اے ٹی سی عدالت کا بڑا حکم ! علیمہ خان کے ناقابلِ ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری، پولیس کو فوری پیشی کا حکم

اے ٹی سی عدالت کا بڑا حکم ! علیمہ خان کے ناقابلِ ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری، پولیس کو فوری پیشی کا حکم

یوتھ ویژن نیوز : ( واصب ابراہیم سے) اے ٹی سی عدالت کا بڑا حکم ! علیمہ خان کے ناقابلِ ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری، پولیس کو فوری پیشی کا حکم ۔ اے ٹی سی عدالت راولپنڈی نے پاکستان تحریکِ انصاف (PTI) کے بانی عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان کے خلاف بڑا فیصلہ سناتے ہوئے انہیں گرفتار کر کے اے ٹی سی عدالت میں پیش کرنے کا حکم دے دیا۔ اے ٹی سی عدالت نے ان کے ناقابلِ ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کرتے ہوئے حکم دیا کہ انہیں کل (15 اکتوبر) کو پیش کیا جائے۔

یہ حکم اے ٹی سی عدالت راولپنڈی کے جج امجد علی شاہ نے 26 نومبر ڈی چوک احتجاج کیس کی سماعت کے دوران جاری کیا، جو تھانہ صادق آباد میں درج ہے۔ عدالت نے واضح کیا کہ علیمہ خان کو متعدد مرتبہ طلب کیا گیا لیکن وہ پیش نہ ہوئیں، اس لیے اب گرفتاری کے احکامات ناگزیر ہو گئے ہیں۔

مزید پڑھیں: پی ٹی آئی کے محمد سہیل آفریدی 90 ووٹ لے کر نئے وزیرِاعلیٰ خیبر پختونخوا منتخب

ذرائع کے مطابق، کیس کی سماعت کے دوران عدالت نے علیمہ خان کی حاضری معافی کی درخواست مسترد کر دی اور ریمارکس دیے کہ ”طلبی کے باوجود بار بار پیش نہ ہونا عدالتی امور میں رکاوٹ ڈالنے کے مترادف ہے۔ “جج نے مزید کہا کہ ”عدالت کی کارروائی کو سنجیدگی سے نہ لینا نظامِ انصاف کی توہین کے برابر ہے۔“

اے ٹی سی عدالت نے حکم دیا کہ ناقابلِ ضمانت وارنٹ گرفتاری کے احکامات فوری طور پر تفتیشی افسر کو فراہم کیے جائیں تاکہ ان پر فوری عمل درآمد کیا جا سکے۔

واضح رہے کہ آج کی سماعت کے دوران علیمہ خان پر فردِ جرم عائد ہونی تھی، تاہم وہ عدالت میں پیش نہیں ہوئیں۔ استغاثہ کے مطابق، ان کی غیر حاضری کے باعث فردِ جرم عائد کرنے کا عمل ملتوی کرنا پڑا۔

پولیس ذرائع کے مطابق، اے ٹی سی عدالت کے حکم کے بعد تفتیشی ٹیم اڈیالہ جیل روانہ ہوگی، جہاں علیمہ خان پہلے سے توشہ خانہ ٹو کیس کی سماعت کے لیے پہنچ رہی ہیں۔ پولیس کا کہنا ہے کہ اے ٹی سی عدالت کی ہدایت کے مطابق جیل میں سماعت مکمل ہونے کے بعد علیمہ خان کی گرفتاری یا وارنٹ کی تعمیل عمل میں لائی جائے گی۔

ذرائع نے بتایا کہ تھانہ صادق آباد احتجاج کیس میں علیمہ خان پر ریاستی املاک کو نقصان پہنچانے، اشتعال انگیزی اور غیر قانونی اجتماع کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔ یہ مقدمہ 26 نومبر کو ڈی چوک اسلام آباد میں PTI کے احتجاج کے دوران درج کیا گیا تھا۔

پولیس ذرائع کے مطابق، مقدمے میں علیمہ خان کے علاوہ متعدد پارٹی رہنماؤں اور کارکنان کے خلاف بھی تحقیقات جاری ہیں۔ اب تک کئی شریک ملزمان عدالت میں پیش ہو چکے ہیں، تاہم علیمہ خان کی غیر حاضری پر عدالت نے سخت نوٹس لیا۔

سماعت کے دوران اے ٹی سی عدالت نے ریمارکس دیے کہ ”اگر کسی شخص کے خلاف ناقابلِ ضمانت وارنٹ جاری ہو جائیں، تو پولیس کی ذمہ داری ہے کہ وہ ملزم کو بلا تاخیر عدالت کے روبرو پیش کرے۔ کسی بھی تاخیر کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔“

دوسری جانب، PTI کے قریبی ذرائع کا کہنا ہے کہ علیمہ خان اے ٹی سی عدالت کا احترام کرتی ہیں اور وہ اپنے قانونی مشیران سے مشاورت کر رہی ہیں۔ پارٹی کے قانونی وِنگ نے کہا کہ ”ہم عدالت کے تمام احکامات پر عمل درآمد کریں گے اور قانونی طور پر اپنا مؤقف پیش کریں گے۔“

سیاسی مبصرین کے مطابق، یہ پیش رفت عمران خان کے خاندان کے لیے ایک اور قانونی امتحان ثابت ہو سکتی ہے، کیونکہ پارٹی کی اعلیٰ قیادت پہلے ہی مختلف مقدمات کا سامنا کر رہی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ علیمہ خان کے خلاف وارنٹ گرفتاری کا فیصلہ نہ صرف قانونی بلکہ سیاسی اثرات بھی رکھتا ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب ملک میں سیاسی درجہ حرارت پہلے ہی بلند ہے۔

ذرائع کے مطابق، اے ٹی سی عدالت کی ہدایت کے بعد پولیس نے علیمہ خان کی ممکنہ گرفتاری کے لیے اقدامات شروع کر دیے ہیں۔ امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ ان کی پیشی کل صبح عدالت میں ہوگی جہاں فردِ جرم عائد کیے جانے کا امکان ہے۔

ادھر، PTI کے کچھ رہنماؤں نے عدالت کے فیصلے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ ” یہ کارروائیاں سیاسی انتقام کا تسلسل معلوم ہوتی ہیں“ جبکہ قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ عدالت کا فیصلہ آئینی دائرہ کار میں رہتے ہوئے کیا گیا ہے اور ملزم کی غیر حاضری کسی بھی مقدمے میں وارنٹ جاری کرنے کا جواز فراہم کرتی ہے۔

قانونی حلقوں میں یہ معاملہ اس وقت بھی زیرِ بحث ہے کہ اگر علیمہ خان جیل میں پہلے سے موجود ہوں تو کیا عدالتی پیشی جیل کے اندر ہی ممکن ہے یا انہیں علیحدہ طور پر عدالت لایا جائے گا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ عدالت اس بارے میں کل سماعت میں فیصلہ کرے گی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں