ایوانِ صدر میں اعلیٰ سطحی ملاقاتیں: صدر آصف زرداری سے ترکیہ اور آذربائیجان کے رہنماؤں کی ملاقات، علاقائی تعاون کے نئے دور کا آغاز
صدر آصف زرداری سے ترکیہ اور آذربائیجان کے پارلیمانی رہنماؤں کی ملاقات، اقتصادی تعاون اور علاقائی استحکام کے لیے قریبی اشتراک کے عزم کا اعادہ۔
یوتھ ویژن نیوز : (ثاقب ابراہیم غوری سے ) صدرِ مملکت آصف علی زرداری سے ترکیہ کی گرینڈ نیشنل اسمبلی کے اسپیکر ڈاکٹر نعمان کرتلمش اور آذربائیجان کی ملی مجلس کی چیئرپرسن صاحبہ غفار نے ایوانِ صدر اسلام آباد میں الگ الگ ملاقاتیں کیں۔ ملاقاتوں میں تینوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تعلقات، اقتصادی تعاون، علاقائی استحکام اور مشترکہ ترقی کے منصوبوں پر تفصیلی بات چیت کی گئی۔
صدرِ مملکت نے معزز مہمانوں کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان، ترکیہ اور آذربائیجان کے درمیان تعلقات محض سفارتی نہیں بلکہ برادرانہ اور تاریخی بنیادوں پر استوار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ”ہمارا تعاون خطے میں امن، ترقی اور خوشحالی کے مشترکہ ویژن کی عکاسی کرتا ہے۔“
صدر زرداری نے اقتصادی تعلقات کے فروغ پر زور دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان چاہتا ہے کہ تینوں ممالک کے درمیان تجارتی حجم اور سرمایہ کاری کو نئے بلندیوں تک پہنچایا جائے۔ انہوں نے ترکیہ کی جانب سے پاکستان کے خصوصی اقتصادی زونز میں بڑھتی دلچسپی کو خوش آئند قرار دیا۔ صدر نے اس موقع پر ترکیہ کے صدر رجب طیب ایردوان کے نام سے منسوب ”اسپیشل انڈسٹریل زون“ کے قیام کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ ”یہ منصوبہ دونوں ممالک کی دوستی اور باہمی اعتماد کا مظہر ہوگا۔“
مزید پڑھیں : صدر مملکت آصف زرداری کا دو ٹوک مؤقف: ’’پاکستان اپنی خودمختاری پر کسی قیمت پر سمجھوتہ نہیں کرے گا‘‘
ملاقات میں پاکستان، ترکیہ اور آذربائیجان کے درمیان انفراسٹرکچر، ٹرانسپورٹ اور توانائی کے شعبوں میں اشتراکِ عمل بڑھانے پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔ صدر زرداری نے کہا کہ “استنبول۔تہران۔اسلام آباد ریلوے کوریڈور” اور “بین الاقوامی شمال جنوب ٹرانسپورٹ کوریڈور” جیسے منصوبے نہ صرف علاقائی تجارت کے فروغ کا ذریعہ ہیں بلکہ وسطی ایشیا اور جنوبی ایشیا کو ملانے والے اہم پل کی حیثیت رکھتے ہیں۔
صدرِ مملکت نے دونوں ممالک کے رہنماؤں کو پاکستان میں سرمایہ کاری کے مواقع سے آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ “پاکستان ٹیکنالوجی، توانائی، زراعت اور سیاحت کے شعبوں میں بیرونی سرمایہ کاروں کے لیے پُرکشش منزل بن چکا ہے۔ ترکیہ اور آذربائیجان کے سرمایہ کار یہاں مختلف منصوبوں میں شمولیت اختیار کر کے باہمی مفاد حاصل کر سکتے ہیں۔”
انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان خطے میں پائیدار امن اور استحکام کے لیے تعاون پر مبنی سفارتکاری پر یقین رکھتا ہے۔ ”ہم سمجھتے ہیں کہ ترقی کا واحد راستہ علاقائی اتحاد، رابطہ کاری اور باہمی احترام میں ہے۔ پاکستان، ترکیہ اور آذربائیجان کا اتحاد مستقبل میں خطے کی اقتصادی سمت متعین کرے گا۔“
ترکیہ کی گرینڈ نیشنل اسمبلی کے اسپیکر ڈاکٹر نعمان کرتلمش نے اس موقع پر کہا کہ ترکیہ پاکستان کو ہمیشہ ایک قابلِ اعتماد دوست اور برادر ملک کے طور پر دیکھتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ”ہم پاکستان کے ساتھ ہر شعبے میں تعاون بڑھانے کے خواہاں ہیں، خصوصاً تعلیم، ٹیکنالوجی، اور دفاعی صنعت کے شعبے میں۔“
اسی طرح آذربائیجان کی ملی مجلس کی چیئرپرسن صاحبہ غفار نے صدرِ مملکت کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور آذربائیجان کے تعلقات باہمی اعتماد، احترام اور امتِ مسلمہ کے مشترکہ مفادات پر مبنی ہیں۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ دونوں ممالک اپنی پارلیمنٹری ڈپلومیسی اور عوامی سطح پر روابط کو مزید مضبوط کریں گے۔
ملاقات میں پاکستان اور آذربائیجان کے درمیان توانائی منصوبوں، ثقافتی تبادلے، تعلیم، اور خواتین کے بااختیار بنانے کے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر بھی اتفاق کیا گیا۔ آذربائیجان کی چیئرپرسن نے پاکستان کے سیلاب متاثرین کی بحالی کے لیے آذربائیجان کے تعاون کا اعادہ کیا اور کہا کہ ان کا ملک ہمیشہ مشکل وقت میں پاکستان کے ساتھ کھڑا رہے گا۔
صدر آصف زرداری نے ترکیہ اور آذربائیجان کی جانب سے پاکستان کے مؤقف کی مسلسل حمایت پر شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ ”ہم ان تعلقات کو مزید گہرا کرنے کے لیے ہر سطح پر رابطہ کاری جاری رکھیں گے۔ پاکستان اس خطے میں امن، ترقی اور خوشحالی کے لیے دونوں ممالک کے ساتھ مکمل ہم آہنگی سے آگے بڑھنا چاہتا ہے۔“
ملاقات میں اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق، سینیٹر سلیم مانڈوی والا، اور ترکیہ و آذربائیجان کے سفیر بھی شریک تھے۔ ایوانِ صدر کے ذرائع کے مطابق، ان ملاقاتوں کو پاکستان کی کثیرالجہتی خارجہ پالیسی کا ایک مثبت اشارہ قرار دیا جا رہا ہے، جس کا مقصد مسلم ممالک کے ساتھ عملی تعاون کو فروغ دینا ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ان اعلیٰ سطحی روابط سے پاکستان، ترکیہ اور آذربائیجان کے درمیان تجارتی اتحاد، توانائی سیکیورٹی اور سفارتی تعاون کے نئے امکانات کھل سکتے ہیں۔ یہ ملاقاتیں اس امر کا ثبوت ہیں کہ پاکستان اپنی خارجہ پالیسی میں توازن، اقتصادی شراکت اور خطے کے استحکام کو مرکزی حیثیت دے رہا ہے۔