غزہ میں امن کا تاریخی لمحہ ! امریکا سمیت متعدد ممالک نے شرم الشیخ میں امن معاہدے پر دستخط کر دیئے، (3)تیسری جنگِ عظیم کا خطرہ ختم
شرم الشیخ میں غزہ امن معاہدے پر امریکا، ترکیہ، قطر، مصر سمیت بیس سے زائد ممالک کے رہنماؤں کے دستخط، شہباز شریف نے پاکستان کی نمائندگی کی۔
یوتھ ویژن نیوز : (نمائدہ خصوصی امجد محمود بھٹی سے) مشرقِ وسطیٰ میں امن کی ایک نئی صبح طلوع ہوگئی۔ مصر کے شہر شرم الشیخ میں ہونے والے غزہ امن سربراہی اجلاس میں امریکا، ترکیہ، قطر، مصر اور دیگر بیس سے زائد ممالک کے رہنماؤں نے غزہ امن معاہدے پر باضابطہ دستخط کر دیے۔ اس تاریخی تقریب میں وزیراعظم محمد شہباز شریف نے بھی پاکستان کی نمائندگی کی۔
اجلاس میں شرکت کرنے والے عالمی رہنماؤں میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ، مصری صدر عبدالفتاح السیسی، ترک صدر رجب طیب ایردوان، امیر قطر شیخ تمیم بن حمد الثانی، فلسطینی صدر محمود عباس، اور کئی یورپی و عرب ممالک کے سربراہان شامل تھے۔ تقریب کا آغاز شریک ممالک کے سربراہان کے اجتماعی گروپ فوٹو سے ہوا، جسے عالمی میڈیا نے ” امن کی تصویر قرار دیا“۔
مزید پڑھیں: غزہ جنگ بندی: وزیرِ اعظم شہباز شریف شرم الشیخ پہنچ گئے، عالمی رہنماؤں کے ساتھ تاریخی امن معاہدے پر دستخط آج متوقع
اس موقع پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے خطاب میں کہا کہ آج دنیا نے ایک ایسا دن دیکھا ہے جو تاریخ میں سنہری حروف سے لکھا جائے گا۔ اس معاہدے نے نہ صرف مشرقِ وسطیٰ کو ایک نئی سمت دی ہے بلکہ تیسری عالمی جنگ کے خطرے کو بھی ختم کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایسے کامیاب دن شاید پہلے کبھی نہیں آئے۔ یہ موقع مصر، ترکیہ، قطر اور دیگر دوست ممالک کی قیادت اور تعاون کے بغیر ممکن نہیں تھا۔
ٹرمپ نے اعلان کیا کہ امریکا خطے میں امن کے قیام اور غزہ کی تعمیر نو کے لیے مکمل تعاون جاری رکھے گا۔ ان کے بقول، ”ہم سب مل کر غزہ کو دوبارہ آباد کریں گے، بچوں کے لیے مستقبل بنائیں گے اور نفرت کی جگہ امید کو جگہ دیں گے۔“
غزہ امن معاہدے کے تحت فوری جنگ بندی پر اتفاق کیا گیا ہے۔ معاہدے کے مطابق، اسرائیلی فورسز یرغمالیوں کی رہائی کی تیاری کے لیے طے شدہ لائنوں پر واپس چلی جائیں گی جبکہ فلسطینی قیدیوں اور اسرائیلی یرغمالیوں کے تبادلے کا طریقہ کار بھی طے پا گیا ہے۔ معاہدے میں یہ واضح کیا گیا ہے کہ اسرائیل غزہ پر قبضہ یا الحاق نہیں کرے گا، اور کسی شہری کو غزہ چھوڑنے پر مجبور نہیں کیا جائے گا۔
مزید پڑھیں: وزیر اعظم شہباز شریف اور فلسطینی صدر محمود عباس کے درمیان اہم ملاقات،غزہ جنگ بندی پر اطمینان کا اظہار
فلسطینی علاقوں میں فوری انسانی امداد کی فراہمی معاہدے کی اولین ترجیح قرار پائی ہے۔ امداد کے لیے مصر، قطر اور اقوامِ متحدہ کی مشترکہ کمیٹی قائم کی جائے گی، جو اسپتالوں، اسکولوں اور پناہ گزین کیمپوں میں ہنگامی امداد پہنچانے کی نگرانی کرے گی۔
ایک اور اہم شق کے مطابق، غزہ میں غیر سیاسی، ٹیکنوکریٹک عبوری حکومت قائم کی جائے گی جو مقامی اور بین الاقوامی ماہرین پر مشتمل ہوگی۔ یہ حکومت تعمیرِ نو، بنیادی ڈھانچے کی بحالی، اور اقتصادی سرگرمیوں کے فروغ کے لیے کام کرے گی۔
معاہدے میں امریکی صدر ٹرمپ کے “غزہ اقتصادی ترقیاتی منصوبے” کو بھی شامل کیا گیا ہے، جس کے تحت اگلے پانچ سالوں میں غزہ کی تعمیر نو، انفراسٹرکچر، تعلیم اور صحت کے شعبوں میں اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کی جائے گی۔“
وزیراعظم محمد شہباز شریف نے اجلاس میں پاکستان کی نمائندگی کرتے ہوئے امن معاہدے کو تاریخی قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان ہمیشہ فلسطینی عوام کے ساتھ کھڑا رہا ہے۔ آج کا دن اس حقیقت کا ثبوت ہے کہ اگر عالمی برادری متحد ہو تو کوئی مسئلہ حل طلب نہیں رہتا۔ ”انہوں نے امریکی صدر ٹرمپ اور مصری صدر عبدالفتاح السیسی کی کوششوں کو سراہا اور کہا کہ “یہ امن صرف غزہ کے لیے نہیں بلکہ پوری انسانیت کے لیے ہے۔“
تقریب کے دوران شہباز شریف اور ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان خوشگوار جملوں کا تبادلہ بھی ہوا۔ دونوں رہنماؤں نے ایک دوسرے کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کیا۔ امریکی صدر نے وزیراعظم پاکستان کی “امن کے لیے آواز” کو سراہا، جبکہ شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان خطے میں امن و استحکام کے لیے ہر ممکن تعاون جاری رکھے گا۔“
شرم الشیخ کانفرنس میں شرکت کرنے والے دیگر رہنماؤں میں فرانس، برطانیہ، اردن، کویت، بحرین، انڈونیشیا، آذربائیجان، اٹلی، اسپین، آرمینیا سمیت متعدد ممالک کے وزرائے اعظم اور صدور شامل تھے۔ سبھی رہنماؤں نے مشترکہ طور پر کہا کہ یہ معاہدہ مشرقِ وسطیٰ کے لیے ایک نئی امن روڈ میپ ثابت ہوگا۔
عالمی مبصرین کے مطابق، غزہ امن معاہدہ نہ صرف خطے میں سیاسی استحکام لائے گا بلکہ عالمی معیشت پر بھی مثبت اثر ڈالے گا۔ تیل، گیس اور تجارتی راہداریوں کی بحالی کے امکانات بڑھ گئے ہیں۔
اقوامِ متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے بھی بیان جاری کرتے ہوئے معاہدے کو ”دنیا کے لیے امید کی کرن “ قرار دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ غزہ میں برسوں سے جاری انسانی المیے کے خاتمے کے لیے یہ معاہدہ پہلا عملی قدم ہے۔