امریکی طیارہ گرنے کے بعد اسرائیل نے ایران پر حملے روکنے کا اعلان کردیا
یوتھ ویژن نیوز : (ویب ڈسک) مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے دوران ایک اہم عسکری پیش رفت سامنے آئی ہے جہاں ایران میں امریکی جنگی طیارہ مار گرائے جانے کے بعد اسرائیل نے اپنے طے شدہ حملے مؤخر کرنے کا اعلان کیا ہے۔
بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق ایران کی فضائی حدود میں امریکی F-15E جنگی طیارہ تباہ ہوا، جس کے بعد سرچ اینڈ ریسکیو آپریشن فوری طور پر شروع کر دیا گیا۔ رپورٹس کے مطابق دو رکنی عملے میں سے ایک اہلکار کو بحفاظت بازیاب کرا لیا گیا ہے جبکہ دوسرے کی تلاش جاری ہے۔
اسرائیل نے حملے کیوں مؤخر کیے؟
امریکی اور اسرائیلی میڈیا ذرائع کے مطابق اسرائیلی قیادت نے ایران پر پہلے سے طے شدہ فضائی حملے اس لیے مؤخر کیے تاکہ جاری امریکی ریسکیو مشن متاثر نہ ہو۔ ایک اسرائیلی عہدیدار کے مطابق فیصلہ جمعہ کے روز اس وقت کیا گیا جب ایران میں گرائے گئے امریکی طیارے کے لاپتا اہلکار کی تلاش کے لیے خصوصی آپریشن جاری تھا۔ اسرائیل کا مؤقف ہے کہ کسی بھی نئی کارروائی سے امریکی فورسز کو اپنے اہلکار تک رسائی میں خطرات بڑھ سکتے تھے، اسی لیے وقتی طور پر حملے روکنا ضروری سمجھا گیا۔
امریکی طیارہ تباہی نے جنگ کو نیا موڑ دے دیا
دفاعی تجزیہ کاروں کے مطابق یہ واقعہ ایران اسرائیل اور امریکا کشیدگی میں ایک اہم موڑ ثابت ہو سکتا ہے، کیونکہ یہ حالیہ جنگ کے آغاز کے بعد پہلا بڑا واقعہ ہے جس میں ایک امریکی پائلٹ طیارہ ایرانی حدود میں دشمن کی کارروائی سے تباہ ہوا۔ اس پیش رفت نے امریکی فضائی برتری کے دعوؤں پر بھی سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ ذرائع کے مطابق امریکی اور اسرائیلی افواج اب ایران کے فضائی دفاعی نظام کا ازسرنو جائزہ لے رہی ہیں۔
خطے میں کشیدگی مزید بڑھنے کا خدشہ
ایرانی مقامی حکام کی جانب سے لاپتا امریکی پائلٹ کی گرفتاری میں مدد پر انعام کے اعلان نے صورتحال کو مزید حساس بنا دیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر ریسکیو آپریشن طویل ہوا یا مزید فضائی جھڑپیں ہوئیں تو خطے میں کشیدگی نئی سطح پر جا سکتی ہے، جس کے اثرات خلیجی سلامتی، تیل کی سپلائی اور عالمی منڈیوں پر بھی مرتب ہوں گے۔