صدر مملکت آصف زرداری کا دو ٹوک مؤقف: ’’پاکستان اپنی خودمختاری پر کسی قیمت پر سمجھوتہ نہیں کرے گا‘‘

صدر مملکت آصف زرداری کا دو ٹوک مؤقف: "پاکستان اپنی خودمختاری پر کسی قیمت پر سمجھوتہ نہیں کرے گا"

صدر مملکت آصف علی زرداری نے افغانستان کی جانب سے مبینہ جارحیت پر کہا کہ پاکستان اپنی قومی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور سلامتی پر کسی قیمت پر سمجھوتہ نہیں کرے گا۔

یوتھ ویژن نیوز : (واصب ابراہیم غوری سے) صدرِ مملکت آصف علی زرداری نے افغانستان کی جانب سے حالیہ جارحیت پر سخت ردِعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان اپنی قومی خودمختاری اور علاقائی سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔
انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان اپنے قومی مفادات کے تحفظ کے لیے پرعزم ہے اور کسی بھی بیرونی دباؤ کو قبول نہیں کرے گا۔

صدر آصف علی زرداری نے اتوار کو جاری اپنے بیان میں کہا کہ پاکستان نے ہمیشہ امن، استحکام اور باہمی تعاون کی پالیسی اپنائی ہے، تاہم کسی بھی ملک کو پاکستان کی خودمختاری پر حملہ کرنے یا اسے کمزور کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان جموں و کشمیر کے مسئلے پر کسی بھی متنازعہ یا گمراہ کن مؤقف کو تسلیم نہیں کرتا۔
ان کا کہنا تھا کہ بھارت کا کشمیر سے متعلق ہر غیر قانونی دعویٰ نہ صرف عالمی قوانین بلکہ اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کی بھی کھلی خلاف ورزی ہے۔

مزید پڑھیں :  پاک فوج نے افغان اشتعال انگیزی

صدر مملکت نے کہا کہ افغانستان کی قیادت نے اگر کشمیر کے مظلوم عوام کی جدوجہدِ آزادی سے نظریں پھیر لیں تو یہ تاریخ اور امتِ مسلمہ دونوں کے ساتھ ناانصافی ہوگی۔
انہوں نے زور دیا کہ پاکستان ہمیشہ کشمیری عوام کی سیاسی، اخلاقی اور سفارتی حمایت جاری رکھے گا۔

آصف علی زرداری نے افغان سرزمین سے پاکستان پر ہونے والے فتنہ خوارج کے حملوں پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ یہ صرف الزامات نہیں بلکہ اقوامِ متحدہ کی رپورٹوں سے ثابت شدہ حقائق ہیں۔
انہوں نے کہا کہ فتنہ خوارج اور فتنہ ہندوستان کے گٹھ جوڑ سے پاکستانی شہری اور سیکیورٹی اہلکار مسلسل نشانہ بن رہے ہیں۔
ان کے بقول: "افغان قیادت کو چاہیے کہ وہ پاکستان مخالف دہشت گرد عناصر کے خلاف عملی اقدامات کرے، کیونکہ خاموشی اب کسی کے مفاد میں نہیں۔”

صدر مملکت نے کہا کہ پاکستان نے گزشتہ چار دہائیوں تک افغان عوام کی میزبانی کر کے اسلامی اخوت اور اچھے ہمسائیگی کی مثال قائم کی۔
انہوں نے کہا کہ دنیا کو یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ کسی ایک ملک کی ذمہ داری نہیں بلکہ مشترکہ فریضہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ امن کی بحالی اور افغان شہریوں کی باعزت واپسی دونوں ممالک کے مفاد میں ہیں۔
پاکستان افغان عوام کی تعلیمی، طبی اور انسانی ضروریات میں ہمیشہ تعاون کرتا رہے گا۔
ان کا کہنا تھا کہ پاکستان نے تجارت، معیشت اور روابط کے فروغ کے لیے افغانستان کو ہر ممکن سہولت فراہم کی ہے، مگر بدقسمتی سے بعض قوتیں خطے کے امن کو سبوتاژ کرنے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔

آصف علی زرداری نے زور دیا کہ خطے کے دیرپا امن اور ترقی کی بنیاد باہمی تعاون اور معاشی شراکت میں ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان ہمیشہ سے ایک پرامن، مستحکم اور خوشحال افغانستان کا خواہاں رہا ہے، کیونکہ یہی دونوں ملکوں کے عوام کے بہتر مستقبل کی ضمانت ہے۔

صدر مملکت نے واضح کیا کہ برادرانہ تعلقات باہمی احترام، سیکیورٹی تعاون اور خطے کے امن سے منسلک ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان توقع رکھتا ہے کہ افغان حکومت اپنی سرزمین کو دہشت گرد عناصر کے استعمال سے روکے گی اور دو طرفہ سیکیورٹی میکنزم کو مضبوط بنائے گی۔

ان کا کہنا تھا کہ "دہشت گردی کے خلاف مشترکہ اور عملی اقدامات ہی دیرپا امن کی ضمانت بن سکتے ہیں۔ پاکستان خطے میں امن کے قیام کے لیے ہر ممکن سفارتی کوشش جاری رکھے گا۔”

انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان اپنی خودمختاری، سلامتی اور عوام کے تحفظ کے لیے ہر سطح پر اقدامات کرے گا اور کسی بیرونی قوت کو اپنے داخلی یا خارجی معاملات میں مداخلت کی اجازت نہیں دے گا۔

صدر آصف علی زرداری کے بیان نے واضح کر دیا کہ پاکستان کسی بھی ملک کے ساتھ تعلقات میں امن، احترام اور باہمی مفاد کے اصولوں کو ترجیح دیتا ہے، لیکن خودمختاری پر کوئی سمجھوتہ نہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں