پاکستان میں گندم کا بحران 26-2025: پیداوار میں کمی، معاشی دباؤ اور غذائی تحفظ کو درپیش سنگین چیلنجز

پاکستان کے صوبہ پنجاب میں گندم کی کٹائی کا منظر، زرعی ماہرین اور کسانوں کے درمیان پیداواری اہداف پر گفتگو۔

تحریر: عدنان صابر (سٹوڈنٹ آف سوئل سائنس، دی اسلامیہ یونیورسٹی آف بہاولپور)

پاکستان کا ربیع سیزن 2025-26 ملکی زرعی اور اقتصادی تاریخ کے ایک نازک موڑ پر کھڑا ہے۔ وفاقی کمیٹی برائے زراعت (FCA) نے اس سال کے لیے گندم کی پیداوار کا ہدف 29.68 ملین ٹن مقرر کیا ہے، جس کے لیے 9.648 ملین ہیکٹر رقبے پر کاشت کی منصوبہ بندی کی گئی ہے۔ تاہم، ماضی کے اعداد و شمار اس ہدف کی حقیقت پسندی پر سوالیہ نشان لگاتے ہیں۔

اہداف اور گزشتہ کارکردگی کا موازنہ: گزشتہ سیزن (2024-25) میں حکومت نے 33.58 ملین ٹن کا بلند بانگ ہدف رکھا تھا، لیکن حقیقت میں صرف 28.42 ملین ٹن پیداوار حاصل ہو سکی۔ یعنی تقریباً 5.16 ملین ٹن (10 فیصد) کی بڑی کمی واقع ہوئی۔ اس کمی نے نہ صرف قومی غذائی تحفظ (Food Security) پر دباؤ ڈالا بلکہ درآمدات پر انحصار بڑھنے کے خدشات بھی پیدا کر دیے۔

کسانوں کی مشکلات اور پالیسی اثرات: حکومت نے اس سال گندم کی کم از کم امدادی قیمت (MSP) 3,500 روپے فی 40 کلوگرام مقرر کی ہے۔ سوائل سائنس کے ماہرین اور زرعی تجزیہ کاروں کے مطابق، پیداواری لاگت میں اضافے کے باعث یہ قیمت کسانوں کے لیے پرکشش نہیں رہی۔ یہی وجہ ہے کہ گندم کے زیرِ کاشت رقبے میں 6.5 فیصد کمی دیکھی گئی ہے، کیونکہ کسانوں نے منافع بخش متبادل فصلوں کی طرف رجوع کر لیا ہے۔

موسمیاتی تبدیلی اور انتظامی چیلنجز: پاکستان کی مغربی سرحدوں اور بلوچستان میں خشک سالی اور بارشوں کی کمی نے پیداواری رفتار کو متاثر کیا ہے۔ اگرچہ پنجاب میں 12.5 ملین ایکڑ پر بوائی مکمل ہو چکی ہے، لیکن موسمیاتی بے ترتیبی اور پانی کی کمی معیار اور مقدار دونوں پر اثر انداز ہو سکتی ہے۔ وفاقی حکومت کی جانب سے سرٹیفائیڈ بیج، یوریا اور زرعی قرضوں کی فراہمی میں بہتری کے دعوے تو موجود ہیں، لیکن ان کا زمینی اثر فصل کی کٹائی کے وقت ہی معلوم ہوگا۔

معاشی اثرات کا انتباہ: اگر گندم کی پیداوار مقررہ ہدف سے کم رہتی ہے، تو اس کا براہِ راست اثر پاکستان کی GDP اور زرِ مبادلہ کے ذخائر پر پڑے گا۔ گندم کی درآمد پر خرچ ہونے والا قیمتی زرمبادلہ تجارتی خسارے میں اضافے کا باعث بنے گا، جس سے مہنگائی کا ایک نیا طوفان آ سکتا ہے۔

نتیجہ: گندم صرف ایک فصل نہیں بلکہ پاکستان کی قومی سلامتی کا ستون ہے۔ وقت کا تقاضا ہے کہ حکومت اور اسٹیک ہولڈرز کسانوں کا اعتماد بحال کریں، بیج کی کوالٹی پر توجہ دیں اور ‘سوائل ہیلتھ’ (Soil Health) کو بہتر بنانے کے لیے جدید سائنسی طریقوں کو اپنائیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں