سرکاری گاڑیوں میں ہائی اوکٹین فیول پر پابندی عائد
یوتھ ویژن نیوز : (عمران قذافی سے) وزیراعظم شہباز شریف نے اہم فیصلہ کرتے ہوئے سرکاری گاڑیوں میں ہائی اوکٹین فیول کے استعمال پر مکمل پابندی عائد کر دی ہے، جس کا اطلاق فوری طور پر کر دیا گیا ہے۔ اس اقدام کو حکومتی اخراجات میں کمی اور وسائل کے مؤثر استعمال کی جانب بڑا قدم قرار دیا جا رہا ہے۔
کفایت شعاری پالیسی کے تحت فیصلہ
حکومتی بیان کے مطابق یہ فیصلہ ہائی اوکٹین فیول پر پٹرولیم لیوی میں حالیہ اضافے کے تسلسل میں کیا گیا ہے۔ وزیراعظم نے واضح کیا کہ سرکاری اخراجات میں کمی اور کفایت شعاری پالیسی پر سختی سے عملدرآمد وقت کی اہم ضرورت ہے۔
خلاف ورزی پر سخت کارروائی کا انتباہ
بیان میں کہا گیا ہے کہ سرکاری خرچ پر ہائی اوکٹین کے استعمال پر مکمل پابندی ہوگی، اور اگر کسی محکمے میں اس کا استعمال ناگزیر ہو تو متعلقہ افسر کو ذاتی خرچ پر یہ ایندھن استعمال کرنا ہوگا۔ حکام کو ہدایت دی گئی ہے کہ فیصلے کی خلاف ورزی کی صورت میں سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔
تمام اداروں کو فوری ہدایات
وفاقی وزارتوں، خودمختار اداروں اور دیگر سرکاری محکموں کو اس فیصلے پر فوری عملدرآمد یقینی بنانے کی ہدایت جاری کر دی گئی ہے۔ اس کے ساتھ ہی ایک مؤثر نگرانی کا نظام وضع کرنے کی بھی ہدایت کی گئی ہے تاکہ کسی قسم کی بے ضابطگی کو روکا جا سکے۔
پہلے کیے گئے اقدامات کا تسلسل
واضح رہے کہ اس سے قبل حکومت کی جانب سے سرکاری گاڑیوں کے ایندھن میں 50 فیصد تک کمی اور تقریباً 60 فیصد گاڑیوں کو گراؤنڈ کرنے جیسے اقدامات بھی کیے جا چکے ہیں۔ ان فیصلوں کا مقصد قومی خزانے پر بوجھ کم کرنا اور وسائل کا بہتر استعمال یقینی بنانا ہے۔
عوامی ریلیف اور معاشی اثرات
حکومت کے مطابق ان اقدامات سے حاصل ہونے والی بچت کو عوامی ریلیف فراہم کرنے اور پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں استحکام کے لیے استعمال کیا جائے گا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس طرح کے اقدامات سے نہ صرف حکومتی اخراجات کم ہوں گے بلکہ معاشی نظم و ضبط کو بھی فروغ ملے گا۔