علی امین گنڈاپور کا پارٹی ارکان کو پشاور میں قیام کرنے کی ہدایت۔

علی امین گنڈاپور کا پارٹی ارکان کو پشاور میں قیام کرنے کی ہدایت۔

علی امین گنڈاپور نے پی ٹی آئی ارکان کو پشاور میں رہنے کی ہدایت دی، گورنر پر غلط بیانی کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ استعفیٰ جمع ہو چکا ہے، پارٹی اتحاد برقرار رکھا جائے۔

یوتھ ویژن نیوز : خیبر پختونخوا کی سیاست میں ایک اہم موڑ اس وقت آیا جب سابق وزیرِ اعلیٰ علی امین گنڈاپور نے پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) کے پارلیمانی پارٹی اجلاس کے دوران ارکان اسمبلی کو ہدایت کی کہ وہ پشاور ہی میں موجود رہیں اور کسی بھی سیاسی تبدیلی یا پیش رفت کے لیے تیار رہیں۔

ذرائع کے مطابق، پارلیمانی پارٹی اجلاس کے دوران علی امین گنڈاپور نے اپنے استعفے اور حالیہ سیاسی صورتحال سے متعلق تفصیلی بات کی۔ انہوں نے کہا کہ گورنر خیبر پختونخوا کی جانب سے دیا گیا بیان کہ انہیں استعفیٰ موصول نہیں ہوا، حقیقت کے منافی ہے۔ “استعفیٰ باقاعدہ طور پر گورنر ہاؤس میں جمع کروایا گیا ہے اور اس کا مکمل ریکارڈ موجود ہے،” علی امین نے کہا۔

مزید پڑھیں : علی امین گنڈا پور کے خلاف تحریک عدم اعتماد لانے پر غور

ذرائع نے بتایا کہ اجلاس کے دوران نامزد وزیرِ اعلیٰ سہیل آفریدی نے بھی گفتگو کی اور کہا کہ علی امین گنڈاپور ان کے بڑے ہیں اور وہ آئندہ تمام سیاسی فیصلوں میں ان سے رہنمائی حاصل کریں گے۔ سہیل آفریدی نے کہا کہ وہ پارٹی کے فیصلوں پر مکمل اعتماد رکھتے ہیں اور تحریکِ انصاف کو خیبر پختونخوا میں مزید مضبوط دیکھنا چاہتے ہیں۔

پارٹی ذرائع کے مطابق، علی امین گنڈاپور نے ارکان کو مشورہ دیا کہ وہ کسی بھی بیرونی دباؤ یا افواہوں میں نہ آئیں اور پارٹی نظم و ضبط کو برقرار رکھیں۔ ان کا کہنا تھا کہ “یہ وقت اتحاد کا ہے، اختلافات کا نہیں۔ ہم نے ہر حال میں پارٹی کی ساکھ کو برقرار رکھنا ہے۔”

سیاسی مبصرین کے مطابق، علی امین گنڈاپور کا یہ قدم پارٹی کے اندر استحکام پیدا کرنے کی کوشش کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، خاص طور پر اس وقت جب خیبر پختونخوا کی حکومت کے مستقبل کے بارے میں مختلف سیاسی افواہیں گردش کر رہی ہیں۔

ذرائع نے مزید بتایا کہ اجلاس کے بعد علی امین گنڈاپور ڈیرہ اسماعیل خان روانہ ہو گئے۔ روانگی سے قبل انہوں نے وزیرِ اعلیٰ ہاؤس کے عملے سے مصافحہ کیا اور شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ “میں وزارتِ اعلیٰ چھوڑ رہا ہوں مگر عوامی خدمت کا جذبہ میرے ساتھ ہے۔”

یاد رہے کہ گزشتہ روز علی امین گنڈاپور نے باضابطہ طور پر اپنے عہدے سے استعفیٰ دینے کا اعلان کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ اب پارٹی میں کسی حکومتی حیثیت کے بجائے ایک عام کارکن کے طور پر خدمات انجام دیں گے۔ انہوں نے واضح کیا کہ “اگر بانی پی ٹی آئی بھی کہیں گے تو میں اپنا فیصلہ واپس نہیں لوں گا۔ میں نے وزارتِ اعلیٰ کے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے اور اب پارٹی کے ایک عام کارکن کے طور پر کام جاری رکھوں گا۔”

انہوں نے مخالف سیاسی جماعتوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ “سیاسی مخالفین کوشش کرکے دیکھ لیں، یہ حکومت گرا نہیں سکتے۔ تحریکِ انصاف خیبر پختونخوا کے عوام کے دلوں میں ہے اور رہے گی۔”

سیاسی تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ علی امین گنڈاپور کے اس فیصلے نے پارٹی میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ بعض حلقوں کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ پارٹی نظم و ضبط کو مستحکم کرے گا، جبکہ دیگر ماہرین اسے پی ٹی آئی کی داخلی کشمکش کا تسلسل قرار دے رہے ہیں۔

ادھر گورنر ہاؤس کی جانب سے بھی اس معاملے پر مؤقف دیا گیا ہے کہ انہیں باضابطہ استعفیٰ موصول نہیں ہوا، تاہم گورنر سیکرٹریٹ ذرائع کے مطابق اس معاملے کی تصدیق کے لیے تمام قانونی پہلوؤں کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔

سیاسی ماہرین کے مطابق، خیبر پختونخوا کی سیاست آئندہ چند دنوں میں مزید دلچسپ صورتحال اختیار کر سکتی ہے، جب کہ تحریک انصاف کی اعلیٰ قیادت صوبائی حکومت کے نئے ڈھانچے پر غور کر رہی ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں