پی ٹی آئی نے گورنر خیبرپختونخوا سے وزیراعلیٰ کے انتخاب میں تعاون مانگ لیا
پی ٹی آئی وفد نے گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی سے ملاقات میں وزیراعلیٰ کے انتخاب کے لیے پیپلزپارٹی سے تعاون مانگ لیا۔ فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ پیپلزپارٹی جمہوری روایات کی پاسدار ہے۔
یوتھ ویژن نیوز : (واصب ابراہیم غوری سے) خیبر پختونخوا میں سیاسی سرگرمیوں میں تیزی آگئی ہے۔ تحریک انصاف کے ایک اعلیٰ سطحی وفد نے گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی سے ملاقات میں وزیراعلیٰ کے انتخاب کے حوالے سے پیپلزپارٹی سے تعاون کی درخواست کی ہے۔
ذرائع کے مطابق ملاقات فیصل کریم کنڈی کی رہائش گاہ پر ہوئی، جس میں پی ٹی آئی کے سینئر رہنما اسد قیصر، عاطف خان، علی اصغر جدون، جنید اکبر، اور ڈاکٹر امجد خان شامل تھے۔ ملاقات میں پیپلزپارٹی خیبرپختونخوا کے صدر محمد علی شاہ باچا بھی شریک ہوئے۔
پی ٹی آئی کی وفد کی گورنر سے ملاقات کی تفصیلات
ذرائع کے مطابق پی ٹی آئی رہنماؤں نے گورنر کو بتایا کہ صوبے میں سیاسی استحکام کے لیے تمام جماعتوں کے درمیان بات چیت اور تعاون ضروری ہے۔
وفد نے گورنر سے درخواست کی کہ وزیراعلیٰ کے انتخاب میں پیپلزپارٹی جمہوری تعاون کا مظاہرہ کرے۔ اس موقع پر گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ پیپلزپارٹی نے ہمیشہ جمہوری اقدار اور آئینی عمل کی پاسداری کی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’’ہم جمہوری روایت کے تسلسل پر یقین رکھتے ہیں، اور چاہتے ہیں کہ صوبے میں سیاسی معاملات آئین اور قانون کے مطابق آگے بڑھیں۔‘‘گورنر کا مؤقف
فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ وزیراعلیٰ کے استعفے کی منظوری میں آئین و قانون کی مکمل پاسداری کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن جماعتوں سے مشاورت کے بغیر کوئی فیصلہ مسلط نہیں کیا جائے گا۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ ’’صوبے میں پائیدار امن اور عوامی سہولیات کی فراہمی کے لیے تمام جماعتوں کو مل کر کردار ادا کرنا ہوگا۔‘‘ گورنر نے واضح کیا کہ پیپلزپارٹی جمہوریت کی مضبوطی اور پارلیمانی اداروں کے استحکام پر یقین رکھتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ وفاقی اور صوبائی سطح پر سیاسی ہم آہنگی ملک کے مفاد میں ہے۔پی ٹی آئی وفد کا مؤقف
پی ٹی آئی کے وفد نے کہا کہ پارٹی صوبے میں سیاسی استحکام اور گورننس کی بہتری کے لیے تمام جمہوری قوتوں سے رابطے میں ہے۔
وفد نے گورنر کو بتایا کہ تحریک انصاف چاہتی ہے کہ وزیراعلیٰ کے انتخاب کا عمل پرامن، شفاف اور آئینی دائرے میں مکمل ہو۔اسد قیصر نے گفتگو میں کہا کہ ’’ہم چاہتے ہیں کہ خیبرپختونخوا میں جمہوری عمل رکے نہیں بلکہ مثبت انداز میں آگے بڑھے۔‘‘ انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی عوامی مینڈیٹ کے احترام پر یقین رکھتی ہے اور سیاسی اختلافات کے باوجود مفاہمت کے دروازے بند نہیں کیے۔سیاسی منظرنامہ
خیبر پختونخوا میں وزیراعلیٰ کے انتخاب کے لیے سیاسی رابطوں کا سلسلہ تیز ہو گیا ہے۔پی ٹی آئی اور پیپلزپارٹی دونوں جماعتیں مختلف سیاسی فارمولا پر غور کر رہی ہیں۔سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ موجودہ صورتحال میں کسی بھی جماعت کی سمارٹ سیاسی حکمتِ عملی مستقبل کے منظرنامے کو بدل سکتی ہے۔ذرائع کے مطابق پی ٹی آئی نے عوامی نیشنل پارٹی اور جماعت اسلامی سے بھی غیر رسمی رابطے کیے ہیں تاکہ ممکنہ اتحادی حکومت کے امکانات پر بات کی جا سکے۔
پس منظر
یہ ملاقات ایسے وقت میں ہوئی ہے جب وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے استعفے کے بعد صوبے میں نئے سیاسی اتحاد کی کوششیں جاری ہیں۔
سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق، اگر پی ٹی آئی اور پیپلزپارٹی کے درمیان عارضی تعاون بھی قائم ہو جائے تو صوبائی سطح پر پاور بیلنس میں بڑی تبدیلی آ سکتی ہے۔سیاسی تجزیہ
سیاسی ماہرین کے مطابق، فیصل کریم کنڈی کا کردار اس وقت پُل کی حیثیت رکھتا ہے۔انہوں نے ہمیشہ صوبے میں مکالمے، مصالحت اور جمہوری تسلسل کی حمایت کی ہے۔ تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ یہ ملاقات آئندہ دنوں میں سیاسی افق پر نئی صف بندی کی طرف اشارہ کر سکتی ہے۔