نائب وزیر اعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار کی مصری ہم منصب سے ملاقات، غزہ میں فوری امن و انسانی امداد پر اتفاق
یوتھ ویژن نیوز : (مس کنول فرید سے ) نائب وزیرِ اعظم و وزیرِ خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے مصر کے شہر شرم الشیخ میں جاری ”غزہ امن کانفرنس“ کے دوران مصر کے وزیرِ خارجہ ڈاکٹر بدر عبدالعاطی سے اہم ملاقات کی۔ دونوں رہنماؤں نے غزہ اور فلسطین میں امن، استحکام، اور انسانی امداد کی فوری فراہمی سے متعلق امور پر تفصیلی گفتگو کی۔
ملاقات نہایت دوستانہ اور تعمیری ماحول میں ہوئی۔ فریقین نے اس بات پر زور دیا کہ مشرقِ وسطیٰ میں پائیدار امن کے لیے فوری جنگ بندی اور انسانی امداد کے غیر مشروط تسلسل کی ضرورت ہے۔ نائب وزیرِ اعظم اسحاق ڈار نے غزہ میں جاری انسانی بحران پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ “پاکستان فلسطینی عوام کے ساتھ کھڑا ہے اور عالمی برادری سے مطالبہ کرتا ہے کہ وہ انسانی ہمدردی کی بنیاد پر فوری اقدامات کرے۔
اسحاق ڈار نے غزہ امن کانفرنس کی کامیاب میزبانی پر مصر کی حکومت اور عوام کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ ”پاکستان مصر کے اس کردار کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے جو اس نے خطے میں کشیدگی کم کرنے اور مذاکرات کی بحالی کے لیے ادا کیا ہے۔ قاہرہ نے ہمیشہ امن، استحکام اور سفارتکاری کے فروغ میں کلیدی کردار ادا کیا ہے۔“
وزیر اعظم شہباز شریف اور فلسطینی صدر محمود عباس کے درمیان اہم ملاقات،غزہ جنگ بندی پر اطمینان کا اظہار
دونوں رہنماؤں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ فلسطینی عوام کے دکھوں کے ازالے کے لیے انسانی امداد کے قافلوں کو غزہ تک بلا تعطل پہنچانے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسپتالوں، پناہ گزینوں اور بچوں کے لیے فوری طبی و غذائی امداد عالمی برادری کی اخلاقی ذمہ داری ہے۔
ملاقات میں فریقین نے او آئی سی (تنظیمِ تعاونِ اسلامی) کے کردار پر بھی بات چیت کی اور اس بات پر زور دیا کہ مسلم ممالک کو مشترکہ پالیسی کے ذریعے فلسطین کے مسئلے پر متحد مؤقف اختیار کرنا چاہیے۔
اسحاق ڈار نے کہا کہ “پاکستان نے ہمیشہ فلسطینی عوام کے حقِ خود ارادیت کی حمایت کی ہے اور اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کے مطابق ایک آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کا خواہاں ہے۔” انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان ہر فورم پر فلسطین کی آواز بننے کے لیے پرعزم ہے۔
مصر کے وزیرِ خارجہ ڈاکٹر بدر عبدالعاطی نے پاکستان کے مثبت کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ ”پاکستان نے ہمیشہ عالمی سطح پر امن، انصاف اور انسانی وقار کے تحفظ کی وکالت کی ہے۔ غزہ کے معاملے پر اسلام آباد کا مؤقف واضح اور اصولی ہے، جو امتِ مسلمہ کے اتحاد کو تقویت دیتا ہے۔“
انہوں نے کہا کہ مصر خطے میں استحکام کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے گا، اور پاکستان جیسے برادر ممالک کے تعاون سے مشرقِ وسطیٰ میں امن کے قیام کی راہیں مزید ہموار ہوں گی۔
ملاقات کے دوران دونوں وزرائے خارجہ نے اس بات پر بھی اتفاق کیا کہ فلسطینی عوام کو درپیش مشکلات صرف امداد سے حل نہیں ہوں گی، بلکہ ایک سیاسی حل اور دو ریاستی فارمولے پر عمل درآمد ہی خطے میں پائیدار امن کی ضمانت دے سکتا ہے۔
ذرائع کے مطابق، ملاقات میں پاکستان اور مصر کے درمیان اقتصادی تعاون، تعلیمی تبادلے، اور سرمایہ کاری بڑھانے سے متعلق امور پر بھی بات چیت ہوئی۔ دونوں ممالک نے دوطرفہ تعلقات کو نئی بلندیوں تک لے جانے کے عزم کا اظہار کیا۔
نائب وزیرِ اعظم نے کہا کہ ”پاکستان مصر کے ساتھ اپنے تعلقات کو خصوصی اہمیت دیتا ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان تاریخی اور مذہبی رشتے ہمارے تعلقات کو مضبوط بناتے ہیں۔ ہمیں ان تعلقات کو اقتصادی و تجارتی میدان میں بھی آگے بڑھانا چاہیے۔“
غزہ امن کانفرنس میں مصر، پاکستان، ترکیہ، قطر، اردن، سعودی عرب، اور اقوامِ متحدہ کے نمائندے شریک ہیں۔ عالمی رہنماؤں کا مقصد جنگ بندی کے بعد انسانی امداد کی فراہمی، تعمیرِ نو کے اقدامات، اور خطے میں پائیدار امن کے لیے مشترکہ حکمتِ عملی طے کرنا ہے۔
بین الاقوامی مبصرین کے مطابق، اسحاق ڈار کی مصر میں موجودگی پاکستان کے فعال اور متوازن سفارتی کردار کی عکاس ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اسلام آباد مشرقِ وسطیٰ میں امن و استحکام کے لیے عملی سفارتکاری کے ذریعے اپنا کردار بڑھا رہا ہے۔