پرائم انسٹیٹیوٹ آف ہیلتھ سائنسز اور مائنڈ ہائیو اے آئی کا تاریخی اشتراک

پرائم انسٹیٹیوٹ آف ہیلتھ سائنسز اور مائنڈ ہائیو اے آئی کا تاریخی اشتراک: تعلیم اور صحت کے شعبوں میں مصنوعی ذہانت کا نیا باب

یوتھ ویژن نیوز : (ٹیک نمائدہ عفان گوہر سے) پاکستان میں ڈیجیٹل جدت کے ایک نئے دور کا آغاز ہو گیا ہے، جب مائنڈ ہائیو اے آئی (MindHYVE.ai) اور پرائم انسٹیٹیوٹ آف ہیلتھ سائنسز (PIHS) کے درمیان ایک جامع معاہدہ طے پایا ہے، جس کے تحت تعلیم اور صحت کے شعبوں میں مصنوعی ذہانت (AI) پر مبنی نظام متعارف کرائے جائیں گے۔

یہ اشتراک مائنڈ ہائیو اے آئی کے دو جدید پلیٹ فارمز — آرتھر اے آئی (ArthurAI™) اور کائرن اے آئی (ChironAI™) — کی تعیناتی پر مبنی ہے، جو ملک میں مصنوعی ذہانت پر مبنی تعلیمی و طبی انقلاب کی بنیاد رکھتا ہے۔

آرتھر اے آئی (ArthurAI™) کو مکمل طور پر اپنانے والا پاکستان کا پہلا ادارہ بن کر PIHS نے ایک نئی تاریخ رقم کی ہے۔ یہ نظام اساتذہ اور طلبہ کو ذہین، ڈیٹا پر مبنی اور حسبِ ضرورت سیکھنے کا تجربہ فراہم کرے گا، جس سے تدریسی معیار اور تعلیمی نتائج میں نمایاں بہتری کی توقع ہے۔

اسی طرح کائرن اے آئی (ChironAI™) کو PIHS سے منسلک اسپتالوں میں نافذ کیا جائے گا، جو تشخیص، کلینیکل فیصلوں اور انتظامی نظام میں مصنوعی ذہانت کی مدد فراہم کرے گا، اس طرح صحت کے شعبے میں کارکردگی اور درستگی کا نیا معیار قائم ہوگا۔

مائنڈ ہائیو اے آئی کے مطابق یہ اشتراک پاکستان میں مصنوعی ذہانت کے عملی نفاذ کی ایک قومی سنگِ میل حیثیت رکھتا ہے، جو PIHS کو تعلیم و صحت کے میدان میں جدت کا علمبردار اور مائنڈ ہائیو اے آئی کو ڈیجیٹل تبدیلی کا محرک بنا دیتا ہے۔

کمپنی کے مطابق اب آرتھر اے آئی (ArthurAI™) کو پاکستان کی مزید 50 تعلیمی اداروں تک توسیع دی جا رہی ہے، جبکہ وفاقی وزارت تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت کے اشتراک سے ایک قومی AI بورڈ قائم کرنے کی تیاری بھی جاری ہے، جو مصنوعی ذہانت کی تعلیم اور پالیسی سازی میں رہنمائی فراہم کرے گا۔

مائنڈ ہائیو اے آئی کے ترجمان نے کہا: یہ محض ایک معاہدہ نہیں بلکہ ایک تاریخی لمحہ ہے، جہاں ٹیکنالوجی مقصد سے ملتی ہے اور جدت قومی اثرات میں ڈھل جاتی ہے

اپنا تبصرہ بھیجیں