وزیراعظم شہباز شریف کی زیرصدارت مجوزہ سرکاری اداروں کی نجکاری پر جائزہ اجلاس
world latest news
یوتھ وژن نیوز : (مس کنول فرید سے) وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیر صدارت سرکاری اداروں کی نجکاری کے حوالے سے ایک اہم اجلاس وزیراعظم ہاؤس اسلام آباد میں منعقد ہوا، جس میں متعلقہ وزارتوں، محکموں اور اقتصادی ماہرین نے شرکت کی۔ اجلاس میں پاکستان کے مختلف سرکاری اداروں کی کارکردگی، مالی خسارہ اور نجکاری کے ممکنہ طریقہ کار پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔
وزیراعظم شہباز شریف نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے واضح ہدایات دیں کہ نجکاری کے عمل میں قومی مفاد اور اداروں کی پیشہ ورانہ استعداد کار کو اولین ترجیح دی جائے۔ انہوں نے کہا کہ یہ عمل شفاف، منصفانہ اور مؤثر ہونا چاہیے تاکہ پاکستان کے معاشی استحکام اور عوامی فلاح کے اہداف حاصل کیے جا سکیں۔
غزہ جنگ بندی معاہدہ مشرقِ وسطیٰ میں دیرپا امن کے قیام کا تاریخی موقع ہے، وزیرِ اعظم شہباز شریف
انہوں نے مزید کہا کہ سرکاری اداروں کی نجکاری صرف مالی بوجھ کم کرنے کے لیے نہیں بلکہ ان اداروں کو خود انحصاری اور کارکردگی کی بلندی پر لانے کے لیے کی جا رہی ہے۔ وزیراعظم نے ہدایت کی کہ اس عمل میں بین الاقوامی شہرت یافتہ ماہرین کی خدمات حاصل کی جائیں تاکہ فیصلے عالمی معیار کے مطابق ہوں اور پاکستان کو زیادہ سے زیادہ معاشی فائدہ پہنچے۔
وزیراعظم نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ نجکاری کے دوران شفافیت، احتساب اور میرٹ کے اصولوں کو یقینی بنایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ "یہ عمل قومی مفاد سے جڑا ہے، اس میں کسی قسم کی بدانتظامی یا تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی۔”
شہباز شریف نے مزید کہا کہ نجکاری کے ذریعے حاصل ہونے والی آمدن کو پاکستان کے سماجی و اقتصادی منصوبوں، تعلیم، صحت اور روزگار کے مواقع پیدا کرنے میں استعمال کیا جائے گا۔ وزیراعظم نے یہ بھی ہدایت دی کہ اداروں کی اندرونی کارکردگی بہتر بنانے کے لیے جامع اصلاحاتی منصوبہ تیار کیا جائے تاکہ نجکاری سے پہلے ان اداروں کی صلاحیتوں میں اضافہ ممکن ہو۔
انہوں نے کہا کہ سرکاری ادارے ملکی معیشت کا اہم حصہ ہیں، مگر طویل عرصے سے خسارے میں جا رہے ہیں۔ "ہمیں ان اداروں کو بوجھ نہیں بلکہ ترقی کا ذریعہ بنانا ہے،” وزیراعظم نے کہا۔
وزیراعظم نے متعلقہ وزارتوں کو ہدایت دی کہ نجکاری کے عمل میں بین الاقوامی سرمایہ کاروں کے اعتماد کو بحال کیا جائے اور بہترین ممکنہ سودے طے کیے جائیں تاکہ قومی خزانے کو زیادہ سے زیادہ فائدہ ہو۔ انہوں نے اجلاس میں اس بات پر زور دیا کہ سرخ فیتے اور انتظامی تاخیر کو فوری طور پر ختم کیا جائے تاکہ فیصلے بروقت اور مؤثر انداز میں ہو سکیں۔
آخر میں وزیراعظم شہباز شریف نے اعلان کیا کہ وہ اس عمل کی بذات خود نگرانی کریں گے اور باقاعدگی سے اس کی پیش رفت کا جائزہ لیں گے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کا مستقبل معاشی استحکام سے جڑا ہے، اور نجکاری کا یہ عمل پائیدار ترقی، شفاف معیشت اور قومی خودمختاری کی سمت میں ایک مضبوط قدم ہے۔