سعودیہ اور قطر کا پاک افغان سرحدی کشیدگی پر اظہارِ تشویش، فریقین سے تحمل اور مذاکرات کی اپیل

سعودیہ اور قطر کا پاک افغان سرحدی کشیدگی پر اظہارِ تشویش، فریقین سے تحمل اور مذاکرات کی اپیل

سعودی عرب اور قطر نے پاک افغان سرحد پر بڑھتی ہوئی کشیدگی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے پاکستان اور افغانستان سے تحمل، مذاکرات اور امن کے فروغ کی اپیل کی ہے۔

یوتھ ویژن نیوز : (مس کنول فرید سے ) پاکستان اور افغانستان کے درمیان سرحدی کشیدگی پر سعودی عرب اور قطر نے گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے دونوں ممالک سے تحمل، مکالمے اور امن کے فروغ کی اپیل کی ہے۔
یہ ردعمل اس وقت سامنے آیا جب پاک افغان بارڈر پر افغانستان کی جانب سے بلا اشتعال فائرنگ کے بعد پاکستان کی جانب سے بھرپور جوابی کارروائی کی گئی۔

سعودی عرب کا مؤقف: تحمل اور مذاکرات کا راستہ اپنایا جائے

سعودی وزارتِ خارجہ نے اپنے سرکاری بیان میں کہا کہ سعودی عرب دونوں برادر اسلامی ممالک — پاکستان اور افغانستان — کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی پر فکرمند ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ ’’سعودی عرب فریقین سے اپیل کرتا ہے کہ وہ تحمل، دانشمندی اور مذاکرات کے ذریعے مسائل کو حل کریں تاکہ خطے کا امن متاثر نہ ہو۔‘‘

مزید پڑھیں : پاک افغان بارڈر پرسرحدی کشندگی بڑھ گئی

وزارتِ خارجہ نے زور دیا کہ ’’مذاکرات کا راستہ ہی پائیدار امن اور استحکام کی ضمانت ہے۔ سعودی عرب خطے میں امن، ترقی اور استحکام کا خواہاں ہے اور کسی بھی تنازع کے پُرامن حل کی حمایت کرتا ہے۔‘‘
سعودی عرب نے مزید کہا کہ وہ ہر اُس کوشش کی تائید کرے گا جس کا مقصد پاکستان اور افغانستان کے درمیان اعتماد سازی اور کشیدگی میں کمی ہو۔

قطر کا ردعمل: بات چیت ہی امن کی واحد راہ

قطر کی وزارتِ خارجہ نے بھی اسی نوعیت کا بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ پاک افغان سرحد پر تنازع کے اثرات پورے خطے کے امن و استحکام پر پڑ سکتے ہیں۔
بیان میں کہا گیا کہ ’’قطر دونوں ممالک سے اپیل کرتا ہے کہ وہ فوری طور پر کشیدگی کم کرنے کے اقدامات کریں اور اپنے اختلافات کو بات چیت کے ذریعے حل کریں۔‘‘

قطری وزارت نے واضح کیا کہ سفارتکاری ہی موجودہ صورتحال میں بہترین راستہ ہے، اور اگر فریقین مذاکرات کے ذریعے اپنے اختلافات دور کرتے ہیں تو یہ نہ صرف ان کے عوام بلکہ خطے کی سلامتی کے لیے بھی نفع بخش ہوگا۔
قطر نے کہا کہ وہ پاکستانی اور افغان عوام کی سلامتی، استحکام اور خوشحالی کا خواہاں ہے اور کسی بھی قسم کی ثالثی یا مصالحتی کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہے۔

پس منظر: بارڈر پر کشیدگی اور پاک فوج کی کارروائی

یاد رہے کہ چند روز قبل افغان فورسز کی جانب سے سرحدی علاقے پر بلا اشتعال فائرنگ کی گئی جس کے جواب میں پاک فوج نے بھرپور کارروائی کرتے ہوئے تقریباً دو درجن افغان سرحدی چوکیوں کو تباہ کر دیا۔
ذرائع کے مطابق، پاکستانی فورسز کی کارروائی میں متعدد افغان اہلکار اور خوارجی دہشت گرد ہلاک ہوئے جبکہ کئی افغان فوجیوں نے سرینڈر کرنے کی ویڈیوز بھی سوشل میڈیا پر منظرِ عام پر آئیں۔

پاک فوج کے ترجمان (آئی ایس پی آر) کے مطابق، پاکستان کسی بھی اشتعال انگیزی کو برداشت نہیں کرے گا اور اپنی سرحدوں کی حفاظت ہر قیمت پر یقینی بنائے گا۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ پاکستان امن چاہتا ہے لیکن اگر اس پر حملہ کیا گیا تو بھرپور جواب دیا جائے گا۔

عالمی ردعمل اور علاقائی امن کی ضرورت

بین الاقوامی سطح پر بھی پاک افغان کشیدگی پر نظر رکھی جا رہی ہے۔
سفارتی ماہرین کے مطابق، سعودی عرب اور قطر جیسے ممالک کا فوری ردعمل ظاہر کرتا ہے کہ خلیجی ممالک خطے کے امن و استحکام کے لیے متحرک کردار ادا کرنا چاہتے ہیں۔

اسلامی ممالک کی تنظیم (OIC) کے سابق عہدیداران کا کہنا ہے کہ اگر خلیجی ممالک پاکستان اور افغانستان کے درمیان ثالثی یا امن مذاکرات کا پل بنیں تو یہ نہ صرف کشیدگی میں کمی کا باعث بنے گا بلکہ امتِ مسلمہ کے اتحاد کو بھی مضبوط کرے گا۔

پاکستان کا موقف: خودمختاری پر کوئی سمجھوتہ نہیں

پاکستانی حکام کا کہنا ہے کہ افغانستان کی جانب سے اشتعال انگیزی ناقابلِ قبول ہے، اور پاکستان اپنی قومی خودمختاری اور سرحدی سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔
ترجمان دفترِ خارجہ کے مطابق، پاکستان افغانستان کے ساتھ امن کا خواہاں ہے مگر سرحد پار دہشت گردی کے خاتمے کے لیے کابل حکومت کو عملی اقدامات کرنا ہوں گے۔

خطے میں امن کی اہمیت

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس وقت جب عالمی سطح پر توانائی، تجارت اور سرمایہ کاری کے نئے مواقع پیدا ہو رہے ہیں، پاکستان اور افغانستان کے درمیان کشیدگی خطے کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہے۔
سعودی عرب اور قطر کی اپیل اس بات کا ثبوت ہے کہ مسلم دنیا خطے کے امن کو اولین ترجیح دینا چاہتی ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں