دہشتگردوں کے زیراستعمال افغانستان میں چھوڑا گیا اسلحہ ہے،شیخ رشید
اسلام آباد -(عمران قذافی سے ) وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید نے کہا ہے کہ دہشتگردوں کے زیر استعمال افغانستان میں چھوڑا گیا اسلحہ ہے،افغانستان اور بھارت میں ٹی ٹی پی دوبارہ سے رابطوں میں ہے، سیکیورٹی فورسز دہشتگردوں کو ختم کرکے ہی دم لیں گی۔ انہوں نے اپنے بیان میں کہا کہ دہشت گرد حملوں کی اطلاع تھی، ہم نے صوبوں کو آگاہ کردیا تھا، چیف سیکریٹریز کو بھی ممکنہ حملوں سے آگاہ کیا تھا۔
یوتھ ویژن نیوز کے مطابق وزیر داخلہ شیخ رشید نے کہا کہ دہشتگردوں کے زیراستعمال وہی اسلحہ ہے جوافغانستان میں چھوڑا گیا، افغانستان اور بھارت میں ٹی ٹی پی دوبارہ سے رابطوں میں ہے، سیکیورٹی فورسز دہشتگردی کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں، سیکیورٹی فورسز دہشتگردوں کو ختم کرکے ہی دم لیں گی۔
یوتھ ویژن نیوز کے مطابق وفاقی وزارت داخلہ نے چاروں صوبوں میں سیکیورٹی ہائی الرٹ کرنے کا حکم جاری کر دیا۔
سیکیورٹی الرٹ کرنے کا مراسلہ بلوچستان کے علاقوں نوشکی اور پنجگور میں ہونے والے دہشتگرد واقعات کے تناظر میں جاری کیا گیا ہے۔ واضح رہے کہ سیکیورٹی فورسز نے بلوچستان میں امن دشمنوں کا بڑا حملہ ناکام بنا دیا ہے، گزشتہ روز سے جاری زبردست جھڑپوں میں نوشکی اور پنجگور میں 13 دہشتگرد مارے گئے ہیں، جبکہ افسر سمیت7 سیکیورٹی اہلکار شہید، اور 4 زخمی ہوئے ہیں۔
آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ جوانوں نے امن دشمنوں کیخلاف بروقت مؤثر کارروائی کی، پنجگور میں سرچ آپریشن جاری ہے، سیکیورٹی فورسز نے 4 سے 5 دہشتگردوں کو گھیر رکھا ہے۔مشیرداخلہ بلوچستان میرضیاء لانگو نے کوئٹہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ نوشکی میں ایف سی کیمپ پر حملہ کیا گیا، دہشتگرد حملے میں 12 جوان زخمی ہوئے ہیں، گزشتہ رات بھی دہشتگردوں کیخلاف کارروائی کی گئی، نوشکی میں دہشتگردوں کیخلاف آپریشن مکمل ہوگیا ہے، نوشکی میں ایک سویلین کی ہلاکت کی بھی اطلاع ہے۔
انہوں نے کہا کہ فورسز پر حملہ کرنے والے4 سے 5 دہشتگرد بازار میں فرار ہوگئے ہیں، دہشتگردوں کی موجودگی پر علاقے میں بازاربند کردیا ہے، دہشتگردوں کے مارے جانے تک بازار بند رہےگا۔ میرضیاء لانگو نے کہا کہ گزشتہ شب دہشت گردوں نے پنجگور اورنوشکی میں سیکورٹی فورسز کے کیمپس پر حملہ کیا نوشکی میں افسر سمیت 5 جوان اورایک سویلین شہید جبکہ 12 زخمی ہوئے ہیں جبکہ 9 دہشت گردوں کو ہلاک کردیا گیا اس طرح پنجگور میں 7 جوان شہید جبکہ 11 زخمی ہوئے ہیں فورسز نے 6 دہشت گردوں کو ہلاک کردیا ہے جبکہ پنجگور میں 4 سے 5 دہشتگردوں کے بازار کی جانب فرار ہونے کی اطلاعات ہیں جس پر علاقے کو گھیرے میں لیکر آپریشن جاری ہے۔
انہوں نے کہا کہ پنجگور اورنوشکی میں کسی بھی ہیلی کاپٹرکے گرنے کی افواہوں میں صداقت نہیں ہے دہشت گردوں کو پشت پناہی حاصل ہے انکے روابط کے حوالے سے تحقیقات جاری ہیں جبکہ کوئٹہ میں اعلیٰ سطحی سیکورٹی اجلاس بھی طلب کرلیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں ڈیڑھ سے دو دہائیوں سے دہشت گردی چل رہی ہے جس سے نہ کوئی مزدور اور نہ ہی کوئی محب وطن پاکستانی محفوظ رہا ہے سیکورٹی فورسز مسلسل لڑائی میں جانوں کا نذرانہ دیکر امن قائم کر رہی ہیں ۔