پاکستان میں نئی انٹرنیٹ کیبل—اسپیڈ، بینڈوڈتھ اور کنیکٹیویٹی میں بڑا بریک تھرو!
یوتھ ویژن نیوز: (ٹیک نمائدہ برائے عفان گوہر سے) پاکستان نے SEA-ME-WE 6 سب میرین کیبل سسٹم کی تنصیب کے ساتھ عالمی ڈیجیٹل کنیکٹیویٹی میں اہم پیش رفت کی ہے، جس سے ملک کی انٹرنیٹ اسپیڈ، بینڈوڈتھ، اور بین الاقوامی ڈیٹا روٹنگ میں نمایاں بہتری متوقع ہے۔ وزارتِ انفارمیشن ٹیکنالوجی کے مطابق یہ 19,200 کلومیٹر طویل ہائی کیپیسٹی فائبر نیٹ ورک ہے جو پاکستان کو سنگاپور سے فرانس تک ایشیا، مشرقِ وسطیٰ اور یورپ کے اہم ممالک سے جوڑتا ہے۔
یہ نئی کیبل 100 Tbps سے زائد کی مجموعی استعداد کی حامل ہے اور خطے کے سب سے کم تاخیر والے ڈیٹا روٹس میں سے ایک فراہم کرے گی، جس سے ویڈیو اسٹریمنگ، گیمنگ، کلاؤڈ سروسز، ڈیٹا سینٹرز، فِن ٹیک، ای کامرس اور ملکی ڈیجیٹل معیشت کو بڑا فائدہ پہنچے گا۔
وزارت آئی ٹی کے مطابق اس جدید ترین سسٹم کے کنسورشیم میں پاکستان کی ٹرانس ورلڈ ایسوسی ایٹس سمیت کئی اہم عالمی ادارے شامل ہیں، جن میں بنگلہ دیش سب میرین کیبل کمپنی، بھارتی ایئرٹیل، دھیراگو، جبوتی ٹیلی کام، موبیلی، اورنج، سنگٹیل، سری لنکا ٹیلی کام، ٹیلی کام مصر، ٹیلی کام ملائیشیا اور ٹیلن شامل ہیں۔
نئے سسٹم میں فائبر کے جوڑے اور صلاحیت پچھلے ورژنز سے دوگنا زیادہ ہے، جبکہ متنوع جغرافیائی کراسنگز اور مصر کے ذریعے اضافی لینڈنگ پوائنٹس اسے ایشیا–یورپ ڈیٹا روٹس کے لیے زیادہ محفوظ، ریزیلینٹ اور مستقبل کے لیے موزوں بناتے ہیں۔ یہ سسٹم کم فالٹ ریٹ، زیادہ اسکیل ایبلیٹی اور نیٹ ورک کی کم آپریشنل لاگت فراہم کرتا ہے۔
اس منصوبے کے تحت پاکستان کے لیے 13.2 Tbps صلاحیت مختص کی گئی ہے، جس میں سے 4 Tbps کو فوری طور پر فعال کیا جا رہا ہے۔ ابتدائی ایکٹیویشن کا مقصد ملک کی بین الاقوامی بینڈوڈتھ بڑھانا اور کلاؤڈ سروسز، ای کامرس، ڈیجیٹل ادائیگیوں اور آن لائن اسٹریمنگ جیسی سرگرمیوں میں مؤثر بہتری لانا ہے۔