آیت اللہ خامنہ ای محفوظ – ایرانی وزیر خارجہ نے تصدیق کردی

"ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی امریکی نشریاتی ادارے کو انٹرویو دیتے ہوئے، جس میں انہوں نے رہبر معظم کی سلامتی کی تصدیق کی۔

یوتھ ویژن نیوز : (محمد عباس سے) ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کے مطابق رہبرِ اعلیٰ خیریت سے ہیں، بیشتر اعلیٰ حکام محفوظ ہیں۔ ایران کشیدگی کم کرنا چاہتا ہے مگر امریکا و اسرائیل سے کارروائیاں روکنے کا مطالبہ۔

تہران / اسلام آباد: امریکہ اور اسرائیل کے مشترکہ فضائی حملوں کے بعد ایران کی اعلیٰ قیادت کی زندگیوں کے بارے میں گردش کرنے والی پریشان کن افواہوں پر آخر کار ایرانی حکومت نے خاموشی توڑ دی ہے۔ امریکی نشریاتی ادارے این بی سی کو دیے گئے ایک خصوصی انٹرویو میں ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے انکشاف کیا ہے کہ سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای سمیت تمام اعلیٰ حکام بالکل محفوظ اور خیریت سے ہیں۔

عراقچی نے کہا، "میری معلومات کے مطابق رہبر معظم بالکل صحت مند ہیں اور کسی بھی خطرے سے دور ہیں۔” تاہم انہوں نے یہ اعتراف بھی کیا کہ حالیہ امریکی اور اسرائیلی حملوں میں ممکن ہے ایک یا دو فوجی کمانڈر ہلاک ہوئے ہوں۔ ان کا کہنا تھا کہ "تقریباً تمام اعلیٰ فوجی اور سیاسی حکام محفوظ ہیں اور اپنے فرائض انجام دے رہے ہیں۔”

دوسری جانب اسرائیلی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران میں ایسے مقامات کو نشانہ بنایا گیا جہاں اعلیٰ سیاسی اور سکیورٹی شخصیات موجود تھیں۔ تاہم ایرانی سرکاری میڈیا اور فوجی حکام نے ان رپورٹس کی تردید کی ہے جن میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ حملے میں کئی اعلیٰ رہنما مارے گئے۔ ایرانی فوج نے واضح کیا کہ آرمی چیف عامر حاتمی کی ہلاکت کی خبریں سراسر غلط ہیں اور وہ بدستور اپنے فرائض انجام دے رہے ہیں۔

ایرانی وزیر خارجہ نے مزید کہا کہ ایران کشیدگی میں کمی چاہتا ہے اور مذاکرات کے لیے تیار ہے، تاہم اس کے لیے ضروری ہے کہ امریکہ اور اسرائیل اپنی فوجی کارروائیاں فوری طور پر بند کریں۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر صدر ٹرمپ دوبارہ ایران سے بات چیت شروع کرنا چاہتے ہیں تو انہیں معلوم ہے کہ رابطہ کیسے کرنا ہے۔

ایرانی وزیر خارجہ کا واضح مؤقف

ادھر ایرانی صدر مسعود پزیشکیان کے قریبی ذرائع نے بتایا کہ وہ بھی محفوظ ہیں اور ان پر مبینہ قاتلانہ حملے کی کوشش ناکام بنا دی گئی۔ واضح رہے کہ امریکا اور اسرائیل کے مشترکہ فضائی حملوں میں ایران میں 75 سے زائد افراد جاں بحق ہو چکے ہیں۔ اسرائیل پر الزام ہے کہ اس نے لڑکیوں کے پرائمری اسکول کو نشانہ بنایا جس میں 50 سے زائد طالبات و عملہ ہلاک ہو گئے۔ ان حملوں کے جواب میں ایران نے خلیجی ممالک بشمول سعودی عرب، قطر اور بحرین میں امریکی مفادات کو نشانہ بنایا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں