چمن میں بڑا تصادم! پاک فوج نے افغان طالبان اور فتنہ الخوارج کا حملہ ناکام بنا کر درجنوں دہشتگردوں کو ہلاک کر دیا
چمن سپن بولدک میں پاک فوج نے افغان طالبان اور فتنہ الخوارج کے حملے ناکام بنا دیے، 20 سے زائد دہشتگرد ہلاک، 6 ٹینک اور 8 پوسٹیں تباہ۔
یوتھ ویژن نیوز : (سُمیر علی خان سے) پاک فوج نے بلوچستان کے سرحدی علاقے چمن سپن بولدک میں افغان طالبان اور فتنہ الخوارج کے مشترکہ حملوں کو ناکام بناتے ہوئے 20 سے زائد دہشتگردوں کو ہلاک کر دیا ہے۔
پاک فوج کے شعبہ تعلقاتِ عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق افغان طالبان اور فتنہ الخوارج کے جنگجوؤں نے گزشتہ روز سپن بولدک کے قریب چار مختلف مقامات پر اچانک حملے کیے، تاہم پاک فوج نے بھرپور جوابی کارروائی کرتے ہوئے دشمن کو بھاری نقصان پہنچایا۔ ترجمان آئی ایس پی آر کے مطابق حملہ آوروں نے دیہات اور معصوم شہریوں کو انسانی ڈھال کے طور پر استعمال کرنے کی کوشش کی، مگر پاک فوج کی پیشہ ورانہ مہارت اور بروقت ردعمل نے ان کی تمام منصوبہ بندی ناکام بنا دی۔ جوابی کارروائی میں 15 سے 20 افغان طالبان مارے گئے جبکہ متعدد زخمی حالت میں واپس افغان سرحد کی جانب فرار ہو گئے۔
مزید پڑھیں : ڈی جی آئی ایس پی آر کا کڑا انتباہ: کے پی میں دہشت گردوں اور سہولت کاروں کو جگہ دی گئی، خمیازہ عوام بھگت رہے ہیں
فوجی حکام نے بتایا کہ دہشتگردوں نے اپنی کارروائی کے دوران پاک افغان دوستی گیٹ کو بھی نقصان پہنچایا، جو ان کی کم فہمی اور تجارتی و قبائلی تعلقات سے لاعلمی کو ظاہر کرتا ہے۔ آئی ایس پی آر کے مطابق علاقے میں صورتحال اب بھی کشیدہ ہے اور خفیہ اطلاعات کے مطابق فتنہ الخوارج اور طالبان مزید حملوں کی تیاری میں ہیں۔ تاہم پاک فوج نے تمام سرحدی چوکیوں پر دفاعی انتظامات سخت کر دیے ہیں اور دشمن کی کسی بھی ممکنہ کارروائی کا بھرپور جواب دینے کے لیے تیار ہے۔ ترجمان نے مزید بتایا کہ گزشتہ رات کرم سیکٹر میں بھی افغان طالبان اور فتنہ الخوارج نے پاک فوج کی چوکیوں پر حملے کی کوشش کی جسے بروقت کارروائی سے ناکام بنا دیا گیا۔
اس جوابی حملے میں دشمن کی 8 پوسٹیں اور 6 ٹینک بمعہ عملہ مکمل طور پر تباہ کر دیے گئے، جب کہ 25 سے 30 طالبان اور فتنہ الخوارج کے جنگجو ہلاک ہونے کی اطلاعات ہیں۔ آئی ایس پی آر نے افغان طالبان کے اس دعوے کو بے بنیاد قرار دیا کہ حملے کی شروعات پاکستان نے کی تھی، ترجمان کے مطابق یہ الزام سراسر جھوٹ ہے اور معمولی حقائق سے بھی اس کی تردید کی جا سکتی ہے۔ فوجی حکام نے واضح کیا کہ پاکستان ہمیشہ خطے میں امن و استحکام کا خواہاں ہے، لیکن کسی بھی جارحیت یا سرحدی خلاف ورزی کا جواب دینے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔
ذرائع کے مطابق افغان سرحد کے قریب اب بھی صورتحال غیر یقینی ہے اور اضافی دستے علاقے میں تعینات کر دیے گئے ہیں تاکہ کسی نئی جارحیت کی صورت میں فوری ردعمل دیا جا سکے۔ دفاعی ماہرین کے مطابق حالیہ جھڑپیں نہ صرف پاک افغان سرحدی تناؤ میں اضافے کا سبب بن سکتی ہیں بلکہ دہشتگرد گروہوں کی جانب سے منظم منصوبہ بندی کا حصہ بھی ہو سکتی ہیں۔ اس موقع پر آئی ایس پی آر نے واضح کیا کہ پاک فوج پاکستان کی خودمختاری اور عوام کے تحفظ کے لیے ہر قیمت پر اپنا کردار ادا کرتی رہے گی، اور دشمن کو کسی بھی محاذ پر کامیاب نہیں ہونے دیا جائے گا۔ عوام سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ افواہوں پر یقین نہ کریں اور صرف سرکاری ذرائع سے تصدیق شدہ اطلاعات پر اعتماد کریں۔ فوجی ترجمان نے کہا کہ پاکستان اپنے دفاع میں ہمیشہ مضبوط اور متحد رہا ہے اور کسی بھی خطرے کا مقابلہ کرنے کے لیے ہر وقت تیار ہے۔