سالِ نو 2026 کا آغاز، آکلینڈ میں شاندار آتش بازی

آکلینڈ میں سالِ نو 2026 کا شاندار استقبال، آتش بازی نے توجہ حاصل کر لی

یوتھ ویژن نیوز : (قاری عاشق حُسین سے)دنیا بھر میں سال 2026 کے استقبال کی تقریبات شروع، آکلینڈ میں آتش بازی جبکہ کریباتی نے سب سے پہلے نیا سال خوش آمدید کہا۔

دنیا بھر میں سال 2025 اختتام کی جانب بڑھ چکا ہے اور مختلف ممالک میں سالِ نو 2026 کے استقبال کی تیاریاں مکمل کر لی گئی ہیں۔ پاکستان سمیت کئی ممالک میں آج رات نئے سال کو خوش آمدید کہا جائے گا، تاہم عالمی وقت کے فرق کے باعث دنیا کے مختلف حصوں میں نئے سال کا آغاز الگ الگ اوقات میں ہو رہا ہے۔

اسی وجہ سے ہر سال سب سے پہلے نئے سال میں داخل ہونے والے ممالک عالمی توجہ کا مرکز بن جاتے ہیں۔ دنیا میں سب سے پہلے سالِ نو 2026 کا آغاز بحرالکاہل میں واقع ملک کریباتی سے ہوا۔ کریباتی کے مشرقی حصے میں واقع جزیرہ کیریٹی ماٹی، جسے کرسمس آئی لینڈ بھی کہا جاتا ہے، وہ مقام ہے جہاں نیا سال سب سے پہلے داخل ہوتا ہے۔

پاکستانی وقت کے مطابق یہاں دوپہر تین بجے سال 2026 شروع ہوا، جبکہ مقامی وقت کے مطابق رات کے بارہ بج رہے تھے۔ اسی خصوصیت کی بنا پر کریباتی کو دنیا میں نئے سال کا پہلا میزبان کہا جاتا ہے۔

پاکستانی وقت کے مطابق شام چار بجے جیسے ہی گھڑی نے نیا سال دکھایا، آکلینڈ میں آسمان رنگ و نور سے بھر گیا۔ شہر کے مرکزی علاقوں میں شاندار آتش بازی کا مظاہرہ کیا گیا، جسے دیکھنے کے لیے بڑی تعداد میں لوگ جمع ہوئے۔ آکلینڈ میں ہونے والی یہ آتش بازی ہمیشہ کی طرح عالمی میڈیا اور آن لائن پلیٹ فارمز پر نمایاں رہی۔

آکلینڈ کے بعد آسٹریلیا کے مختلف شہروں میں سالِ نو کے استقبال کی تیاریاں مکمل تھیں، جہاں بڑے پیمانے پر عوامی تقریبات اور آتش بازی کا اہتمام کیا جاتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ جاپان، جنوبی کوریا اور دیگر ایشیائی ممالک میں بھی نئے سال کے موقع پر روایتی رسومات اور ثقافتی تقاریب منعقد کی جاتی ہیں، جن میں عبادات، اجتماعات اور خاندانی تقریبات شامل ہوتی ہیں۔

یورپ اور مشرقِ وسطیٰ کے ممالک میں سالِ نو کا آغاز نسبتاً بعد میں ہوتا ہے، جبکہ دنیا کے مغربی حصے میں واقع امریکا سب سے آخر میں نئے سال میں داخل ہوتا ہے۔ امریکا کے شہر نیویارک میں سالِ نو کی تقریبات کے لیے تمام انتظامات مکمل کر لیے گئے ہیں، جہاں ٹائمز اسکوائر میں نصب مشہور کرسٹل بال کی آزمائش بھی کی جا چکی ہے۔

ہر سال کی طرح اس موقع پر لاکھوں افراد کی نیویارک میں شرکت متوقع ہے، جبکہ دنیا بھر میں کروڑوں لوگ ٹیلی وژن اور آن لائن ذرائع سے یہ مناظر دیکھتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق دنیا میں نئے سال کے آغاز کا یہ فرق عالمی ٹائم زون نظام کا نتیجہ ہے، جس کے تحت زمین کو مختلف حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔ اسی نظام کے باعث ایک ہی دن میں مختلف اوقات پر دنیا کے ممالک نئے سال میں داخل ہوتے ہیں اور ہر قوم اپنی ثقافت اور روایت کے مطابق اس کا استقبال کرتی ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں