عیدالفطر پر پاکستان اور افغانستان میں عارضی جنگ بندی کا اعلان، آپریشن ’غضب للحق‘ مؤخر

پاک فوج کے آپریشن غضب للحق کے دوران افغان طالبان کے ایمونیشن ڈپو اور ڈرون ذخیرہ گاہوں کو تباہ کرتے ہوئے فضائی حملے کی منظر کشی

یوتھ ویژن نیوز : (ویب ڈسک) اسلام آباد میں حکومتی ذرائع کے مطابق عیدالفطر کے موقع پر پاکستان اور افغانستان کے درمیان جاری کشیدگی میں کمی لانے کے لیے عارضی جنگ بندی کا اعلان کیا گیا ہے جس کے تحت پاکستان نے اپنی جاری فوجی کارروائی آپریشن ”غضب للحق“ کو محدود مدت کے لیے روک دیا ہے۔

وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ کے مطابق یہ فیصلہ اسلامی اقدار، نیک نیتی اور برادر اسلامی ممالک کی درخواست پر کیا گیا ہے اور یہ جنگ بندی 18 اور 19 مارچ کی درمیانی شب سے نافذ ہو کر 23 اور 24 مارچ 2026 کی درمیانی شب تک جاری رہے گی تاہم حکام نے واضح کیا ہے کہ اگر کسی بھی قسم کی سرحد پار دہشت گردی، ڈرون حملہ یا اشتعال انگیزی سامنے آئی تو یہ آپریشن فوری طور پر دوبارہ شروع کیا جا سکتا ہے۔

پاک افواج کی کابل اور ننگرہار میں فضائی کارروائیاں، اہم ملٹری تنصیبات تباہ

دوسری جانب افغان طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے بھی عید کے احترام میں پاکستان کے خلاف کارروائیوں میں عارضی وقفے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ یہ اقدام مذہبی موقع کے پیش نظر اٹھایا گیا ہے لیکن افغانستان کی سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا اور کسی بھی خطرے کی صورت میں ردعمل دیا جائے گا، خطے میں اس پیش رفت کو مثبت انداز میں دیکھا جا رہا ہے جہاں سعودی عرب، قطر اور ترکیہ نے اس جنگ بندی کا خیرمقدم کرتے ہوئے دونوں ممالک پر زور دیا ہے کہ وہ اس موقع کو مستقل امن کے قیام کے لیے استعمال کریں۔

سعودی وزارت خارجہ نے اپنے بیان میں کہا کہ مذاکرات اور سفارتکاری ہی مسائل کا پائیدار حل ہیں جبکہ قطر نے اسے کشیدگی میں کمی کی جانب ایک اہم قدم قرار دیا، سکیورٹی ذرائع کے مطابق آپریشن ” غضب للحق“ کے دوران پاکستان نے سرحد پار دہشت گردی کے خلاف بھرپور کارروائیاں کرتے ہوئے متعدد دہشت گرد ٹھکانوں، اسلحہ ڈپو اور ٹیکنیکل انفراسٹرکچر کو نشانہ بنایا جس کے نتیجے میں سینکڑوں دہشت گرد ہلاک اور زخمی ہوئے جبکہ کئی پوسٹیں تباہ کی گئیں۔

حکام کا کہنا ہے کہ ان کارروائیوں کا مقصد پاکستان کے اندر ہونے والی دہشت گردی کو روکنا اور قومی سلامتی کو یقینی بنانا تھا، دفاعی ماہرین کے مطابق عید کے موقع پر جنگ بندی کا اعلان ایک اہم سفارتی اور علامتی اقدام ہے جو نہ صرف عوامی سطح پر مثبت پیغام دیتا ہے بلکہ عالمی برادری کو بھی یہ اشارہ دیتا ہے کہ دونوں فریق کشیدگی میں کمی کے لیے سنجیدہ ہیں تاہم ماہرین اس بات پر بھی زور دیتے ہیں کہ پائیدار امن کے لیے ضروری ہے کہ بنیادی مسائل خصوصاً سرحد پار دہشت گردی اور باہمی اعتماد کے فقدان کو مستقل بنیادوں پر حل کیا جائے۔

عوامی حلقوں میں بھی اس فیصلے کو سراہا جا رہا ہے اور امید ظاہر کی جا رہی ہے کہ یہ عارضی سیز فائر مستقل امن کی بنیاد بن سکتا ہے لیکن ماضی کے تجربات کو مدنظر رکھتے ہوئے یہ خدشہ بھی موجود ہے کہ اگر سفارتی پیش رفت نہ ہوئی تو کشیدگی دوبارہ بڑھ سکتی ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں