مذاکرات میں نئے ثالث کی ضرورت نہیں: قطر
یوتھ ویژن نیوز : (ویب ڈسک) اسلام آباد: قطر نے امریکا اور ایران کے درمیان جاری سفارتی عمل میں پاکستان کے کردار کو سراہتے ہوئے واضح کیا ہے کہ موجودہ مرحلے پر کسی نئے ثالث کی ضرورت نہیں۔ قطری وزارتِ خارجہ کے ترجمان ڈاکٹر ماجد الانصاری نے کہا ہے کہ خطے میں جنگ بندی کو پائیدار بنانے اور کشیدگی کم کرنے کے لیے موجودہ سفارتی فریم ورک مؤثر انداز میں آگے بڑھ رہا ہے۔
پاکستان کی سفارتی کوششوں کی کھلی حمایت
قطری ترجمان نے ہفتہ وار میڈیا بریفنگ میں ایران کے ساتھ کسی بھی خفیہ معاہدے یا حملے روکنے کے لیے کسی الگ ڈیل کی خبروں کو مسترد کر دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان، امریکا اور دیگر برادر ممالک کے ساتھ اعلیٰ سطح کے رابطے جاری ہیں اور یہی سفارتی چینل اس وقت خطے میں امن کے لیے سب سے مؤثر راستہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ موجودہ مذاکراتی عمل میں پاکستان کی میزبانی اور ثالثی کو خطے میں استحکام کے لیے قابلِ اعتماد اور نتیجہ خیز پیش رفت سمجھا جا رہا ہے، اس لیے کسی نئے ثالث کو شامل کرنے کی ضرورت محسوس نہیں کی جا رہی۔
آبنائے ہرمز اور علاقائی سلامتی پر مؤقف
ڈاکٹر ماجد الانصاری نے آبنائے ہرمز کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے کہا کہ کسی ایک فریق کی اجارہ داری ناقابلِ قبول ہے۔ ان کے مطابق عالمی تجارت کے اس اہم راستے کی بحالی کے لیے سفارتی کوششیں ناگزیر ہیں اور قطر ہر ایسے اقدام کی حمایت جاری رکھے گا جو کشیدگی میں کمی اور مستقل امن کی راہ ہموار کرے۔
انہوں نے واضح کیا کہ قطر کی موجودہ ترجیح اپنی قومی سلامتی، دفاعی تیاریوں اور خطے میں استحکام کے لیے سفارتی تعاون کو مضبوط بنانا ہے۔
اسلام آباد بطور سفارتی مرکز ابھرتا ہوا
سفارتی مبصرین کے مطابق قطر کا یہ بیان پاکستان کے لیے ایک اہم سفارتی کامیابی تصور کیا جا رہا ہے۔ امریکا۔ایران کشیدگی کے بعد اسلام آباد میں جاری مذاکراتی عمل کو خلیجی حمایت ملنا اس بات کا اشارہ ہے کہ پاکستان ایک قابلِ اعتماد سفارتی مرکز کے طور پر ابھر رہا ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر یہی رفتار برقرار رہی تو موجودہ جنگ بندی کو دیرپا امن میں بدلنے کے امکانات مزید روشن ہو سکتے ہیں۔