پاکستان اور انڈونیشیا کے درمیان بڑی تجارتی پیش رفت، اہم فیصلوں پر مشاورت
یوتھ ویژن نیوز : ( محمد عباس سے) وفاقی وزیر تجارت جام کمال خان نے وزیر اعظم شہباز شریف کی ہدایات پر پاکستان میں تعینات انڈونیشیا کے سفیر چندرا وارسینانٹو سوکتجو سے تفصیلی ملاقات کی، جس میں پاکستان اور انڈونیشیا کے درمیان دوطرفہ تجارت، سرمایہ کاری اور مختلف شعبوں میں تعاون کے فروغ پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
وفاقی وزیر تجارت جام کمال خان انڈونیشی سفیر سے ملاقات کرتے ہوئے
ملاقات کے دوران وفاقی وزیر تجارت نے انڈونیشی سفیر کو پاکستان کی بدلتی ہوئی تجارتی حکمت عملی سے آگاہ کیا، جس میں چاول کی برآمدات کو خصوصی ترجیح حاصل ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان عالمی سطح پر اعلیٰ معیار کے چاول کا ایک بڑا برآمد کنندہ ہے، تاہم عالمی منڈی میں قیمتوں کے دباؤ اور بعض ممالک کی پالیسی مداخلت کے باعث مسابقتی چیلنجز درپیش ہیں، جن سے نمٹنے کے لیے حکومت مالی اور تجارتی اقدامات پر کام کر رہی ہے۔
جام کمال خان نے انڈونیشیا سمیت منتخب شراکت دار ممالک کے ساتھ اوپن مارکیٹ اور حکومت سے حکومت (جی ٹو جی) فریم ورک کے تحت تعاون کی تجویز دی اور پاکستان۔انڈونیشیا چاول تعاون فریم ورک کی بحالی پر زور دیا۔ انہوں نے بتایا کہ 2015 میں طے پانے والا چاول سے متعلق مفاہمتی یادداشت، جس کے تحت سالانہ دس لاکھ میٹرک ٹن تک چاول کی فراہمی شامل تھی، 2019 میں ختم ہو چکا تھا، تاہم اس کا نظرثانی شدہ مسودہ انڈونیشی حکام کو ارسال کر دیا گیا ہے۔
وفاقی وزیر تجارت نے زرعی برآمدات بالخصوص کینو سے متعلق درپیش مسائل بھی اجاگر کیے۔ انہوں نے کہا کہ انڈونیشیا کی جانب سے درآمدی کوٹہ کے اجرا میں تاخیر سے پاکستانی برآمدکنندگان اور کاشتکاروں کو نقصان پہنچ سکتا ہے، جبکہ کینو کے لیے غذائی و زرعی جانچ کی تعداد آٹھ سے بڑھا کر چوبیس کیے جانے سے لاگت اور وقت میں اضافہ ہو رہا ہے۔ اس حوالے سے محکمہ تحفظِ نباتات انڈونیشی حکام کے ساتھ رابطے میں ہے۔
ملاقات میں زراعت کے علاوہ توانائی، بائیوڈیزل، معدنیات، بنیادی ڈھانچے اور خصوصی اقتصادی زونز میں تعاون کے امکانات پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔ جام کمال خان نے انڈونیشی سرمایہ کاروں کو پاکستان میں پام آئل کے ذخیرہ، پراسیسنگ اور علاقائی منڈیوں تک رسد کے مواقع سے فائدہ اٹھانے کی دعوت دی اور پاکستان کے بندرگاہی اور لاجسٹکس انفراسٹرکچر کی استعداد کو اجاگر کیا۔
انڈونیشیا کے سفیر چندرا وارسینانٹو سوکتجو نے پاکستان کی تجاویز کا خیرمقدم کرتے ہوئے یقین دلایا کہ چاول، زرعی منڈی تک رسائی، تجارتی سہولت کاری اور تعاون سے متعلق امور جکارتہ میں متعلقہ حکام تک پہنچائے جائیں گے۔
فریقین نے مشترکہ تجارتی و ترقیاتی کمیٹی کے جلد انعقاد، تجارتی فورمز اور ورچوئل مشاورت کے ذریعے روابط بڑھانے پر اتفاق کیا اور اس عزم کا اظہار کیا کہ دوطرفہ دوستانہ تعلقات کو ٹھوس اقتصادی نتائج میں تبدیل کیا جائے گا۔