بورڈ آف پیس اور ابراہام معاہدہ: پاکستان کا واضح مؤقف، دفتر خارجہ کی دوٹوک وضاحت
یوتھ ویژن نیوز : (مس کنول فرید سے ) اسلام آباد۔ دفتر خارجہ نے بورڈ آف پیس سے متعلق گردش کرنے والی خبروں کی وضاحت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسے ابراہام معاہدے سے جوڑنا درست نہیں۔ ترجمان دفتر خارجہ طاہر اندرابی نے ہفتہ وار میڈیا بریفنگ میں دوٹوک مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان ابراہام معاہدے کا حصہ نہیں بنے گا اور نہ ہی اس حوالے سے کسی سطح پر کوئی فیصلہ زیر غور ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کی خارجہ پالیسی شفاف، اصولی اور قومی مفاد پر مبنی ہے، جس میں کسی ابہام کی گنجائش نہیں رکھی جاتی۔
ترجمان نے واضح کیا کہ بعض حلقوں کی جانب سے بورڈ آف پیس کو عالمی سیاسی معاہدوں سے منسلک کرنا حقائق کے منافی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان نے بین الاقوامی استحکام فورس میں شمولیت کا بھی کوئی فیصلہ نہیں کیا اور اس نوعیت کی تمام خبریں قیاس آرائیوں پر مبنی ہیں۔ دفتر خارجہ نے اس موقع پر یہ بھی باور کرایا کہ پاکستان علاقائی امن، مکالمے اور سفارتی حل پر یقین رکھتا ہے، تاہم کسی ایسے فریم ورک کا حصہ نہیں بنتا جو اس کے اصولی مؤقف سے متصادم ہو۔
عالمی سفارتی سرگرمیوں پر بات کرتے ہوئے ترجمان نے بتایا کہ وزیراعظم شہباز شریف نے ورلڈ اکنامک فورم کے سالانہ اجلاس میں شرکت کے لیے ڈیووس کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے مختلف عالمی رہنماؤں اور اداروں کے سربراہان سے ملاقاتیں کیں۔ ان ملاقاتوں میں عالمی معیشت، ترقی پذیر ممالک کو درپیش چیلنجز اور باہمی تعاون کے امکانات پر سنجیدہ اور تعمیری گفتگو ہوئی۔ ترجمان کے مطابق وزیراعظم کی آئی ایم ایف کی منیجنگ ڈائریکٹر سے ملاقات میں پاکستان کی معاشی صورتحال، اصلاحاتی اقدامات اور مستقبل کی حکمت عملی زیر بحث آئی۔
ڈیووس فورم کے موقع پر وزیراعظم نے غزہ سے متعلق پیش رفت پر خلیجی ممالک کے رہنماؤں سے بھی مشاورت کی۔ اس مشاورت کے بعد پاکستان سمیت آٹھ مسلم ممالک نے غزہ بورڈ کے حوالے سے ایک مشترکہ اعلامیہ جاری کیا، جس میں انسانی ہمدردی، امن کے قیام اور سفارتی کوششوں پر زور دیا گیا۔ ترجمان نے کہا کہ پاکستان اس معاملے پر ایک متوازن اور ذمہ دارانہ کردار ادا کر رہا ہے۔
ترجمان نے مزید بتایا کہ صدر مملکت آصف علی زرداری نے متحدہ عرب امارات کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے اماراتی قیادت سے ملاقاتوں میں دوطرفہ تعلقات، سرمایہ کاری اور اقتصادی شراکت داری کے فروغ پر گفتگو کی۔ اسی طرح نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے بھی ورلڈ اکنامک فورم میں شرکت کے دوران متعدد عالمی رہنماؤں سے ملاقاتیں کیں، جبکہ بعد ازاں متحدہ عرب امارات میں اہم کاروباری شخصیات سے ملاقاتوں میں تجارتی اور سرمایہ کاری تعاون کو وسعت دینے پر تبادلہ خیال ہوا۔
امریکی ٹریول ایڈوائزری سے متعلق سوال پر ترجمان دفتر خارجہ نے قدرے وضاحتی انداز میں کہا کہ ایڈوائزری میں کوئی منفی تبدیلی نہیں کی گئی بلکہ محض اپ ڈیٹ کیا گیا ہے۔ ان کے مطابق اس اپ ڈیٹ کے بعد مزید امریکی شہری پاکستان کا سفر کر سکیں گے۔ ترجمان نے زور دے کر کہا کہ پاکستان بین الاقوامی مسافروں کے لیے محفوظ، پرامن اور کھلا ملک ہے اور اس حوالے سے امریکہ سمیت تمام شراکت داروں سے سفارتی رابطے جاری ہیں۔