پاکستان، ترکیہ اور آذربائیجان کے اسپیکرز کا تیسرا سہ فریقی اجلاس 12 سے 14 اکتوبر کو اسلام آباد میں ہوگا
یوتھ ویژن نیوز : (خصوصی رپورٹ برائے محمد عاقب قریشی سے) پاکستان کی پارلیمانی سفارت کاری ایک نئے مرحلے میں داخل ہونے جا رہی ہے۔ اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کی قیادت میں قومی اسمبلی سیکرٹریٹ 12 سے 14 اکتوبر تک پاکستان، ترکیہ اور آذربائیجان کے اسپیکرز کے تیسرے سہ فریقی اجلاس کی میزبانی کرے گا۔ یہ اجلاس تینوں برادر ممالک کے درمیان پارلیمانی تعاون، علاقائی استحکام، اور اجتماعی ترقی کے فروغ کے لیے ایک اہم سنگِ میل تصور کیا جا رہا ہے۔
قومی اسمبلی سیکرٹریٹ سے جاری بیان کے مطابق اجلاس میں گرینڈ نیشنل اسمبلی آف ترکیہ کے اسپیکر نعمان کورتولموش، اور آذربائیجان کی ملی مجلس کی اسپیکر محترمہ صاحبا غفارووا اپنے اپنے پارلیمانی وفود کے ہمراہ شرکت کریں گے۔ اجلاس میں پارلیمانی مکالمے کو وسعت دینے، ادارہ جاتی تعلقات کو مستحکم بنانے اور مشترکہ چیلنجز سے نمٹنے کے لیے عملی تجاویز پر غور کیا جائے گا۔
اجلاس کا تاریخی پس منظر
اس سہ فریقی پارلیمانی تعاون کا سلسلہ 2021 میں آذربائیجان کے دارالحکومت باکو سے شروع ہوا، جہاں پہلے اجلاس میں تینوں ممالک نے مشترکہ پارلیمانی وژن تشکیل دیا۔ اس کے بعد دوسرا اجلاس 2022 میں ترکیہ کے شہر استنبول میں منعقد ہوا، جس میں اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ تینوں ممالک علاقائی مسائل پر باہمی تعاون کے ذریعے مؤثر کردار ادا کریں گے۔
اسلام آباد میں ہونے والا یہ تیسرا اجلاس ماضی کی کوششوں کا تسلسل ہے، جو پارلیمانی ڈپلومیسی کو ایک مضبوط پلیٹ فارم فراہم کرے گا۔
اجلاس کے مقاصد اور اہم ایجنڈا
اسلام آباد اجلاس میں تینوں ممالک کے اسپیکرز خطے میں پائیدار امن، استحکام اور اجتماعی خوشحالی کے فروغ پر غور و خوض کریں گے۔
اجلاس کے ایجنڈے میں متعدد اہم موضوعات شامل ہیں جن میں:
- موسمیاتی تبدیلی کے اثرات اور ان سے نمٹنے کے لیے مشترکہ لائحہ عمل،
- پائیدار ترقی کے اہداف (SDGs) کے حصول میں پارلیمان کا کردار،
- قدرتی آفات سے نمٹنے کی قومی و علاقائی صلاحیت میں بہتری،
- علاقائی سالمیت اور خودمختاری کے تحفظ کے لیے تعاون،
- دہشت گردی اور بیرونی خطرات کے خلاف مشترکہ حکمتِ عملی،
- عوامی و ثقافتی روابط کو فروغ دینے کے اقدامات شامل ہیں۔
اجلاس کے دوران تینوں ممالک کے اسپیکرز باہمی تجربات کا تبادلہ کریں گے تاکہ پارلیمانی ادارے عوامی امنگوں کے مطابق بہتر قانون سازی اور پالیسی سازی میں کردار ادا کر سکیں۔
اسلام آباد اعلامیہ — تعاون کی نئی سمت
اجلاس کے اختتام پر تینوں ممالک کے اسپیکرز "اسلام آباد اعلامیہ” کی منظوری دیں گے، جو سہ فریقی پارلیمانی تعاون کو نئی جہت فراہم کرے گا۔
یہ اعلامیہ خطے میں امن، ترقی، اور عوامی فلاح کے لیے مشترکہ عزم کی علامت کے طور پر سامنے آئے گا۔
ذرائع کے مطابق اعلامیے میں اقتصادی شراکت داری، تجارتی روابط کے فروغ، اور خطے میں باہمی تعاون کے نئے منصوبے بھی شامل ہوں گے۔
افتتاحی اجلاس سے اہم خطابات
افتتاحی سیشن میں اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق، ترکیہ کے اسپیکر نعمان کورتولموش اور آذربائیجان کی اسپیکر محترمہ صاحبا غفارووا خطاب کریں گے۔
ان کے خطابات میں خطے کی جغرافیائی اہمیت، مسلم ممالک کے مابین یکجہتی، اور مشترکہ اہداف کے حصول کے لیے پارلیمانی کردار پر زور دیا جائے گا۔
قومی اسمبلی سیکرٹریٹ کے مطابق اجلاس میں تینوں ممالک کے ارکانِ پارلیمان کے درمیان پارلیمانی دوستی گروپس کے قیام اور بین الپارلیمانی تعاون کے نئے منصوبوں پر بھی غور کیا جائے گا۔
سہ فریقی تعلقات میں ایک نیا باب
اسلام آباد اجلاس کو تجزیہ کار پاکستان کی "پالیسی آف پارلیمنٹری ڈپلومیسی” کا تسلسل قرار دے رہے ہیں۔
یہ اقدام اس بات کا مظہر ہے کہ پاکستان علاقائی اور بین الاقوامی سطح پر سفارتی روابط کو محض حکومتی سطح تک محدود نہیں رکھنا چاہتا بلکہ پارلیمانی فورمز کے ذریعے عوامی نمائندوں کو براہِ راست مکالمے میں شریک کر رہا ہے۔
ترکیہ اور آذربائیجان کے ساتھ پاکستان کے تعلقات ہمیشہ تاریخی، ثقافتی اور مذہبی بنیادوں پر قائم رہے ہیں، اور یہ اجلاس انہی رشتوں کو مزید مستحکم بنائے گا۔
ثقافتی اور تاریخی دورہ لاہور
اجلاس کے دوران تینوں ممالک کے اسپیکرز اور ان کے پارلیمانی وفود لاہور کا دورہ بھی کریں گے۔
وہ عظیم مفکر و شاعر علامہ محمد اقبالؒ کے مزار پر حاضری دیں گے اور پھولوں کی چادر چڑھائیں گے۔
ذرائع کے مطابق لاہور میں وفود کے لیے ثقافتی پروگرامز اور تاریخی مقامات کے دورے کا بھی اہتمام کیا گیا ہے، تاکہ مہمانوں کو پاکستان کی تاریخ، ثقافت اور رواداری سے روشناس کرایا جا سکے۔
پارلیمانی ڈپلومیسی — امن و استحکام کی راہ
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اسلام آباد میں ہونے والا سہ فریقی اجلاس نہ صرف پارلیمانی تعاون کے فروغ کے لیے اہم ہے بلکہ یہ خطے میں استحکام، مشترکہ ترقی اور امن کے نئے راستے کھولے گا۔
پاکستان کی قیادت میں یہ اجلاس اس بات کا ثبوت ہے کہ پارلیمنٹ عالمی سطح پر امن اور ہم آہنگی کے فروغ میں فعال کردار ادا کرنے کے لیے پُرعزم ہے۔