فیاض الحسن چوہان کا عمران خان کے قتل کی سپاری دیئے جانے کا دعویٰ
پاکستان تحریک انصاف کے رہنما فیاض الحسن چوہان نے پارٹی چیئرمین عمران خان کے قتل کی سپاری دیئے جانے کا دعویٰ کیا ہے۔
اپنی ٹوئٹ میں فیاض الحسن چوہان کا کہنا تھاکہ ’اطلاع ہے کہ کچھ لوگوں نے افغانستان میں موجود کوچی نامی دہشت گرد کو تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کو قتل کرنے کی سپاری دی ہے‘
واضح رہے کہ رواں ماہ 16 جون کو ہی عمران خان نے فیاض الحسن چوہان کو اپنا میڈیا ایڈوائزر مقرر کیا تھا۔
خیال رہے کہ 31 مارچ 2022 کو سب سے پہلے سابق وفاقی وزیر فیصل واڈا نے نجی ٹی وی اے آر وائی نیوز کے پروگرام ‘آف دی ریکارڈ’ میں دعویٰ کیا تھا کہ سابق وزیراعظم عمران خان کے ملک بیچنے سے انکار پر انہیں قتل کرنے کی سازش کی جارہی ہے۔
اسی طرح وفاقی وزرا اسد عمر اور فواد چوہدری نے ایک پریس کانفرنس کے دوران کہا تھا کہ ’خط‘ میں متنبہ کیا گیا ہے کہ اگر عمران خان وزیر اعظم رہے تو ‘خوف ناک نتائج’ ہوں گے۔
اپریل کے آغاز میں سابق وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے انکشاف کیا تھا کہ سیکیورٹی ایجنسیوں کو عمران خان کے قتل کی سازش کی اطلاع ملی تھی۔
اپریل کے ہی آخر میں پی ٹی آئی کی حکومت کے خاتمے کے بعد، لاہور کے ڈپٹی کمشنر نے پارٹی کو شہر میں ریلی کے حوالے سے خبردار کیا تھا اور عمران خان کو مشورہ دیا تھا کہ وہ ‘شدید خطرے کے الرٹس’ کی روشنی میں ورچوئلی اجتماع سے خطاب کریں۔
بعد ازاں 14مئی کو سابق وزیر اعظم نے اس بات کو دہرایا تھا کہ ‘میری جان کو خطرہ ہے اور میں نے ایک ویڈیو ریکارڈ کی ہے جس میں انہوں نے ان تمام لوگوں کے نام لیے ہیں جنہوں نے گزشتہ موسم گرما سے ‘میرے خلاف سازش’ کی تھی’۔
دوسری طرف 20 اپریل کو لاہور کے ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر عطیب سلطان نے پی ٹی آئی رہنماؤں کو خط لکھ کر سابق وزیر اعظم عمران خان کو لاحق ’شدید خطرات کے الرٹ‘ کے سبب جمعرات کو لاہور میں ہونے والے پارٹی کے جلسے سے ورچوئل خطاب کرنے کی تجویز دی تھی۔
جبکہ 21 اپریل کو وزیر اعظم شہباز شریف نے چیئرمین تحریک انصاف عمران خان کو لاحق خطرات کے پیش نظر انہیں فول پروف سیکیورٹی کی فراہمی یقینی بنانے کا حکم دیا تھا۔
وزیر اعظم شہباز شریف نے عمران خان کو سیکیورٹی خطرات کی اطلاع پر وزارت داخلہ کو فوری اور مؤثر اقدامات کی ہدایت کی تھی۔ شہباز شریف نے وزیر داخلہ رانا ثنااللہ کو ذاتی طور پر نگرانی اور احکامات پر عمل درآمد یقینی بنانے کی ہدایت کی تھی۔
3 جون کو تحریک انصاف کے رہنما ڈاکٹر شہباز گل نے دعویٰ کیا تھا کہ سابق وزیراعظم کو اسلام آباد پولیس کی طرف سے دی گئی سیکورٹی واپس لے لی گئی ہے