اسرائیل اور امریکا کا ایران پر مشترکہ حملہ – ایران کا جوابی حملہ
یوتھ ویژن نیوز : (عمران قذافی سے) اسرائیل اور امریکا کا ایران پر مشترکہ حملہ – آپریشن ‘ایپک فیوری’ کا آغاز
تہران/واشنگٹن/تل ابیب (یوتھ ویژن بین الاقوامی ڈیسک) – مشرق وسطیٰ میں نئی جنگ کا خطرہ منڈلا رہا ہے۔ اسرائیل اور امریکا نے ایران کے دارالحکومت تہران سمیت متعدد شہروں پر بڑے پیمانے پر فضائی حملے کر دیے ہیں۔ اسرائیل امریکا ایران پر حملہ کی یہ کارروائی "آپریشن ایپک فیوری” کے نام سے کی جا رہی ہے جس کے بعد پورے خطے میں کشیدگی انتہائی خطرناک سطح پر پہنچ گئی ہے۔ ایران نے جوابی کارروائی میں خلیجی ممالک میں امریکی فوجی اڈوں پر میزائل حملے کر دیے ہیں۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق اسرائیلی وزیر دفاع نے تصدیق کی ہے کہ اسرائیل اور امریکا نے ایران پر مشترکہ فوجی حملہ کیا ہے جس میں امریکی فضائیہ نے بھی فعال حصہ لیا۔ حملے کے بعد تہران میں 3 شدید دھماکوں کی آواز سنی گئی اور فوری طور پر ہنگامی سائرن بجا دیے گئے۔
تہران میں دھماکے: پہلی لہر کی تفصیلات
تہران میں دھماکے رات کے وقت ہوئے جب اسرائیلی اور امریکی فائٹر جیٹس نے ایرانی دارالحکومت پر حملہ کیا۔ ایرانی میڈیا کے مطابق یونیورسٹی اسٹریٹ اور جمہوری ایریا میں کئی میزائل گرائے گئے۔ حملوں کا دائرہ صرف تہران تک محدود نہیں رہا بلکہ قوم، خرام آباد، اصفہان اور بوشہر میں بھی حملے کیے گئے۔
نشانے پر آنے والے اہداف:
انٹیلی جنس ہیڈکوارٹرز: ایرانی خفیہ اداروں کے مراکز کو نشانہ بنایا گیا۔
فوجی کمانڈرز: روسی میڈیا کے مطابق کئی فوجی کمانڈر ہلاک ہوئے۔
مہرآباد ایئرپورٹ: ایران کے اہم ترین ہوائی اڈے کو نشانہ بنانے کی اطلاعات۔
وزیر اطلاعات: حکومتی عمارات بھی ہدف بنیں۔
ایوان صدر: ایرانی صدر کو نشانہ بنانے کی کوشش کی گئی۔
اسرائیلی حکام نے واضح کیا کہ یہ حملوں کی پہلی لہر ہے اور دوسری لہر متوقع ہے۔ انہوں نے کہا کہ چار روز تک شدید اور مربوط حملے کیے جائیں گے جس کے بعد تہران کی صورتحال مکمل طور پر تبدیل ہو جائے گی۔
آپریشن ایپک فیوری: ڈونلڈ ٹرمپ کا تاریخی بیان
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران حملہ کے حوالے سے ہنگامی بیان میں سامنے آئے اور انہوں نے اس آپریشن کو "ایپک فیوری” (Epic Fury) کا نام دیا۔ ٹرمپ کا یہ بیان انتہائی سخت اور جنگی لہجے میں تھا۔
ٹرمپ کے بیان کے اہم نکات:
دہائیوں کی دشمنی: "ایران دہائیوں سے امریکا مردہ باد کے نعرے لگاتا رہا ہے۔”
خطے میں امریکی مفادات: "خطے میں امریکی مفادات پر حملوں کا ذمہ دار ایران ہے۔”
بحریہ کی تباہی: "ہم ایران کی بحریہ کو مکمل طور پر تباہ کرنے جا رہے ہیں۔”
امریکی جانیں: "اس آپریشن میں امریکی فوجیوں کی جانیں بھی جا سکتی ہیں۔”
جوہری پروگرام: "ایران کو کبھی بھی جوہری ہتھیار حاصل کرنے نہیں دیں گے۔”
میزائل پروگرام: "ایرانی میزائل پروگرام کو مٹا دیں گے۔”
پاسداران انقلاب کو الٹی میٹم:
ٹرمپ نے پاسداران انقلاب کو براہ راست الٹی میٹم دیتے ہوئے کہا کہ "اگر پاسداران انقلاب ہتھیار ڈال دیں تو انہیں مکمل استثنٰی ملے گا۔ اگر ایسا نہ کیا تو یقینی موت کا سامنا ہوگا۔”
انہوں نے مزید کہا کہ "ایران برسوں سے امریکی اہداف پر حملے کرتا رہا۔ امریکہ کسی انتہا پسند حکومت کو پروان نہیں چڑھنے دے گا۔”
اسرائیلی دفاعی اہلکار: ماہ ہا کی منصوبہ بندی
اسرائیلی دفاعی اہلکار نے انکشاف کیا کہ اسرائیل امریکا ایران پر حملہ کی منصوبہ بندی مہینوں پہلے سے جاری تھی اور تاریخ کا فیصلہ بھی ہفتوں پہلے کر لیا گیا تھا۔ یہ حملے امریکا کے ساتھ مل کر منظم طریقے سے کیے گئے۔
آپریشن کی تفصیلات:
پیشگی حملے: یہ حملے پری ایمپٹو ہیں جن کا مقصد ایران کی طرف سے فوری خطرے کو کم کرنا ہے۔
چار روز کا آپریشن: چار دن تک مسلسل شدید حملے جاری رہیں گے۔
20 فائٹر جیٹس: تقریباً 20 امریکی اور اسرائیلی فائٹر جیٹس شامی علاقے دارا کے اوپر سے پرواز کرتے ہوئے ایران کی جانب گئے۔
امریکی فضائیہ کی شمولیت: امریکی ایئر فورس نے براہ راست حصہ لیا۔
ایران کا فوری ردعمل: فضائی حدود بند
ایران نے فوری طور پر اپنی فضائی حدود بند کر دی ہیں۔ ایرانی نیوی کو ہائی الرٹ پر رکھ دیا گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای ابھی تہران میں نہیں ہیں اور انہیں ایک محفوظ مقام پر منتقل کر دیا گیا ہے۔
عراق نے بھی اپنی ایئر ٹریفک معطل کر دی ہے تاکہ اپنے فضائی راستے سے کوئی حملہ نہ ہو سکے۔
ایران کا جوابی حملہ خلیجی ممالک: طاقتور ردعمل
ایرانی عہدیدار کا کہنا ہے کہ امریکی اسرائیلی حملوں کے جواب میں ایک طاقتور ترین حملے کی تیاری کی جا رہی ہے۔ ایرانی حکام نے کہا کہ "اسرائیل نے ایسا راستہ اختیار کیا ہے جس کا انجام اس کے ہاتھ میں نہیں۔”
ایران نے جوابی کارروائی میں مختلف عرب ممالک میں امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنایا:
متحدہ عرب امارات: الدفرا ایئربیس کو نشانہ بنایا گیا۔
بحرین: بحری ایئربیس پر حملہ کیا گیا۔
کویت: امریکی فوجی تنصیبات پر میزائل حملے۔
قطر: امریکی اڈوں کو ہدف بنایا گیا۔
اردن: اردن میں بھی امریکی مفادات کو نشانہ بنایا گیا۔
متحدہ عرب امارات میں ہلاکت: ایرانی میزائل حملے
یو اے ای کی سرکاری خبر ایجنسی نے تصدیق کی کہ ایرانی میزائل حملے میں ایک شخص ہلاک ہو گیا جبکہ متحدہ عرب امارات نے اپنے دفاعی نظام کے ذریعے متعدد ایرانی میزائلوں کو فضا میں ہی تباہ کر دیا۔
متحدہ عرب امارات نے سخت ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ "یہ حملہ قومی خودمختاری اور بین الاقوامی قانون کی کھلم کھلا خلاف ورزی ہے۔ متحدہ عرب امارات اس جارحیت کا جواب دینے کا مکمل حق محفوظ رکھتا ہے۔”
دبئی کے علاقے مارینا میں بھی دھماکے کی آواز سنی گئی جس نے مقامی آبادی میں خوف پھیلا دیا۔
سعودی عرب میں بھی دھماکے: ریاض میں کشیدگی
سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض میں بھی دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔ اگرچہ ابھی تک یہ واضح نہیں کہ یہ ایرانی میزائل تھے یا سعودی دفاعی نظام کی فائرنگ، لیکن صورتحال انتہائی کشیدہ ہو گئی ہے۔
سعودی عرب کا سخت ردعمل:
سعودی عرب نے خلیجی ریاستوں پر ایرانی حملوں کی سخت مذمت کی۔ سعودی وزارت خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا:
"ایران مشرق وسطیٰ کے ممالک کی خودمختاری کی خلاف ورزی کر رہا ہے جس کی ہم پرزور مذمت کرتے ہیں۔”
"ایران کی جانب سے بحرین، کویت، متحدہ عرب امارات، قطر اور اردن پر حملے افسوسناک ہیں۔”
"ایران نے خلیجی ممالک پر حملہ کر کے ان کی خودمختاری پر حملہ کیا ہے۔”
"ایران نے بین الاقوامی قوانین کی بھی خلاف ورزی کی ہے۔”
"سعودی عرب تمام عرب ریاستوں کے ساتھ کھڑا ہے۔”
سعودی وزارت خارجہ نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ ایرانی حملوں کی مذمت کرے اور خطے کے امن و سلامتی کو خطرے میں ڈالنے والے ایران کے خلاف ضروری اقدامات کرے۔
اسرائیل میں ایمرجنسی: اسکول بند، شہری محفوظ مقامات پر
ایران میں حملے کے بعد اسرائیل میں فوری طور پر ایمرجنسی نافذ کر دی گئی۔ اسرائیل نے بھی اپنی فضائی حدود بند کر دی ہیں۔
اسرائیل میں احتیاطی اقدامات:
اسکول بند: تمام تعلیمی ادارے بند کر دیے گئے۔
محفوظ مقامات: شہریوں کو بنکرز اور محفوظ مقامات میں رہنے کی ہدایت۔
آئرن ڈوم ایکٹیو: اسرائیلی میزائل دفاعی نظام فل الرٹ پر۔
فوج کی تعیناتی: ملک بھر میں فوج کی تعیناتی میں اضافہ۔
روسی میڈیا کا موقف: فوجی کمانڈرز ہلاک
روسی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ اسرائیلی حملے میں کئی ایرانی فوجی کمانڈر مارے گئے ہیں۔ روسی ذرائع کے مطابق یہ حملے انتہائی منظم اور ٹارگٹڈ تھے۔
روس نے ابھی تک اس تنازعے میں اپنا براہ راست کردار واضح نہیں کیا لیکن ماہرین کا خیال ہے کہ روس ایران کی حمایت میں میدان میں آ سکتا ہے۔
پاسداران انقلاب: ایران کی طاقت
پاسداران انقلاب (IRGC) ایران کی انتہائی طاقتور فوجی قوت ہے جو ایرانی سپریم لیڈر کے براہ راست حکم پر کام کرتی ہے۔ یہ ایران کی باقاعدہ فوج سے الگ ہے اور اس کے پاس جدید ترین میزائل، ڈرونز اور دیگر اسلحہ موجود ہے۔
ٹرمپ نے پاسداران انقلاب کو ہی بنیادی ہدف بنایا ہے اور ان سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا ہے۔
خطے میں کشیدگی: جنگ کا خطرہ
اس واقعے نے پورے مشرق وسطیٰ میں جنگ کا خطرہ پیدا کر دیا ہے۔ ماہرین کا خیال ہے کہ اگر صورتحال کو قابو نہ کیا گیا تو یہ علاقائی جنگ کی شکل اختیار کر سکتی ہے۔
ممکنہ منظرنامے:
ایران کا مزید جوابی حملہ: ایران اسرائیل پر براہ راست حملہ کر سکتا ہے۔
حزب اللہ کی شمولیت: لبنان کی حزب اللہ اسرائیل پر حملے کر سکتی ہے۔
یمنی حوثیوں کا کردار: یمن سے اسرائیل اور سعودی عرب پر حملے۔
عراقی ملیشیاز: عراق میں امریکی اڈوں پر حملے۔
ترکی کا موقف: ترکی کیا کردار ادا کرے گا؟
عالمی برادری کا ردعمل: خاموشی یا مداخلت؟
ابھی تک اقوام متحدہ، یورپی یونین، چین اور دیگر بڑی طاقتوں نے باضابطہ ردعمل نہیں دیا۔ تاہم ماہرین کا خیال ہے کہ:
اقوام متحدہ: ہنگامی اجلاس ممکن ہے۔
یورپی یونین: دونوں فریقوں کو پرامن حل کی تلقین۔
چین: ایران کی حمایت کا امکان۔
روس: ایران کے ساتھ کھڑا ہو سکتا ہے۔
نتیجہ: خطرناک صورتحال
اسرائیل امریکا ایران پر حملہ اور ایران کا جوابی حملہ خلیجی ممالک پر یہ ثابت کرتا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں صورتحال انتہائی خطرناک ہو چکی ہے۔ آپریشن ایپک فیوری نام کا یہ فوجی آپریشن خطے میں بڑی جنگ کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتا ہے۔
ڈونلڈ ٹرمپ کے سخت لہجے اور ایران کے جوابی حملوں نے ثابت کر دیا ہے کہ کوئی بھی فریق پیچھے ہٹنے کے لیے تیار نہیں۔
یوتھ ویژن اس تاریخی صورتحال پر مسلسل اپ ڈیٹس فراہم کرتا رہے گا۔