خیبرپختونخوا میں پاک فوج کی بھرپور کارروائی ، 34 ’فتنہ الخوارج‘ ہلاک، دشمن کو منہ توڑ جواب: آئی ایس پی آر
یوتھ ویژن نیوز : (واصب ابراہیم سے) پاک فوج کے شعبۂ تعلقاتِ عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق خیبرپختونخوا کے مختلف علاقوں میں کی جانے والی انٹیلی جنس بیسڈ کارروائیوں میں 34 دہشتگرد، جنہیں ’فتنہ الخوارج‘ قرار دیا گیا، ہلاک کر دیے گئے۔
آئی ایس پی آر کے مطابق شمالی وزیرستان کے اسپین وام علاقے میں ہونے والی کارروائی کے دوران 18 دہشتگرد مارے گئے، جب کہ جنوبی وزیرستان میں آٹھ اور بنوں میں مزید آٹھ دہشتگردوں کو انجام تک پہنچایا گیا۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ کارروائیاں خفیہ اطلاعات کی بنیاد پر کی گئیں، جن کے دوران سیکیورٹی فورسز اور دہشتگردوں کے درمیان شدید فائرنگ کا تبادلہ ہوا۔ اس موقع پر پاک فوج نے دہشتگردوں کے متعدد ٹھکانوں کو تباہ کیا اور بھاری مقدار میں اسلحہ و گولہ بارود برآمد کر لیا۔
مزید پڑھیں: چمن میں بڑا تصادم! پاک فوج نے افغان طالبان اور فتنہ الخوارج کا حملہ ناکام بنا کر درجنوں دہشتگردوں کو ہلاک کر دیا
ترجمان آئی ایس پی آر نے واضح کیا کہ پاکستان کی سیکیورٹی فورسز بھارت کی سرپرستی میں چلنے والی دہشتگردی کے خاتمے کے لیے پرعزم ہیں اور ’’عزمِ استحکام‘‘ کے تحت ملک سے دہشتگردی کی جڑیں ختم کرنے کے لیے پرعزم جدوجہد جاری رکھے ہوئے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق گزشتہ چند روز کے دوران پاک افغان سرحد (ڈیورنڈ لائن) پر کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے، جہاں افغان طالبان اور خوارج گروہوں کی جانب سے پاکستانی چوکیوں پر حملوں کی کوشش کی گئی، جنہیں سیکیورٹی فورسز نے بروقت اور بھرپور ردِعمل کے ذریعے ناکام بنا دیا۔ بدھ کے روز پاکستانی فورسز نے افغان طالبان اور خوارج کی جانب سے اسپین بولدک کے چار مقامات پر کیے گئے سرحد پار حملوں کو مؤثر انداز میں پسپا کیا۔ آئی ایس پی آر کے مطابق یہ حملے افغان سرزمین سے کیے گئے اور ان میں عام شہریوں کی زندگیوں کو خطرے میں ڈالا گیا، جب کہ دہشتگردوں نے مقامی آبادی کی آڑ میں کارروائیاں کیں۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ افغان طالبان نے پاک افغان دوستی گیٹ کو بھی اپنی طرف سے تباہ کر دیا، جو دو طرفہ تجارت اور قبائلی رابطوں کی علامت سمجھا جاتا تھا۔ اس اقدام کو آئی ایس پی آر نے ’’باہمی اعتماد کے خلاف جارحانہ ذہنیت‘‘ قرار دیا۔ جوابی کارروائی میں پاکستانی فورسز نے 15 سے 20 طالبان جنگجوؤں کو ہلاک اور متعدد کو زخمی کر دیا، جب کہ خفیہ اطلاعات کے مطابق افغان طالبان اور خوارج دہشتگرد مختلف سرحدی مقامات پر دوبارہ منظم ہونے کی کوشش کر رہے ہیں۔ آئی ایس پی آر نے کہا کہ پاکستان اپنی سرحدوں کے تحفظ اور عوام کے دفاع کے لیے ہر ممکن اقدام جاری رکھے گا، اور کسی بھی بیرونی جارحیت یا دہشتگرد کارروائی کو سختی سے کچلنے کے لیے تیار ہے۔ دفاعی ماہرین کے مطابق یہ کارروائیاں نہ صرف دہشتگرد نیٹ ورکس کے خاتمے کی علامت ہیں بلکہ پاک فوج کی بروقت حکمتِ عملی اور پیشہ ورانہ مہارت کا ثبوت بھی ہیں۔ سیکیورٹی تجزیہ کاروں نے کہا ہے کہ پاکستان کی ان کارروائیوں سے خطے میں امن و استحکام کے قیام کے لیے واضح پیغام دیا گیا ہے کہ دہشتگردی کے خلاف جنگ کسی دباؤ یا بیرونی اثر کے بغیر، قومی مفاد کے تحت جاری رہے گی۔