اسلام آباد بنے گا ’کیمپ ڈیوڈ‘: فیلڈ مارشل کا ٹرمپ کو فون، تہران سے پنڈی تک جنگ بندی کا مشن!
پاکستان کی ثالثی میں امریکا اور ایران کے درمیان اسلام آباد میں ممکنہ مذاکرات، جنگ بندی کی کوششیں تیز، عالمی سفارتی سرگرمیاں عروج پر۔
یوتھ ویژن نیوز : (ویب ڈسک) مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے تناظر میں پاکستان نے امریکا اور ایران کے درمیان ممکنہ جنگ بندی کے لیے خود کو ایک اہم ثالث کے طور پر پیش کر دیا ہے، جبکہ عالمی سفارتی ذرائع کے مطابق اسلام آباد میں دونوں ممالک کے اعلیٰ حکام کی ممکنہ ملاقات کی تیاریاں جاری ہیں، جسے خطے میں امن کے لیے ایک بڑی پیشرفت قرار دیا جا رہا ہے۔
اعلیٰ سطحی سفارتی رابطے تیز
ذرائع کے مطابق پاک فوج کے سربراہ عاصم منیر نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے رابطہ کیا، جبکہ وزیراعظم شہباز شریف نے ایران کے صدر مسعود پزشکیان سے ٹیلیفونک گفتگو کی، جس میں خطے میں کشیدگی کم کرنے، مذاکرات اور سفارتکاری کے فروغ پر زور دیا گیا۔
اسلام آباد میں ممکنہ اہم اجلاس
بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق اسلام آباد میں ممکنہ اجلاس کے لیے کوششیں جاری ہیں، جس میں ایران کی نمائندگی اسپیکر پارلیمنٹ محمد باقر قالیباف کر سکتے ہیں جبکہ امریکا کی جانب سے اسٹیو وٹکوف، جیرڈ کشنر اور ممکنہ طور پر نائب صدر جے ڈی وینس کی شرکت بھی متوقع ہے۔
ثالث ممالک کی سرگرمیاں
ذرائع کے مطابق ترکیہ، مصر اور قطر بھی امریکا اور ایران کے درمیان پیغام رسانی میں متحرک ہیں تاکہ جنگ بندی کی راہ ہموار کی جا سکے۔ سفارتی حلقوں کا کہنا ہے کہ یہ کوششیں ابھی ابتدائی مرحلے میں ہیں تاہم مثبت پیشرفت کے آثار نمایاں ہیں۔
امریکا اور ایران کا مؤقف
وائٹ ہاؤس نے مذاکرات کی تفصیلات سے گریز کرتے ہوئے کہا ہے کہ حساس سفارتی معاملات میڈیا کے ذریعے زیر بحث نہیں لائے جا سکتے، جبکہ ایران کی وزارت خارجہ نے واضح کیا ہے کہ براہِ راست مذاکرات نہیں ہو رہے تاہم دوست ممالک کے ذریعے پیغامات کا تبادلہ جاری ہے۔
ایرانی ترجمان اسماعیل بقائی کے مطابق امریکا کی جانب سے جنگ بندی کی درخواست کے پیغامات موصول ہوئے جن کا مناسب جواب دیا گیا، تاہم ایران کا بنیادی مؤقف بدستور برقرار ہے۔
جنگ بندی کی کوششیں اور عالمی اثرات
ماہرین کے مطابق اگر اسلام آباد میں ممکنہ مذاکرات کامیاب ہوتے ہیں تو یہ نہ صرف مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی کو کم کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتے ہیں بلکہ عالمی معیشت، خصوصاً تیل کی منڈیوں پر بھی مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔
وزیراعظم کا اتحاد اور سفارتکاری پر زور
وزیراعظم شہباز شریف نے ایرانی صدر سے گفتگو میں امتِ مسلمہ کے درمیان اتحاد و یکجہتی کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ موجودہ حالات میں سفارتکاری ہی مسائل کا واحد حل ہے۔ انہوں نے پاکستان کے تعمیری کردار کو جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ بھی کیا۔