نیب کی سالانہ کارکردگی رپورٹ:ریکارڈ ریکوری اور ڈیجیٹل نظام کے ذریعے متاثرین کو اربوں کی واپسی
یوتھ ویژن نیوز : (عمران قذافی سے ) نیب کی سالانہ رپورٹ 2025 جاری۔ 6.213 ٹریلین روپے کی ریکارڈ ریکوری، 29 لاکھ ایکڑ سرکاری زمین واگزار اور ڈیجیٹل نظام کے ذریعے متاثرین کو اربوں روپے کی براہ راست منتقلی۔
اسلام آباد: قومی احتساب بیورو (نیب) نے سال 2025 کی اپنی سالانہ کارکردگی رپورٹ جاری کر دی ہے، جس کے مطابق ادارے نے گزشتہ ایک سال میں مجموعی طور پر 6.213 ٹریلین روپے کی ریکارڈ ریکوری یقینی بنائی ہے۔ ڈپٹی چیئرمین نیب سہیل ناصر اور پراسیکیوٹر جنرل احتشام قادر شاہ نے میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ یہ ریکوری بیورو کے قیام سے اب تک کی سب سے بڑی سالانہ کامیابی ہے۔ اس میں براہِ راست مالیاتی ریکوری کے علاوہ 29 لاکھ ایکڑ واگزار کرائی گئی سرکاری زمین بھی شامل ہے، جس کی مالیت تقریباً 5.98 ٹریلین روپے بنتی ہے۔
چیئرمین نیب سے انٹرنیشنل ٹرانسپرینسی کے وفد کی ملاقات، شفافیت اور اچھی حکمرانی کے لیے تعاون پر تبادلہ خیال
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ادارے نے ہاؤسنگ اور انویسٹمنٹ اسکیموں کے 1 لاکھ 15 ہزار سے زائد متاثرین کو 180 ارب روپے کا ریلیف فراہم کیا ہے۔ پہلی بار نیب نے نیشنل بینک کے اشتراک سے ڈیجیٹل میکانزم متعارف کرایا ہے، جس کے تحت متاثرین کو ان کے بینک اکاؤنٹس میں براہِ راست رقوم منتقل کی جا رہی ہیں۔ تفتیشی عمل کو مزید شفاف بنانے کے لیے اب مصنوعی ذہانت (AI) اور بلاک چین جیسے جدید آلات کا استعمال کیا جا رہا ہے، جس کی بدولت عدالتوں میں مقدمات کی کامیابی کی شرح 72 فیصد تک پہنچ گئی ہے۔
ادارہ جاتی اصلاحات کے تحت نیب نے ای آفس سسٹم کے ذریعے "پیپر لیس” ماحول اپنا لیا ہے، جبکہ وفاقی کفایت شعاری پالیسی کے تحت 238 اسامیاں ختم کر کے سالانہ 356 ملین روپے کی بچت بھی کی گئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق عوامی شکایات میں 24 فیصد کمی دیکھی گئی ہے، جو بدعنوانی کے خلاف کیے گئے اقدامات پر بڑھتے ہوئے عوامی اعتماد کی عکاسی کرتی ہے۔ بین الاقوامی سطح پر بھی نیب نے ملائیشیا اور سعودی عرب جیسی اینٹی کرپشن ایجنسیوں کے ساتھ مفاہمت کی یادداشتوں پر دستخط کیے ہیں تاکہ عالمی معیار کے مطابق احتساب کو یقینی بنایا جا سکے۔