لاہور ہائیکورٹ: جماعتی بنیادوں پر بلدیاتی انتخابات آئینی حق
یوتھ ویژن نیوز : (عدالتی رپورٹر) — لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس سلطان تنویر احمد نے پنجاب میں بلدیاتی انتخابات کو جماعتی بنیادوں پر کرانے کی درخواست پر سماعت عیدالفطر کے بعد تک ملتوی کر دی۔ عدالت نے الیکشن کمیشن کے وکیل کو جواب داخل کرنے اور تیاری کے لیے مہلت دی۔ مقامی نمائندوں کے انتظامی اور مالی اختیارات پر وکلاء کو دلائل کے لیے طلب کیا گیا۔ سیکرٹری لوکل گورنمنٹ نے کابینہ سے لوکل گورنمنٹ رولز کی منظوری کی رپورٹ عدالت میں پیش کی۔
بلدیاتی انتخابات کرانا آئینی ذمہ داری
عدالت نے ریمارکس دیے کہ بلدیاتی انتخابات کرانا آئینی ذمہ داری ہے اور پارلیمنٹ یا الیکشن کمیشن بھی آئین پر عمل درآمد نہیں روک سکتے۔ جسٹس سلطان تنویر نے کہا کہ قانون سازوں کے قانون سازی کے عمل کو سراہنا چاہیے، اگر وہ صرف یہی کام کریں تو انہیں کسی اور کام کی فرصت نہ ملے۔
رولز میں پارٹی وابستگی اور آزاد امیدوار
سرکاری وکیل نے عدالت کو بتایا کہ رولز میں پارٹی وابستگی کا خانہ موجود ہے، جس کے تحت صرف آزاد امیدوار ہی پارٹی نشان حاصل نہیں کر سکیں گے۔
حکومت پنجاب کی مؤقف
ایم پی اے شیخ امتیاز محمود نے عدالت میں مؤقف اختیار کیا کہ حکومت پنجاب صوبے میں بلدیاتی انتخابات کروانے جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب لوکل گورنمنٹ ایکٹ 2017 میں ترامیم کی گئی ہیں اور الیکشن کمیشن نے بلدیاتی انتخابات کے لیے شیڈول جاری کر رکھا ہے۔ موجودہ انتخابات غیر جماعتی بنیادوں پر ہو رہے ہیں، جبکہ حکومت کی حالیہ ترامیم جمہوریت کے اصولوں کو نقصان پہنچا سکتی ہیں۔ عدالت سے درخواست کی گئی کہ بلدیاتی انتخابات جماعتی بنیادوں پر کرائے جائیں۔
آئندہ سماعت اور جمہوری عمل
عدالت کی جانب سے عید کے بعد سماعت کی تاریخ مقرر کی گئی ہے، جبکہ الیکشن کمیشن کو اپنی تیاری مکمل کرنے کے لیے مہلت دی گئی ہے۔ اس فیصلے سے واضح ہوتا ہے کہ مقامی نمائندوں کی قانونی اور آئینی اختیارات کا تحفظ اہم ہے اور ہر فریق کو آئین کے مطابق اپنا کردار ادا کرنا ضروری ہے۔
جماعتی انتخابات کے فوائد
یہ معاملہ پنجاب میں جمہوری عمل اور بلدیاتی نظام کے فروغ کے لیے سنگ میل ثابت ہو سکتا ہے، کیونکہ جماعتی بنیادوں پر انتخابات کرانے کا فیصلہ نہ صرف سیاستدانوں بلکہ عوامی نمائندوں کے اختیارات کی حد بندی اور شفافیت کو بھی متاثر کرے گا۔