اسلام آباد میں ممکنہ مذاکرات کی اہم پیشرفت

اسلام آباد میں ممکنہ پاک امریکا ایران مذاکرات، عالمی سفارتکاری اور جنگ بندی کی کوششوں کی نمائندہ تصویر۔

اسلام آباد میں امریکا اور ایران کے ممکنہ مذاکرات، پاکستان سمیت کئی ممالک کی ثالثی، جنگ بندی اور کشیدگی میں کمی کی امیدیں بڑھ گئیں۔

یوتھ ویژن نیوز : (ویب ڈسک) مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے دوران امریکا اور ایران کے درمیان بالواسطہ مذاکرات میں اہم پیشرفت سامنے آئی ہے، جبکہ سفارتی ذرائع کے مطابق اسلام آباد میں ممکنہ براہِ راست مذاکرات کی راہ ہموار ہو رہی ہے۔ یہ پیشرفت خطے میں امن اور جنگ بندی کی امیدوں کو تقویت دے رہی ہے۔

ثالثی میں پاکستان کا اہم کردار

ذرائع کے مطابق پاکستان، ترکیہ اور مصر سمیت کئی ممالک گزشتہ دو روز سے امریکا اور ایران کے درمیان پیغامات کے تبادلے میں مصروف ہیں۔ سفارتی ذرائع کا کہنا ہے کہ ان ممالک کی کوششوں سے دونوں فریقین کے درمیان رابطے تیز ہوئے ہیں۔

اعلیٰ سطحی ٹیلی فونک رابطوں کی تیاری

اطلاعات کے مطابق ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف، امریکی نمائندہ اسٹیو وٹکوف اور دیگر اہم شخصیات کے درمیان ممکنہ ٹیلی فونک رابطے کی تیاری جاری ہے۔ اگر یہ رابطہ کامیاب ہوتا ہے تو آئندہ چند دنوں میں اسلام آباد میں براہِ راست ملاقات کا امکان بھی ظاہر کیا جا رہا ہے۔

امریکی اور ایرانی مؤقف

سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی نمائندے ایک اعلیٰ ایرانی عہدیدار کے ساتھ مذاکرات میں مصروف ہیں اور کئی اہم نکات پر پیشرفت ہو چکی ہے، جن میں جوہری پروگرام، یورینیم افزودگی اور آبنائے ہرمز کی بحالی شامل ہیں۔

دوسری جانب ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی کے دفتر نے براہِ راست مذاکرات کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکا کے ساتھ کوئی براہِ راست بات چیت نہیں ہو رہی، تاہم خطے کے کچھ ممالک کشیدگی کم کرنے کے لیے سرگرم ہیں۔

ممکنہ جنگ بندی اور عالمی اثرات

ذرائع کے مطابق مذاکرات کا بنیادی مقصد جنگ بندی اور تنازع کے حل کے لیے قابل قبول راستہ نکالنا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر یہ مذاکرات کامیاب ہوتے ہیں تو نہ صرف خطے میں امن قائم ہو سکتا ہے بلکہ عالمی معیشت پر بھی مثبت اثرات مرتب ہوں گے، خصوصاً تیل کی قیمتوں میں استحکام آ سکتا ہے۔

اسرائیل اور عالمی ردعمل

اسرائیلی حکام نے بھی بالواسطہ رابطوں کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ حالیہ پیشرفت غیر معمولی ہے اور اس کی رفتار نے کئی حلقوں کو حیران کر دیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی عالمی برادری بھی ان سفارتی کوششوں کو مثبت پیشرفت قرار دے رہی ہے۔

کشیدگی سے مذاکرات تک کا سفر

یاد رہے کہ حالیہ دنوں میں امریکا نے ایران کو آبنائے ہرمز کھولنے کے لیے ڈیڈ لائن دی تھی جبکہ ایران نے توانائی تنصیبات کو نشانہ بنانے کی دھمکی دی تھی، جس کے باعث عالمی سطح پر شدید کشیدگی پیدا ہو گئی تھی۔ تاہم اب سفارتی کوششوں کے باعث صورتحال میں بہتری کی امید پیدا ہو رہی ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں