افغان حکومت کی درخواست پر پاکستان کی جنگ بندی میں غیر متوقع توسیع، خطے میں نئی سفارتی پیش رفت
یوتھ ویژن نیوز : اسلام آباد سے موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق پاکستان نے افغان عبوری حکومت کی باضابطہ درخواست پر دونوں ممالک کے درمیان جاری عارضی جنگ بندی میں توسیع کر دی ہے۔
ذرائع کے مطابق یہ فیصلہ اس وقت کیا گیا جب افغان طالبان حکومت نے قطر کے دارالحکومت دوحہ میں جاری مذاکرات کے اختتام تک جنگ بندی برقرار رکھنے کی درخواست کی۔ اس اقدام کو خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے درمیان ایک اہم اور غیر متوقع سفارتی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔ یاد رہے کہ پاکستان اور افغانستان کے سرحدی علاقوں میں گذشتہ ہفتوں کے دوران فائرنگ اور جھڑپوں کے متعدد واقعات سامنے آئے تھے، جن کے نتیجے میں دونوں جانب ہلاکتیں رپورٹ ہوئیں۔ ان واقعات کے بعد پاکستان نے 48 گھنٹے کی عارضی جنگ بندی کا اعلان کیا تھا، جو آج شام چھ بجے ختم ہونا تھی، تاہم افغان طالبان کی درخواست پر اس میں توسیع کر دی گئی ہے۔
خبر ایجنسیوں کے مطابق افغان طالبان کی جانب سے یہ درخواست قطر کے سفارتی ذریعے کے ذریعے پاکستان کو پہنچائی گئی، جس میں کہا گیا تھا کہ دوحہ میں جاری مذاکراتی عمل کو متاثر ہونے سے بچانے کے لیے دونوں ممالک کو تحمل کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔ افغان وزارتِ خارجہ کے ذرائع نے غیر ملکی میڈیا کو بتایا کہ “ہم پاکستان کے ساتھ تمام تنازعات کو بات چیت کے ذریعے حل کرنا چاہتے ہیں، کیونکہ دونوں ممالک کے درمیان سرحدی امن خطے کے مجموعی استحکام کے لیے ناگزیر ہے۔” دوسری جانب پاکستان کے سرکاری ذرائع کا کہنا ہے کہ حکومتِ پاکستان نے جنگ بندی میں توسیع کا فیصلہ علاقائی امن کے مفاد میں کیا ہے، تاہم یہ واضح کیا گیا ہے کہ کسی بھی قسم کی اشتعال انگیزی یا سرحدی خلاف ورزی کی صورت میں پاکستان اپنا دفاعی حق محفوظ رکھتا ہے۔
دفاعی تجزیہ کاروں کے مطابق یہ پیش رفت دونوں ممالک کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی میں وقتی نرمی پیدا کر سکتی ہے، مگر دیرپا امن کے لیے مستقل سفارتی ڈھانچے کی ضرورت ہے۔ ایک سابق سفیر کے مطابق “جنگ بندی کی توسیع وقتی سکون ضرور دے سکتی ہے، لیکن بنیادی مسائل — جیسے سرحدی انتظام، دہشت گرد گروہوں کی موجودگی، اور تجارتی گزرگاہوں پر عدم اعتماد — کو حل کیے بغیر پائیدار امن ممکن نہیں۔”
افغانستان اور پاکستان کے تعلقات میں ہمیشہ سے اتار چڑھاؤ رہا ہے۔ سرحدی تنازعات، دہشت گردی کے واقعات، اور باہمی الزام تراشی نے اکثر دونوں ممالک کے تعلقات کو تناؤ کا شکار رکھا ہے۔ تاہم، افغان طالبان کی جانب سے قطر کے ذریعے بات چیت کی درخواست ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب عالمی برادری افغانستان میں استحکام کے لیے طالبان حکومت پر دباؤ ڈال رہی ہے کہ وہ اپنے ہمسایہ ممالک سے بہتر تعلقات قائم کرے۔
اسلام آباد کے پالیسی ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان نے اس بار جنگ بندی میں توسیع کر کے ایک ذمہ دار ریاست کا کردار ادا کیا ہے۔ ان کے مطابق “یہ اقدام نہ صرف پاکستان کی علاقائی قیادت کے تصور کو مضبوط کرتا ہے بلکہ عالمی سطح پر اس کے سفارتی امیج کو بھی بہتر بناتا ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب بین الاقوامی برادری افغانستان میں امن کے لیے پاکستان کے کردار کو اہم سمجھتی ہے۔”
دوحہ میں جاری مذاکرات کے حوالے سے ذرائع کا کہنا ہے کہ ان میں افغانستان کے اندرونی استحکام، انسانی امداد کی فراہمی، اور دہشت گرد گروہوں کے خاتمے سے متعلق امور پر بات چیت ہو رہی ہے۔ پاکستان کی جانب سے جنگ بندی میں توسیع کے فیصلے کو اس لیے بھی اہم سمجھا جا رہا ہے کہ اس سے مذاکراتی ماحول کو سازگار بنانے میں مدد ملے گی۔ تاہم بعض مبصرین کا خیال ہے کہ اگر سرحدی کشیدگی کے بنیادی اسباب کو حل نہ کیا گیا تو جنگ بندی ایک عارضی حل ہی ثابت ہو گی۔
بلوچستان اور خیبر پختونخوا کے سرحدی علاقوں میں مقامی آبادی اس جنگ بندی کو سکون کی سانس کے طور پر دیکھ رہی ہے۔ کئی شہریوں نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ “ہم نے پچھلے ہفتے گولہ باری اور فائرنگ کی آوازوں سے دن رات گزارے، اب امید ہے کہ یہ خاموشی طویل ثابت ہو۔” اس موقع پر پاکستانی فوج کے ترجمان ادارے آئی ایس پی آر کی جانب سے کہا گیا ہے کہ پاکستان خطے میں امن کے لیے تمام ممکنہ اقدامات جاری رکھے گا، تاہم اپنی خودمختاری اور سلامتی پر کسی سمجھوتے کے لیے تیار نہیں۔
تجزیہ کاروں کے نزدیک یہ پیش رفت دونوں ممالک کے لیے امتحان کی حیثیت رکھتی ہے۔ اگر جنگ بندی برقرار رہتی ہے اور دوحہ مذاکرات مثبت نتیجہ دیتے ہیں تو نہ صرف پاکستان اور افغانستان کے تعلقات میں بہتری آ سکتی ہے بلکہ خطے میں دہشت گردی کے خطرات بھی کم ہو سکتے ہیں۔ بصورتِ دیگر، ایک اور سرحدی بحران مستقبل میں جنم لے سکتا ہے، جس کے اثرات پورے جنوبی ایشیا پر مرتب ہوں گے۔