غزہ جنگ بندی معاہدہ مشرقِ وسطیٰ میں دیرپا امن کے قیام کا تاریخی موقع ہے، وزیرِ اعظم شہباز شریف
وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا ہے کہ غزہ جنگ بندی معاہدہ مشرقِ وسطیٰ میں دیرپا امن کے قیام کا تاریخی موقع ہے۔ امریکی صدر، قطر، مصر اور ترکیہ کے کردار کو سراہا، جبکہ مسجد اقصیٰ میں اشتعال انگیزی کی مذمت کی۔
یوتھ ویژن نیوز : (ثاقب ابراہیم غوری سے) وزیراعظم پاکستان محمد شہباز شریف نے غزہ میں جنگ بندی کے معاہدے کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ معاہدہ مشرقِ وسطیٰ میں پائیدار امن کے قیام کے لیے ایک تاریخی موقع ہے۔ انہوں نے کہا کہ فلسطینی عوام کی قربانیاں اور عالمی برادری کی مشترکہ کوششیں اب امن کی نئی راہیں کھول رہی ہیں۔
عالمی امن کی سمت ایک مثبت قدم
سماجی رابطے کی ویب سائٹ X (سابقہ ٹوئٹر) پر اپنے پیغام میں وزیراعظم نے کہا کہ “غزہ میں نسل کشی کے خاتمے کے لیے ہونے والا معاہدہ پوری دنیا کے لیے امید کی ایک کرن ہے۔ یہ صرف جنگ بندی نہیں بلکہ امن کے ایک نئے دور کا آغاز ہے۔”
انہوں نے کہا کہ اس معاہدے کے ذریعے مشرقِ وسطیٰ کے عوام کو وہ موقع ملا ہے جو دہائیوں سے ناپید تھا — پائیدار استحکام، باہمی احترام اور انسانی وقار کی بحالی۔عالمی قیادت کا کردار قابلِ تحسین
وزیراعظم شہباز شریف نے اپنے بیان میں مذاکراتی عمل میں عالمی قیادت کے کردار کو بھی سراہا۔ انہوں نے کہا کہ “امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا قائدانہ کردار عالمی امن کے لیے ان کے غیر متزلزل عزم کی علامت ہے۔”
انہوں نے مزید کہا کہ قطر، مصر اور ترکیہ نے اپنی ثابت قدمی، دانشمندانہ قیادت اور انتھک سفارتی کوششوں سے اس تاریخی کامیابی کو ممکن بنایا۔ “یہ وہ ممالک ہیں جنہوں نے تنازع کے حل میں بیلنس اور بصیرت کا مظاہرہ کیا۔”
فلسطینی عوام کی قربانیوں کو خراجِ تحسین
شہباز شریف نے فلسطینی عوام کی جرات، صبر اور استقامت کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ “انہوں نے ناقابلِ بیان مصائب برداشت کیے، لیکن اپنے حقِ خود ارادیت کے عزم سے کبھی پیچھے نہیں ہٹے۔”
انہوں نے مزید کہا کہ دنیا کو یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ فلسطینی عوام کے زخم گہرے ہیں، اور اب وقت آگیا ہے کہ ان کے دکھوں کا ازالہ انصاف اور مساوات کے ذریعے کیا جائے۔
مسجد اقصیٰ میں اشتعال انگیزی کی مذمت
وزیراعظم نے مسجد اقصیٰ میں حالیہ اشتعال انگیز کارروائیوں کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا کہ عالمی برادری کو قابض قوتوں اور غیر قانونی آبادکاروں کو ان اقدامات پر جواب دہ ٹھہرانا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ “ایسے تمام اقدامات سے گریز کیا جائے جو امن کے قیام کی عالمی کاوشوں کو نقصان پہنچا سکتے ہیں۔ مسجد اقصیٰ کے تقدس اور امتِ مسلمہ کے جذبات کا احترام عالمی امن کے لیے ناگزیر ہے۔”
پاکستان کا کردار اور عزم
وزیراعظم نے اس موقع پر واضح کیا کہ پاکستان اپنے برادر ممالک اور بین الاقوامی شراکت داروں کے ساتھ مل کر کام کرتا رہے گا تاکہ فلسطینی عوام کو ان کے جائز حقوق — امن، سلامتی اور وقار — اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حاصل ہو سکیں۔
انہوں نے کہا کہ “پاکستان ہمیشہ فلسطین کے ساتھ کھڑا ہے، اور ہم اس عزم پر قائم ہیں کہ انصاف پر مبنی امن ہی مشرقِ وسطیٰ کے دیرپا استحکام کی ضمانت ہے۔”
امن کی نئی صبح
شہباز شریف کے بیان نے اس بات کو تقویت دی کہ غزہ میں جنگ بندی کا معاہدہ صرف ایک سیاسی پیش رفت نہیں بلکہ انسانیت کے ضمیر کی بیداری ہے۔ یہ اقدام اس حقیقت کا مظہر ہے کہ جب دنیا متحد ہو، تو امن ممکن ہے۔
یوتھ ویژن نیوز کے مطابق، وزیراعظم کے اس بیان کو قومی اور بین الاقوامی حلقوں میں وسیع پذیرائی ملی ہے۔ مبصرین کے مطابق، پاکستان کا مؤقف ہمیشہ انصاف، مکالمے اور پائیدار امن پر مبنی رہا ہے، جو آج کی دنیا میں امید کی کرن ہے۔