غزہ جنگ بندی: وزیرِ اعظم شہباز شریف شرم الشیخ پہنچ گئے، عالمی رہنماؤں کے ساتھ تاریخی امن معاہدے پر دستخط آج متوقع

غزہ جنگ بندی: وزیرِ اعظم شہباز شریف شرم الشیخ پہنچ گئے، عالمی رہنماؤں کے ساتھ تاریخی امن معاہدے پر دستخط آج متوقع

وزیرِ اعظم شہباز شریف امریکی صدر ٹرمپ اور مصری صدر السیسی کی دعوت پر شرم الشیخ پہنچ گئے، غزہ جنگ بندی معاہدے کی تقریب میں شرکت کریں گے۔

یوتھ ویژن نیوز : (مظہر اسحاق چشتی سے) مشرقِ وسطیٰ میں برسوں سے جاری غزہ تنازع کے خاتمے کے لیے ہونے والے تاریخی امن معاہدے کی تقریب میں شرکت کے لیے وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف مصر کے سیاحتی شہر شرم الشیخ پہنچ گئے ہیں۔ وزیرِ اعظم امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور مصری صدر عبدالفتاح السیسی کی خصوصی دعوت پر اس تقریب میں شریک ہو رہے ہیں، جسے خطے کے لیے ایک نئی سفارتی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔

ذرائع کے مطابق، وزیرِ اعظم کے ہمراہ اعلیٰ سطحی وفد موجود ہے جس میں نائب وزیرِ اعظم و وزیرِ خارجہ محمد اسحاق ڈار اور وزیرِ اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ شامل ہیں۔ شرم الشیخ ایئرپورٹ پر مصری وزیر ڈاکٹر اشرف صبحی نے وزیرِ اعظم پاکستان کا پرتپاک استقبال کیا۔ اس موقع پر مصر میں پاکستان کے سفیر عامر شوکت، پاکستانی سفارتی عملہ اور مصری وزارتِ خارجہ کے سینئر حکام بھی موجود تھے۔

مزید پڑھیں : غزہ میں بڑی پیش رفت: حماس نے 20 اسرائیلی یرغمالی رہا کردیئے، دو سالہ جنگ کے خاتمے کی راہ ہموار

وزیرِ اعظم شہباز شریف اپنی مصروفیات کے دوران غزہ جنگ بندی سے متعلق امن سربراہی اجلاس میں شرکت کریں گے، جس میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ، مصری صدر عبدالفتاح السیسی، امیرِ قطر شیخ تمیم بن حمد الثانی اور ترکیہ کے صدر رجب طیب ایردوان بھی شریک ہیں۔ اجلاس کے دوران فریقین کی جانب سے ایک جامع غزہ امن معاہدے پر دستخط کیے جانے کا امکان ہے، جس کے تحت اسرائیل اور فلسطینی مزاحمتی گروہوں کے درمیان جنگ بندی اور انسانی امداد کی بحالی پر اتفاق رائے طے پایا ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ معاہدے میں بنیادی نکات میں فوری جنگ بندی، قیدیوں کا تبادلہ، انسانی ہمدردی کی بنیاد پر امدادی راستوں کا قیام، اور اقوامِ متحدہ کی نگرانی میں تعمیرِ نو کا فریم ورک شامل ہے۔ بین الاقوامی مبصرین اس اجلاس کو مشرقِ وسطیٰ کی تاریخ میں ایک اہم موڑ قرار دے رہے ہیں، جہاں کئی دہائیوں سے جاری تنازعہ اب ممکنہ طور پر ایک پائیدار امن کی جانب بڑھ رہا ہے۔

سرکاری ذرائع کے مطابق، وزیرِ اعظم شہباز شریف اجلاس کے دوران عالمی قیادت کے سامنے پاکستان کا مؤقف پیش کریں گے کہ فلسطینی عوام کو ان کا حقِ خودارادیت دیا جائے اور انسانی بحران کے خاتمے کے لیے عالمی برادری متحد ہو۔ وزیرِ اعظم اپنے خطاب میں اس امر پر زور دیں گے کہ “اسلامی دنیا کی وحدت اور عالمی انصاف کے بغیر مشرقِ وسطیٰ میں دیرپا امن ممکن نہیں۔”

پاکستانی وفد کے ذرائع کے مطابق، وزیرِ اعظم شہباز شریف اپنے مصری اور ترک ہم منصبوں کے ساتھ دوطرفہ ملاقاتیں بھی کریں گے جن میں تجارتی تعاون، علاقائی سلامتی، اور توانائی کے اشتراک جیسے امور زیرِ بحث آئیں گے۔ اس کے علاوہ، وہ امیرِ قطر سے بھی ملاقات کریں گے تاکہ پاکستان اور خلیجی ممالک کے درمیان اقتصادی روابط کو مزید مضبوط کیا جا سکے۔

بین الاقوامی مبصرین کے مطابق، شرم الشیخ میں ہونے والا یہ امن معاہدہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے “مشرقِ وسطیٰ میں امن کی نئی امید” کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے۔ ٹرمپ کا دعویٰ ہے کہ ان کی ثالثی کی کوششوں سے غزہ میں دو سال سے جاری انسانی بحران کے خاتمے کی راہ ہموار ہوئی ہے۔ تاہم بعض مغربی تجزیہ کار اس معاہدے کو “انتخابی سفارتکاری” قرار دے رہے ہیں، کیونکہ ٹرمپ آئندہ امریکی انتخابات کے تناظر میں عالمی امن کارنامہ اپنے بیانیے میں شامل کرنا چاہتے ہیں۔

ادھر مصر کے صدر عبدالفتاح السیسی نے بھی اس اجلاس کی میزبانی کو “عرب اتحاد اور اسلامی یکجہتی کی علامت” قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ مصر ہمیشہ فلسطین کے حق میں رہا ہے اور اب وقت آگیا ہے کہ خونریزی کا سلسلہ ختم کیا جائے۔ ترکیہ کے صدر رجب طیب ایردوان نے بھی روانگی سے قبل بیان دیا کہ “غزہ کی زمین پر بہنے والا خون امتِ مسلمہ کے لیے ایک چیلنج ہے، جس کا جواب ہم اتحاد سے دیں گے۔”

پاکستانی دفترِ خارجہ کے مطابق، وزیرِ اعظم کی شرم الشیخ آمد نہ صرف غزہ امن معاہدے کے لیے پاکستان کی حمایت کا اظہار ہے بلکہ یہ پاکستان کی خارجہ پالیسی میں امن، استحکام اور انسانی ہمدردی پر مبنی ترجیحات کی بھی عکاسی کرتی ہے۔ ترجمان دفترِ خارجہ نے کہا کہ پاکستان نے ہمیشہ فلسطینی عوام کے حقوق کی حمایت کی ہے اور آئندہ بھی اقوامِ متحدہ اور او آئی سی کے فورمز پر یہ آواز بلند کرتا رہے گا۔

ذرائع کے مطابق، شرم الشیخ میں ہونے والی تقریب میں دستخط کے بعد مشترکہ اعلامیہ جاری کیا جائے گا جس میں جنگ بندی کے نفاذ کا ٹائم فریم، بین الاقوامی مبصر مشن کی تشکیل، اور امدادی راستوں کے تحفظ کی ضمانت شامل ہوگی۔ تقریب کے اختتام پر عالمی رہنما مشترکہ پریس کانفرنس سے بھی خطاب کریں گے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں